Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

عالمی برادری کی مقبوضہ کشمیر میں سنگین خلاف ورزیوںپر تشویش

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ عالمی برادری نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرسخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کی گرفتاریوں اور موبائل انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہاکہ جنیوا میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے حال ہی میں بھارت کے بارے میں اپنی رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیاگیا ہے کہ ان سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے ۔انہوں نے عالمی برادری پرزوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کافوری نوٹس لے اور نہتے کشمیریوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے نجات دلائے ۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال کا نوٹس لے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت حق خوداردیت کے مطالبے پر کشمیریوں کے خلاف کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے میں محاصروں اور تلاشی کی پر تشدد کارروائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں اور جو کوئی بھارتی جبر کیخلاف آواز آٹھانے کی کوشش کر تا ہے اسے کالے قوانین کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
انہوںنے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری سرکاری ملامین کو نوکریوں سے برطرف اور معطل کر رہی ہے جسکا واحد مقصد انکی جگہ بھارتی ہندو ملازمین کو رکھ کر ہندو توا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوںنے جیلوں میں برسہابرس سے غیر قانونی طور پر نظر بند کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماں اور کارکنوں کے عزم وہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نظربندوں کی عظیم قربانی ہرگز فراموش نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں مستقل امن و ترقی کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ، مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ایک بہترین حل موجود ہے لہذا عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اس تنازعے کو عالمی ادارے کی ان قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کریں۔
کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مودی حکومت کی طرف سے ڈھائے جانیوالے مظالم کی شدید مذمت کی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق مشعال حسین ملک نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز میں ایک گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے1989سے مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خطرناک اضافے پر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہاکہ اس دوران قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیرمیں 96ہزار320بے گناہ کشمیریوں کو شہیداور 11ہزار264خواتین کی آبروریزی کی ہے ۔مشعال ملک نے کہاکہ بھارتی قابض فورسزکشمیریوں کے قتل عام، ظلم و تشدد، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور آزادی اظہار رائے پر قدغن سمیت گھنائونے جرائم میں براہ راست طورپر ملوث ہیں ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نولاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں لاکھوں کشمیریوں کو غیر انسانی محاصرہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے کشمیریوں پر ظلم و تشدد ،دوران تفتیش انہیں بجلی کاکرنٹ لگانے اور وحشیانہ جسمانی وذہنی تشددکی بھی مذمت کی جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری دوران حراست شہید ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کا فوجی محاصرہ فوری ختم کرے اور 5 اگست 2019 ء کے اپنے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو واپس لے۔کانفرنس کے دیگر شرکا بشمول الطاف وانی، شمیم شال، سید فیض نقشبندی، بیرسٹر ندا سلام، ڈاکٹر وسیم، اور ڈاکٹر وقاص علی کوثرنے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں فوری بند کرانے کا مطالبہ کیا ۔
ادھر تحریک کشمیر برطانیہ کے زیراہتمام برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ کشمیر کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان ، بھارت اور کشمیریوں کے نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا۔ کانفرنس میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور طلبہ یونین کے نمائندوں اور کشمیری رہنماں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کی۔مقررین نے 5 اگست 2019 کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ 1995 میں سالانہ کانفرنس میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرے۔
کانفرنس کے مقررین نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت بھارت، پاکستان اور کشمیری نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کرے ۔کانفرنس میں کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے کی غرض سے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی رائے شماری کیلئے کوششوں کو یقینی بنائے ۔برطانوی ارکان پارلیمنٹ بشمول اینڈریو گوائن، ڈیو ابراہیم، عمران حسین، ایان برن، سارہ اوون، رچرڈ ہاپکنز، پالا ہیملٹن، اقبال محمد، کلائیو بٹلر اور افضل خان نے کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے حل طلب تنازعہ کشمیر کی وجہ سے خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرے کے بارے میں بھی خبردار کیا ۔کانفرنس کا اختتام راجہ فہیم کیانی نے ایک قراردادپیش کی جس میں کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی، میڈیا پرعائد پابندیاں اٹھانے، اگست 2019کے بھات کے غیر قانونی اقدامات کی منسوخی اور کالے قوانین کے خاتمے کے علاوہ برطانوی حکومت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنے پر زوردیاگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں