Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مودی حکومت کا کشمیریوں کو بے اختیار کرنے کا نیا حربہ

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںلیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینے کے مودی حکومت کے اقدام کا مقصد کشمیریوں کو مزید بے اختیار کرنا ہے۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے غیر منتخب لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینا جمہوری طور پر منتخب حکومت کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی واضح کوشش ہے۔ غیر منتخب گورنر کو بااختیار بنانا مودی حکومت کا اگست 2019ء کے بعد جب کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے علاقے پر فوجی محاصرہ مسلط کر دیاگیاتھا، منظم انداز میں کشمیریوں کو بے اختیار کرنے کا ایک اور اقدام ہے ۔
مودی لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات میں اضافہ کرکے مقبوضہ علاقے میں ہندوتوا راج نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر ایک بے اختیار اورکٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سے بہتر کا مستحق ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019ء کے بعد مودی حکومت نے کشمیریوں کو بے اختیار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور وہ مقبوضہ علاقے کو سیاسی، آئینی، ثقافتی اور اقتصادی طور پر بے اختیار کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہندوتوا کے ایجنڈے کو مسلط کرنے کے لیے ایک کے بعد ایک سازش کر رہا ہے اور کشمیری عوام کو مودی حکومت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہوشیار رہنا ہوگا۔ کشمیری عوام مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی سازشوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف سیاسی جماعتوں نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 میں ترمیم کرکے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینے کی شدید مذمت کی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمر عبداللہ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ بے اختیار، ربڑ سٹیمپ وزیر اعلی سے بہتر کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک اوراشارہ ہے کہ جموں وکشمیرمیں انتخابات قریب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کے لیے مکمل اورغیر منقسم ریاست کی بحالی کے لیے ٹائم لائن طے کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرکے لوگ ایک بے اختیار، ربڑ سٹیمپ وزیر اعلی سے بہتر کے مستحق ہیں جنہیں اپنے چپراسی کی تقرری کے لیے بھی گورنر سے بھیک مانگنی پڑے گی۔پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور ان کی میڈیا ایڈوائزر التجا مفتی نے کہا کہ اس حکم کا مقصد جموں و کشمیر میں ایک منتخب حکومت کے اختیارات کو ختم کرناہے۔انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں انتخابات کرانے جارہی ہے ، وزارت داخلہ کے اس نئے حکمنامے اورفرمان سے ایک غیر منتخب گورنرکے اختیارات میں توسیع کی گئی ہے جس کے پاس پہلے ہی بے پناہ اختیارات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکمنامے سے بہت سی چیزیں واضح ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حکمنامے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسمبلی انتخابات رواں سال ہی منعقد کیے جائیں گے اور یہ کہ بھارتی حکومت ا چھی طرح جانتی ہے کہ جب بھی جموں و کشمیر میں انتخابات ہوں گے تو ایک غیر بی جے پی حکومت آئے گی ۔ حکمنامے کا مقصد جموں و کشمیر کی اگلی ریاستی حکومت کے اختیارات کو صرف اس لیے ختم کرناہے کیونکہ بی جے پی کشمیریوں پر اپنی آہنی گرفت کھونا نہیں چاہتی۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں کانگریس کے صدر وقار رسول وانی نے اس اقدام کو جمہوریت کا قتل قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں جمہوریت اور ریاستی حیثیت کی بحالی سے پہلے ہی جمہوریت کا قتل کیا جارہا ہے۔ اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس اقدام کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس نئے فیصلے کا مقصد ریاست کو کھوکھلا کرنا ہے جس میں منتخب حکومت کے لیے کوئی اختیار نہیں چھوڑا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بے اختیار اسمبلی جموں و کشمیر کے عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔سی پی آئی(ایم)کے رہنما ایم وائی تاریگامی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیںمتحد ہو کر اس کی مخالفت کریں۔ انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ کی طرف سے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019میں حالیہ ترامیم باقی رہ جانے والے برائے نام حقوق پر ایک اور حملہ ہے جس سے ایک تاریخی ریاست کو ایک بڑی میونسپلٹی میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
دوسری طرف غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری شیخ مصطفی کمال نے 13جولائی 1931ء کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لوگوں کونقشبند صاحب سرینگر میں مزار شہدا کی طرف مارچ سے روکنے پر قابض حکام کی مذمت کی ہے۔
شیخ مصطفی کمال نے سرینگر میں ایک پارٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی پرعوام خاموش نہیں رہیں گے اور آئندہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سبق سکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 13جولائی کے شہدا اس بات کا ثبوت ہیںکہ عدم تشدد اور استقامت ہمیشہ ظلم اور استبداد پر فتح حاصل کرتی ہے۔اس موقع پر ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مزار شہدا نقشبند صاحب کی طرف جانے سے روکنے کی مذمت کی گئی۔ انہوںنے کہا کہ 13جولائی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک ایسا دن ہے جب وہ صبر،عدم تشدد اور امن کے ساتھ برائی سے لڑنے کا تجدیدعہدکرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں