Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

ملک کو گڑھے میں کون ڈال رہا ہے؟

سقراط کو زہر کا پیالہ کیوں دیا گیا.؟ آخر ایتھنز کے اہل اقتدار کو اس سے تکلیف ہی کیا تھی؟ سقراط کوئی لیڈر نہ تھا جنگجو نہ تھا اس کا سیاسی اثر و رسوخ اتنا نہ تھا کہ وہ اہل اقتدار کے لئے خطرہ بن سکے۔ سقراط کے زہر کا پیالہ صدیوں پرانی تاریخ ہے، کچھ سوال البتہ آج بھی حیران کر دیتے ہیں۔مثلاً شمالی کوریا کی جیل میں تین نسلیں قید ہوتی ہیں۔ستر سال کا دادا اور ایک سال کا پوتا ایک ہی جیل میں بمعہ سارا ٹبر ہوں گے۔اس دادے پوتے یا دادی پوتی کا کوئی جرم بھی نہیں ہوگا،پھر یہ جیل میں کیوں ہوتے ہیں؟
سقراط کا جرم ایک ہی تھا،اس نے اپنے طلبا ء کو سوال کرنا سکھا دیا تھا۔سوال کو اس دور میں بھی اور آج بھی اہل اقتدار سوال نہیں سمجھتے، بلکہ اپنی اہلیت پر شک سمجھتے ہیں،ایتھنز کے استاذ بھی سقراط کے خلاف تھے کیونکہ وہ پہلے جو کچھ پڑھاتے طلباء اسے قبول کرتے لیکن اب طلباء نے سوال کرنا شروع کر دیا۔ اہل اقتدار پر سوال ہوا ،طبقہ امرا پر سوال ہوا۔تم اگر آسائش میں ہو تو خلقت آخر کیوں پریشان ہے؟ان سوالات کے جواب نہ تھے،اس لئے سقراط کو زہر کا پیالہ دیا گیا۔
شمالی کوریا میں ایک شخص بادشاہ پر سوال اٹھا دے تو اسے ہی نہیں اس کے بیوی بچوں والدین سب کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے،اہل اقتدار کل بھی سوالات سے پریشان ہوتے تھے آج بھی پریشان ہوتے ہیں،بس کچھ معاشرے اب ترقی کر گئے ہیں وہ کہتے ہیں اچھا اسے اقتدار دے دو، جو تمہارے جواب دے سکے اور کچھ معاشرے شمالی کوریا کی طرح ہوتے ہیں وہ نسلوں کو قید کر کے سمجھتے ہیں شائد اب ان پر سوال اٹھنا بند ہو جائیں گے.سوال لیکن اٹھتے رہیں گے۔ کیونکہ اہل اقتدار سوال کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور شک کسی کو بھی نفسیاتی مریض بنا سکتا ہے۔مثلا ًشمالی کوریا میں بادشاہ یا بادشاہ کے ابا کو دعا میں اپنے والدین سے پیچھے یاد کرنا بھی جرم ہے۔
یہاں تک پڑھتے پڑھتے میں رک گیا۔مجھے میاں نواز شریف شریف یاد آگئے ۔جو رقت آمیز لہجے میں فرما رہے تھے ’’اس ملک کو گڑھے میں ڈال دیاگیا ہے ،ترقی رک گئی ہے ،بجلی کے بلوں نے سب کو مار دیا ہے ،عدلیہ غلط فیصلے دے رہی ہے ،9 مئی کے مجرموں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ملک کو لوٹنے والوں کے لئے اقتدار کے راستے صاف کئے جارہے ہیں ۔میں پھر یہاں پر رک جاتا ہوں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں ۔میرے چھہتر سالہ ملک پر کس نے زیادہ دیر حکومت کی ہے ؟ کس نے اداروں کو زیادہ بے توقیر کر نے کی کوشش کی؟ کس نے عدلیہ کو بے وقار کیا ،ملک کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ کر کے اپنے حق میں فیصلہ نہ دینے کی صورت میں ججز پر حملہ کیا ؟ کس نے موٹر وے کی آڑ میں اربوں کا کمیشن حاصل کیا ؟ توانائی کے سودے کس نے پہلے بھی کئے اور اب بھی کررہا ہے ،کس نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا ؟ کون آئی پی پیز کا بڑا حصے دار ہے ؟ اور کون بار بار یہ کہتا ہے’’مجھے اقتدار سے کیوں نکالا؟ اور اب مجھے چوتھی بار وزیراعظم کیوں نہیں بنایا ؟ ‘‘
کاش نواز شریف شمالی کوریا کے باشندے ہوتے ،انہیں سوال اٹھانے پر خاندان سمیت سزا وار ٹھہرایا جا تا،وہ خاندان جس کے نوجوان جہاں جہاں بھی ہیں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ان کا عشرت کدہ رائے ونڈ میں ہو کہ اسلام آباد میں اس کی بجلی گیس اور فون مفت ،وہ اقتدار کے جل سے باہر رہنے کے تصور سے بھی خوف زدہ ہیں ۔ملک کے سب سے بڑے صوبے کی راج دہانی کی رانی ان کی دختر نیک اختر ، وزارت عظمیٰ ان کے گھر کی لونڈی، نائب وزیر اعظم ان کے سمدھی ۔سارے وسائل ان کی دسترس میں ۔وہ اور کیا مانگتے ہیں ؟ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند،یا بادشاہت کہ جس میں کوئی سوال کرے تو اس کے پورے خاندان کو، بچوں اور بوڑھوں کو ،عورتوں اور شیر خواروں تک کو جیل کی کوٹھڑیوں میں ڈال دیا جائے۔ہاں مگر ہمیں یہی بتا دیں کہ آپ کی جماعت کی حکومت مہنگی بجلی سے مرتے عوام کی بجائے آئی پی پیز پر اتنے واری قربان کیوں ہے۔ کہ گزشتہ سال جب مسلم لیگ ن ہی کی حکومت تھی،آئی پی پیز سے 1198ارب روپے کی بجلی کی خریداری کی گئی،مگر 3127ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ۔
ایک سال میں آئی پی پیز کو بجلی خریدے بغیر1029 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹ کی گئی۔آئی پی پیز کو کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی۔62 فیصد کیپسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا،85 فیصد آئی پی پیز کی ۔پیداوار 50 فیصد کم ،مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں۔زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔جن میں حبکو،کیپکواور ایچ سی پی شامل ہیں۔چار فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔آٹھ فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔کیپسٹی سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹ کی گئی۔
اب آپ ہی بتائیں ملک کو گڑھے میں کو ن ڈال رہا ہے ۔آپ کی جماعت کی حکومت یا کوئی اور۔۔۔؟

یہ بھی پڑھیں