ڈی جی آئی ایس پی آر نے پیر کے دن اپنی پریس کانفرنس میں فرمایا تھا کہ ’’تقریبا ً پچاس فیصد مدارس کے بارے میں کسی کو پتہ ہی نہیں کہ کون چلا رہا ہے‘‘ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس میں کئے جانے والے اس دعوے نے میرے سمیت ہر محب وطن پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر ڈالا، ہم جیسے طالب علم تو یہ سمجھتے رہے کہ سوفیصد دینی مدارس قومی دھارے میں شامل ہیں،اکابرین دینی مدارس اور پاک فوج کے بڑوں کے درمیان گاہے بگاہے جی ایچ کیو میں ہونے والی میٹنگوں کے بھی بڑے چرچے ہوا کرتے تھے،سوال یہ ہے کہ اگر اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین جی ایچ میں ہونے والی میٹنگز کے با وجود متعلقہ حکام کو اپنا پورا تعارف بھی نہیں کروا سکے تو پھردینی مدارس کے طلبا کاکیا حال ہو گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا فوجی حکام کے ساتھ ہو نے والی میٹنگز میں صرف پچاس فیصد دینی مدارس کے قائدین اور وارثین شامل ہوا کرتے تھے ؟ مجھ ناچیز سے اگر کوئی دینی مدارس کے حوالے سے سوال کرے,تو بندہ ناچیز تو دینی مدارس کو اسلام کے قلعے سمجھتا چلا آیا ہے، میرے نزدیک پاکستان کے لئے دینی مدارس نعمت خداوندی سے کم نہیں،کسی کو اچھا لگے یا برا، لیکن میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ لکھتا رہوں گا۔
دینی مدارس نے بے پناہ مالی مجبوریوں، کفریہ طاقتوں اور منافقوں کے دبائو کے باوجود وطن عزیز پاکستان کی جو خدمت کی ہے۔پاکستانی قوم کے بچوں اور بچیوں کی جس طرح سے تعلیم و تربیت کی ہے وہ انگلش نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے بدرجہا بہتر ہے، لیکن پھر 22جولائی 2024 ء پیر کے دن قوم پہ یہ راز منکشف ہوا کہ ہمارے اداروں کو پچاس فیصد دینی مدارس کا پتہ ہی نہیں کہ انہیں کون چلا رہا ہے؟ یہ خاکسار اس حوالے سے مولانا قاری حنیف جالندھری سے ٹیلی فونک بات کرنے کی ٹھان چکا تھا،اس بات چیت کا آغاز اس سوال سے ہونا تھا،کہ آخر آپ اتنے عرصے تک پچاس فیصد دینی مدارس کے مہتمیمین کو چھپانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ مگر افسوس کہ رہیں دل کی دل میں حسرتیں،اور مولانا حنیف جالندھری نے ٹیلی فونک سوال جواب سے پہلے ہی اتحاد تنظیمات مدارس کے اکابرین کا مشترکہ موقف اس خاکسار کو بھیج دیا، جس کے مطابق، ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے قائدین نے مشترکہ موقف میں کہا ہے:
ہمیں ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان سن کر حیرت ہوئی،پچاس فیصد مدارس کا پتا ہی نہیں کون چلا رہا ہے، ان کی خدمت میں نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے، مدارس نہ کوئی خلائی مخلوق ہیں، نہ فضا میں معلق ہیں،شہروں اور آبادیوں میں قائم ہیں، ہر ایک کو ان کے سربراہان کا علم ہے اور وہ ادارہ جو زیرِ زمین حقائق کابھی پتا چلا لیتا ہے، ان سے یہ بیان سن کر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا۔
دینی مدارس وجامعات نے کبھی رجسٹریشن سے انکار نہیں کیا بلکہ جس قانون کے تحت مدارس رجسٹرڈ ہوتے رہے اس قانون کے تحت رجسٹریشن حکومت کی طرف سے روک دی گئی، پی ڈی ایم کی گزشتہ حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کا فارمولا طے ہوگیا تھا، مسودہ قانون بھی منظور ہوگیا تھااور وزیرِ اعظم نے پختہ وعدہ کیا تھا کہ اسے پارلیمنٹ سے منظورکراکے اس پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا، لیکن ایک دن میں درجنوں گمنام یونیورسٹیوں کے چارٹرمنظور ہوگئے، مگر اس قانون کی پارلیمنٹ میں ایک خواندگی ہوجانے کے باوجود اسے کس کے اشارے پر روکا گیا، یہ بیان حضرت مولانا فضل الرحمن قومی اسمبلی میں بھی دے چکے ہیں۔
یہ قانون اس کے باوجود روکا گیا کہ حساس اداروں کے ساتھ بھی اس کے مسودے پر اتفاقِ رائے ہوگیا تھااور ان کی رائے بھی اس میں شامل کرلی گئی تھی، اس کے لیے مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا محمد حنیف جالندھری ایک ہفتہ اسلام آباد میں مقیم رہے اور تمام ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئیں اور اتفاقِ رائے ہوا، مگر پھر کوئی ایسی غیبی صورتِ حال نمودار ہوئی کہ طے شدہ امور سے بھی حکومت پیچھے ہٹ گئی۔بہتر ہوگا،اس وقت کے اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف خود اس ساری صورتِ حال کی وضاحت فرمائیں اور حقیقت حال بیان کریں۔ہم اب بھی طے شدہ امور پر قائم ہیں،اگر ریاست کی بعض ذمے دار شخصیات مزید بات چیت کرنا چاہتی ہیں تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ملک جب سے سیاسی انتشار کا شکار ہوا ہے، دینی مدارس وجامعات نے حکومت کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا، نہ دینی قوتوں نے اس انتشار کو ہوا دی ہے اور نہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، ہم نے ملک وملت کے مفاد میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کے اقدامات کی ہمیشہ حمایت کی ہے،ہم نے حساس اداروں کی خواہش پر پیغامِ پاکستان کے لیے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس کی دستاویز آج بھی موجود ہے۔ اگر دینی مدارس وجامعات کے بارے میں اتنی بے خبری ہے تو پھر باقی امور کو ہم اس پر قیاس کرسکتے ہیں، کیا ہماری ریاست کے ذمے داران مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری،سینیٹر پروفیسر ساجدمیر، مولانا یاسین ظفر، مولانا عبدالمالک اور علامہ ریاض حسین نجفی کو نہیں جانتے، یہی لوگ مدارس چلانے والے ہیں اور مدارس کی تنظیمات کے بھی ذمے داران ہیں۔ ہمارا دکھ اس شعر میں بیان ہوا ہے۔
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا