Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

مادۂ تولید کی خرید و فروخت کا مسئلہ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں مرد اور عورت کے تعلقات،خاندان میں میاں بیوی اور اولاد کے نظم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ نکاح کی مختلف صورتیں ہوتی تھیں جسے نکاح سمجھا جاتا تھا۔
ایک تو نکاح کی یہی صورت ہے جو اب بھی موجود ہے کہ مرد اور عورت آپس میں زندگی اکٹھی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں، گواہوں کے سامنے اقرار کرتے ہیں، ایجاب و قبول ہوتا ہے، زندگی بھر کے ساتھی بن جاتے ہیں، یہ اب بھی ہے۔
ایک یہ تھا کہ وقت مقررہ کے لیے نکاح ہوتا تھا، دو مہینے کے لیے، تین مہینے کے لیے، سال کے لیے۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ صرف گھنٹوں میں ہو یا مہینوں میں ہو، سالوں کے لیے بھی ہو، وقت مقرر کر کے کہ اتنے عرصے کے لیے ہم میاں بیوی ہیں، اس کو نکاح متعہ کہتے تھے۔ خیبر کی جنگ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناجائز قرار دے دیا تھا کہ شادی زندگی بھر کے لیے ہے، وقتِ مقررہ کے لیے نہیں ہے۔
ایک نکاح کی اور صورت بیان کر دی جو جاہلیت کے زمانے میں جائز سمجھا جاتا تھا اور نتیجہ بھی تسلیم کیا جاتا تھا جسے “الاستبضاع” کہتے ہیں۔ استبضاع کہتے ہیں بضعہ طلب کرنا، یہ ایسے ہی ہےجیسے ہمارے ہاں ڈیریوں پرگائیں بھیجی جاتی ہیں، اچھا بیج حاصل کرنے کے لیے ان کی یہی کیفیت تھی۔ ام المومنین فرماتی ہیں کہ مرد اورعورت، میاں بیوی باہمی رضامندی سے کسی بھی شخص سے تعلقات کا فیصلہ کر لیتے تھے۔ مقصد اچھا بیج حاصل کرنا ہوتا تھا۔ میاں بیوی کی انڈرسٹینڈنگ ہوتی تھی کہ کوئی آدمی پہلوان ہے، کوئی اچھے قبیلے کا آدمی ہے، اس کا بیج حاصل کرنا ہے، میاں بیوی کےباہمی اتفاق سے عورت جاتی تھی، جب تک حمل نہیں ٹھہرتا تھا اس وقت تک اس کے پاس رہتی تھی۔ پھرجب آجاتی تھی تو جب تک بچہ پیدا نہیں ہوتا تھا خاوند بیوی کے قریب نہیں جاتا تھا، یہ اس کے ’’ایس او پیز‘‘ تھے۔ یہ زنا ہے اس کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا۔
ایک صورت یہ بیان فرماتی ہیں جس کو آج کل گینگ ریپ کہتے ہیں کہ سات، آٹھ، نو، دس تک کا گروپ ہوتا تھا، ایک عورت کے ساتھ تعلقات قائم ہوتے تھے، ایک دوسرے کو بھی پتہ ہوتا تھا۔ اگر اس کا حمل ٹھہر گیا ہے تو بچہ پیدا ہونے پر عورت ان میں سے کسی کو بلاتی تھی کہ تیرا بچہ ہے، اس کو ماننا پڑتا تھا انکار نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باہمی رضامندی کا ’’گینگ ریپ‘‘ سمجھ لیں۔ اسی طرح کوئی عورت اپنے گھر کے دروازے پہ مخصوص جھنڈا لہرا دیتی تھی، یہ علامت تھی کہ جو چاہے آئےجیسے ہمارے ہاں طوائف کے کوٹھے ہوتے تھے کسی زمانے میں۔ اس معاملے میں اول تو بچہ نہیں ہوتا تھا، لیکن اگر ہو جاتا تو پھر قیافہ شناس فیصلہ کرتے تھے۔ عورت بلاتی تھی کہ فلاں فلاں کو بلاؤ، قیافہ شناس بیٹھتے تھے کہ بچے کا ناک کس پر ہے؟ منہ کس پر ہے؟ رنگ کس پر ہے؟ پاؤں کیسے ہیں؟ ہاتھ کیسے ہیں؟ اس پر فیصلہ ہوتا تھا۔ بخاری شریف کی روایت ہے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے جتنے نکاح جائز سمجھے جاتے تھے، حضور نے سب کو حرام قرار دیا، ان میں یہ ’’نکاح استبضاع‘‘ بھی ہے کہ کسی خاندان کا یا کسی شخص کا بیج حاصل کرنے کے لیے میاں بیوی کی انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ بیوی چلی جاتی تھی، حمل ٹھہرتا تھا تو واپس آجاتی تھی۔ یہ استبضاع مذہبی طور پر ہندوؤں میں بھی تھا، اس کو نیوگ کہتے ہیں۔ وہ یہ تھا کہ شادی ہونے کے بعد بچہ نہیں ہوا تو پھر میاں بیوی بچے کی خواہش میں آپس میں فیصلہ کرتے تھے، یہ عام طور پہ کمزوری مرد کی ہی سمجھی جاتی ہے۔ بچہ پیدا نہ ہو تو عام طور پہ کمزوری مرد کے کھاتے میں پڑتی ہے۔ تو وہ کسی شخص سے رابطہ کرتے تھے اور میاں بیوی دونوں کی انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ بیوی اس کے پاس جاتی تھی اور بچہ حاصل کرتی تھی۔ نیوگ کے نام سے ہندوؤں میں بھی یہ رسم تھی اور مذہبی طور پہ اب بھی ان کے مذہبی قانون کا حصہ ہے۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری صورتیں حرام قرار دے دیں سوائے زندگی بھر کے نکاح کے۔ قرآن پاک نے مختلف صورتیں بیان کر کے فرمایا الا علیٰ ازواجھم او ما ملكت ايمانھم فانھم غير ملومين۔ باقاعدہ زندگی بھر کی بیوی، یا اس زمانے میں لونڈی ہوتی تھی۔ اب لونڈیاں دنیا میں کہیں بھی نہیں ہیں۔ ان کے سوا تمام صورتیں حرام ہیں۔ قرآن پاک نے واضح طور پہ بیان کیا “فمن ابتغیٰ وراء ذلك فاولئك ھم العادون” کہ اس کے سوا ہر صورت حرام ہے۔
یہ اس لیے عرض کیا ہے کہ ابھی چند دن ہوئے دوستوں نے توجہ دلائی ہے کہ پاکستان میں بھی سپرم بینک (sperm bank) قائم ہو گیا ہے یعنی مردکے مادۂ تولید کابینک۔ جہاں جس کو گفٹ کرناہوکرے، جس کو ضرورت ہو لے جائے۔ جس نے بیچنا ہو بیچ دے، جس نے خریدنا ہو خرید لے۔ باقاعدہ این جی اوز ہیں جو ان کو چلا رہی ہیں۔ جس نے اپنا نطفہ بیچنا ہے بیچ دے اور پیسے کمائے، اور جس کو نطفہ کی ضرورت ہو وہ آکر لے جائے، کوئی پتہ نہیں کس کا نطفہ کس کے ساتھ ہو۔ ایک وجہ اس کی یہ بیان کرتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی اولاد پیدا نہیں ہوتی، ان کو ضرورت ہوتی ہے تو یہ بینک ان کو نطفہ فراہم کر دیتے ہیں جن کی اولاد نہیں ہوتی ان کو اولاد مل جائے گی۔
یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ بے اولاد لوگ جو بیمار ہوتے ہیں اس سسٹم کے ذریعے نطفہ بھی خریدا جا سکتا ہے اور ماں کا رحم بھی کرائے پر لیاجا سکتا ہے۔ کسی عورت کا رحم خراب ہے تو خاوند کا نقطہ کسی دوسری عورت کے رحم میں امانتاً‌ رکھوا کے نو مہینے کے لیے کرائے پہ لے لینا، یہ بھی اس سسٹم کاحصہ ہے۔ یعنی نطفہ بیچا اورخریدا جاتا ہے،اوراسی طرح عورت کا رحم کرائے پر دیا اور لیا جاتا ہے۔
ایک ضرورت یہ بیان کی جاتی ہے کہ مرد کی مرد سے شادی بھی دنیا میں قانوناً جائز سمجھی جاتی ہے، اورعورت کی عورت سے بھی جائز تصور ہوتی ہے۔ اب دو مردوں نے شادی کر لی ہے بچہ تو چاہیے۔ یہ پتہ نہیں کہ میاں کون ہے اور بیوی کون ہے، لیکن بچہ تو چاہیے، آپس میں تو پیدا نہیں کرسکتے، اس کے لیے کسی عورت کا رحم کرائے پر لے کر پیدا کریں گے اور جب دو عورتوں نے شادی کر لی ہے کہ یہ اب میاں بیوی ہیں اور اس کو دنیا میں جائز سمجھاجاتا ہے، اب ان کو بچے کی ضرورت ہے تو وہ کسی کا نطفہ خریدیں گے، یہ ہے سپرم بینک کا سسٹم۔
قرآن پاک نےحلال حرام، جائز ناجائز کے جتنے فرق بتائے ہیں سب ختم ہوگئے ہیں۔ ایک مختصر جملے میں عرض کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں حلال حرام کا تصور بھی ختم ہوتا جا رہا ہے اور حلالی حرامی کا تصور بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ حلال کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ ہم بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ حلالی کون ہے اور حرامی کون ہے؟ ہم اس سے بھی بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
رضا مندی کا زنا تو ویسے بھی ان کے ہاں جرم نہیں ہے۔ زنا کے بارے میں مغرب کا تصور یہ ہے مرد اور عورت راضی ہوں تو کسی کیا اعتراض ہے؟ تو تیسرے بندے کو اعتراض کیا ہے، وہ بھلے سے میاں بیوی ہیں یا نہیں ہیں، یہ ماحول اب یہاں ہمارے ہاں بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمیں اس سے آگاہ رہنا چاہیے۔ میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی سے اس سلسلہ میں رابطہ کیا کہ قوم کی رہنمائی کریں اور بتائیں، حلال حرام کا تو بتاتے ہیں، حلالی حرامی کا بھی بتائیں تاکہ لوگوں کو پتہ ہو۔ دین کی ہر بات کو مٹا دینا، دین کی ہر بات کو پامال کرتے چلے جانا، یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے، ایمان کے خلاف ہے، آپ کو اس سے اس لیے آگاہ کر رہا ہوں کہ کم از کم آواز تو اٹھائیں، بات تو کریں، اپنے دین کی بنیادیں قائم رکھنے کے لیے جو بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے، آمین۔ و آخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں