Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

13جولائی یوم شہدائے کشمیر

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آج 13جولائی کو یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر مکمل ہڑتال کی جائے گی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت نے دی ہے جس کا مقصد تنازعہ کشمیر کے پر امن او رمنصفانہ حل کی ضرورت پر زور دینا ہے۔
ہڑتال کے ساتھ ساتھ سرینگر کے نقشبند صاحب میں واقع قبرستان کی طرف مارچ بھی کیا جائے گا جہاں13جولائی کے شہدامدفون ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ 13 جولائی 1931 کے شہداکے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے اپنی جدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھیں۔ انہوں نے آئمہ کرام اور خطباپر بھی زور دیاکہ وہ لوگوں کو بھارت کے مذموم منصوبوں سے آگاہ کریں اور اپنے عقیدے اور شناخت کو ہندو توا یلغار سے بچانے کی بھر پور کوشش کریں۔
ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں نے 13 جولائی1931 ء کو 22 کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ شہید ہونے والے یہ افراد ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پرسرینگر سینٹرل جیل کے باہر اکھٹے ہوئے تھے جس نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔ نماز ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے جب اذان دینا شرو ع کی تو مہاراجہ کے فوجیوںنے اسے گولی مارکر شہید کر دیا۔اس کے بعد ایک اور شخص اذان پوری کرنے کیلئے کھڑا ہوا تو اسے بھی شہید کردیا گیا۔ یوں اذان مکمل ہونے تک 22کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔یہ قتل عام ڈوگرہ حکومت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ڈوگرہ دور کو مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے کشمیر کی تاریخ کا بدترین دور سمجھا جاتا ہے۔
دوسری طرف حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے 13 جولائی 1931 ء کے شہداکو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
حریت تنظیموں جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی ، جموں و کشمیرنیشنل فرنٹ، جموں کشمیر مسلم لیگ اور تحریک حریت جموں وکشمیرنے سرینگر میں اپنے بیانات میں 13 جولائی کے شہداکو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداکی قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام شہداکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کل نقشبند صاحب سرینگر میں واقع شہدا قبرستان کی طرف مارچ کریں گے ۔حریت تنظیموں نے کہا کہ شہداکو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ناانصافی، جابرانہ تسلط، آمریت، جبری قبضے اور جارحیت کے خلاف اپنی جدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھیں۔انہوں نے آئمہ کرام اور خطباپر بھی زور دیاکہ وہ لوگوں کو بھارت کے مذموم منصوبوں سے آگاہ کریں اور اپنے عقیدے اور شناخت کو ہندو توا یلغار سے بچانے کی بھر پور کوشش کریں۔
حریت رہنمائوں محمد اقبال میر، جاوید احمد میر ، امتیاز احمد ریشی، فیاض حسین جعفری ، سید سبط شبیر قمی نے سرینگر میں اپنے بیانات میں 13جولائی 1931ء کے شہداکو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداکی عظیم قربانی بھارتی تسلط سے آزادی کی کشمیر یوں کی تحریک کے لیے مشعل راہ ہے۔حریت رہنمائوں نے کہا کہ ان عظیم شہدانے ظالم ڈوگرہ راج کیخلاف یکے بعد دیگر اپنی جانیں لٹا کر قربانی کی ایک بے مثال تاریخ رقم کی۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری نوجوان اپنے ان عظیم شہدا کے نقش قدم پر عمل پیرا ہو کر غیر قانونی بھارتی تسلط کے خلاف ایک بھر پور مزاحمت اور قربانیوں کی ایک لازوال تحریک رقم کر رہے ہیں۔
دریں اثناکل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے رہنمائوں مشتاق احمد بٹ، الطاف حسین وانی، شمیم شال، الطاف احمد بٹ، گلشن احمد شاہ، شیخ عبدالمجید، محمد سلطان بٹ، شیخ یعقوب، زاہد صفی، زاہد اشرف اور عزیر احمد غزالی نے بھی اپنے بیانات میں 13 جولائی 1931 ء کے شہداکو ان کی یوم شہادت کے موقع پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداکو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم غیر قانونی بھارتی تسلط کیخلاف اپنی جدوجہد مقصد کے حصول تک عزم وہمت سے جاری رکھیں۔
ادھرنریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم اپنے حق ، حق خود اردیت کے حصول کی جدوجہد میں مصروف کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کیلئے مقبوضہ علاقے میں مزید فورسز دستوں کی تعیناتی شروع کر دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے مقبوضہ جموںوکشمیر کے پہاڑی علاقوں میں مزید فوجی اور پیر املٹری دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں دونوں مذکورہ وزارتوں کی طرف سے کیے گئے فیصلے کے بارے میں فوج اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی اعلی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپوٹس میں کہا گیا کہ فورسز اہلکاروں کی تعیناتی فوری طور پر تشروع کر دی گئی ہے۔فورسز کے اضافی دستے راجوری، پونچھ، ڈوڈا، کشتواڑ، ادھم پور، کٹھوعہ اور ریاسی اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں باقاعدہ گشت کریں گے۔ بھارتی فوج کی 9 کور کے دستوں نے کٹھوعہ کی پہاڑیوں میں گشت کا کام تیز کر دیا ہے جبکہ 16 کور کی ڈیلٹا فورس کے مزید دستے ادھم پور اور ڈوڈہ کے جڑواں اضلاع میں تعینات کیے گئے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں پہلے ہی 10لاکھ سے زائد بھارتی فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں اور یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا فوجی تعیناتی والا خطہ سمجھاجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں