Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مسلم لیگ ن میں پکتا لاوہ کب پھٹتا ہے؟

بات چھوٹی سی تھی مگر ایسی بڑھی کہ پتنگڑ سے بھی بڑھ گئی ۔روگ ایک تھا مگر پھیلائو اتنا کہ کسی سے سمٹ ہی نہیں پارہا ۔طول و عرض infinity کاروپ دھار گئے ہیں ،ناپے کون کہ اس کے لیے تو پیمانے ہی نہیں ہیں ۔ الامان الحفیظ اچھے بھلے ملک کو جنگل اور دنگل بنادیا گیا ہے ۔اجالے اندھیروں میں تبدیل کئے جا رہے ہیں اور اندھیروں میں بے عملی اور بد عنوانیوں کی فصل کاشت کی جارہی ہے اور یہ مٹی اتنی زرخیز ہے کہ لوہے کا کوئی بیج ہو تو وہ بھی اگ آئے اور آل شریف چاروں اور لوہے کی دیوار چن کر اندر جو چاہیں اپنی منشا اور مرضی کے مطابق ڈھالیں ۔کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور اگر بولنے پر مصر ہو تو اس کے منہ میں اپنی زبان ڈال دیں۔ ۔المیہ ہوگیا ،یہ المیہ ملک دولخت کرنے سے بڑا نہیں ہے ہم تو اس کے مجرموں کو آج تک تلاش نہیں کر سکے ۔ ایک اعلی دماغ بڑی سوچ رکھنے والی سیاسی مدبر عورت کےلہو کی ہولی کھیلی گئی، اس کے مجرموں کی شناخت نہیں ہو سکی ۔اس پارٹی کو اقتدار ملا ،اس کے سرتاج کے سر پر ملک کے سب سے بڑے عہدے کا تاج سجا جو اب بھی سجا ہے ،اس کا بیٹا ملک کا وزیر خارجہ بنا ،اب بھی بڑے بڑے حکومتی عہدے اس کے پائوں کی خاک ہیں مگر قاتل ابھی بھی نامعلوم ۔ تاریخ کے کچھ ابواب جو تشنہ تکمیل ہیں ۔انہیں کون لکھے گا ۔ سچ کہنے اور لکھنے کا تو یارہ نہیں ۔تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے کیا رہنے دیا گیا ہے ہمارے پاس؟اپنے آباء واجداد کے قصے کہانیاں یا اپنے نیم سیاستدان قسم کے دروغ گوجنگجو جنہیں للکارنے اور پچھاڑنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔جو کبھی عدالتوں پر چڑھ دوڑتے ہیں کبھی آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہیں انہیں وزیر مشیر بنانے کے لئے یاوہ گوئی کی مہارت اولین شرط ہے ،ساتھ ہی ان کے کسی بڑے بزرگ کی محنت کہ جو بریف کیس اٹھائے صوبہ صوبہ پھرتے رہے ہوں ۔Qualification کے لئے اتنا ہی کافی اور کوئی آل شریف کے بڑوں کاخدمتگار رہا ہو ورنہ تلخ نوائی میں تو خواجہ بھی ید طولا رکھتے ہیں مگر خاندانی آدمی ہیں اصول پسند باپ کے بیٹے ہیں اس لئے سیاست اصولوں کی کرتے ہیں سچ بولتے ہوئے یہ نہیں دیکھتے ان کی جماعت کا کوئی بڑا ہے یا ن لیگی وزیر اعظم۔لیکن حالات کیسے بدلیں گے آئین اور قانون ،عدلیہ اور مقننہ کی توقیر کب بحال ہوگی ؟ کون ملک کو خوشحالی کی پٹڑی پر چڑھائے گا ؟ مفلوک الحال عوام کی دکھ بھری کتھا پر کون کان دھرے گا ؟ حکمرانوں کی سماعتیں ایسے ہی دفن رہیں کی تو دیوار گریہ کس پر گرے گی ؟ یہ کیسے حاکم ہیں کہ ہر بڑے عہدے کے لئے ان کی نگاہ التفات اپنے ہی خاندان کے افراد پر پڑتی ہے ۔حمزہ شہباز جو پنجاب کے وزیر اعلی کے خواب سے بیدار ہی نہیں ہو رہے تھے آخر وفاقی وزیر کے برابر عہدہ دیکر اسے مطمئن کردیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کا آفس وزیر اعظم ہاؤس میں ہوگا اور پنجاب پر بھی اس کی دسترس ہوگی ۔یہ حاکم تماشہ گر ہیں تو ہم تماش بین جو ان کی گاڑیوں کے آگے ناج ناچ کر اپنا غم مٹاتے ہیں ،ہمارے کتھارسس کا بس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے یا پھر جو ذرا حساس ہیں وہ بجلی کے بل پڑھتے وقت گزارتے ہیں جن میں پرنٹ ٹیکسز کی بھر سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر یہ “مزید ٹیکس” سے کیا مراد ہے ؟ اس پر میٹر کرایہ جو کنزیومر کا اپنا خریدا ہوا ہوتا ہے اور کبھی کنیکشن کے کٹنے کی افتاد آن پڑے تو محکمہ میٹر بھی اتار کر لے جاتا ہے اور طرفہ تماشہ یہ بھی کہ subsidies بھی کل واجبات میں ڈال کر دینے کی بجائے وصول کی جاتی ہیں ۔یہ سب روگ ہیں قوم کے زخم ہیں جن پر پھاہے رکھنے والا کوئی نہیں ۔بات اتنی سی تھی جو پھیلتی چلی گئی ایسے ہی جیسے عام آدمی کے مسائل جن پر کسی کی توجہ جاہی نہیں رہی ۔یہ محروم و مغضوب لوگ جن کا احساس کسی کو نہیں ہے ۔گزشتہ دنوں تحصیل آفس جانا ہوا تو سب جیل میں ایک ادھ موآ سا دیہاتی پھٹے پرانے پرانے کپڑے آنکھیں رو رو کر سوجھی ہوئی تھیں پوچھنے پر بتایا “چھ سو روپے لگان کے ادا نہ کر سکا ،اٹھا کے لے آئے ایک ہفتے سے جیل میں پڑا ہوں ،باہر جائوں تو کسی سے مانگ تانگ کر ادائیگی کا انتظام کروں ” اسے چھ سو دے دیئے رہائی نصیب ہوئی یا نہیں ۔یہاں کروڑوں اور اربوں کے مقروض ایوانوں میں دندناتے پھرتے ہیں ،کوئی پوچھنے والا نہیں، پوچھا تو تبادلوں کی لائن لگ جائے گی ۔یہ حالات ہیں ۔ مایوسی کے سائے لمبے ہوتے جارہے ہیں محرومیاں فروتر ہوتی جارہی ہیں اور حکمرانوں کو اپنے گھر کی لگی ہے کہ کوئی اقتدار سے تہی کیوں ہے ۔آل شریف میں رسہ کشی کا عمل ایک عرصے سے شروع ہے ابھی تک گڑ گٹھلیوں میں کوٹا جارہا ہے ۔یہ لاوہ بھی جلد پھوٹے گا کہ میاں نواز شریف اپنی لاڈلی بیٹی کو جلد وزارت عظمی لے منصب پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور وزیر اعظم سے اپنا بیٹا وزارت اعلی سے کم عہدے پر دیکھا نہیں جاتا کش مکش جاری ہے ۔جو ہونا ہے اسی سال میں ہوجانا ہے فی الحال تو سپریم کورٹ نے 39 نشستیں پی ٹی آئی کو دان کی ہیں بی بی مریم کا غصہ پہلے ہی قابو میں نہیں آرہا ،غم و غصہ کے عالم میں کیا کر پاتی ہیں ،کب تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں۔واللہ اعلم باالصواب۔

یہ بھی پڑھیں