حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں ’’رسول اللہﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ غذائی اجناس ذخیرہ کی جائیں۔ (شعب الایمان)
جس احتکار اور ذخیرہ اندوزی کی ممانعت فرمائی گئی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اس نیت اور غرض سے اشیائے ضرورت خصوصاً غذائی اجناس سٹاک اور جمع کرے کہ میں اُس وقت ان کو نکالوں گا جب بازار میں ان کی قلت ہوجائے گی اور اس کی وجہ سے میں لوگوں سے زیادہ منافع کما سکوں گا۔
اس حدیث میں غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی ممانعت خاص طور پر ذکر ہوئی ہے، اس باب کی بعض دیگر روایات (جو آگے آرہی ہیں) میں مطلقاً اور بالعموم بھی ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ومذمت مذکور ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غذائی اجناس کے علاوہ دیگر اشیائے ضرورت کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ غذائی اجناس میں ذخیرہ اندوزی واحتکار کی ممانعت کی جو علت اور وجہ ہے وہ باقی تمام اشیاء ضرورت میں بھی پائی جاتی ہے (وہ یہ کہ لوگوں کو اس چیز کی ضرورت ہے لیکن ذخیرہ اندوز صاحب نے اس کے منہ مانگے دام کھرے کرنے کی خاطر اسے بازار میں لانے کی بجائے اپنے گودام میں چھپایا ہوا ہے، ذخیرہ کیا ہوا ہے)۔ البتہ غذائی اجناس کی عام طور پر زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور سب کو ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے غذا کی اہمیت سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کو ذخیرہ کرنے کا ضرر ونقصان زیادہ شدید اور زیادہ وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کہ لوگ اناج، غلے اور باقی غذائی اشیاء کے دانے دانے کو ترس جاتے ہیں اور ایک مصنوعی قحط پورے معاشرے اور ساری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے حالانکہ رزق دینے والے رب نے جس کو قحط مسلط کرنے کا حق بھی ہے اور مختلف نافرمانیوں کی صورت میں وہ ذات مختلف قوموں پر مختلف اوقات میں سزا وتنبیہ کیلئے قحط مسلط بھی کردیا کرتی ہے لیکن جب اس خالق ومالک اور رازق حقیقی نے قحط مسلط نہیں کیا، اس کے حکم سے بارشوں اور ہوائوں نے ،دھوپ کی کرنوں اور چاند کی چاندنی نے کھیتوں کو سیراب اور سرسبز وشاداب کیا اور زمین نے اناج غلوں، پھلوں اور ترکاریوں کے خزانے لٹانے میں پوری پوری سخاوت برتی تاکہ اللہ کی مخلوق کو زندگی کا سامان فراہم ہو، اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے وہ شاد کام ہو پھر یہ ملعون اور پھٹکار زدہ ذخیرہ اندوز اللہ کا بھیجا ہوا رزق ، اللہ کی پیدا کردہ روزی اللہ کے بندوں تک پہنچنے میں (محض حرص ولالچ اور ہوس زر کی وجہ سے) کیوں رکاوٹ بنتا ہے؟ اس طرح یہ عمل پورے معاشرے اور پوری قوم کیخلاف ایک سنگین جرم ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنی حکمت کاملہ سے ترتیب دیئے ہوئے اس کے تکویتی نظام میں خلل ڈالنا اور تعطل پیدا کرنا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی مخلوق کو، اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے اپنے رزق سے نوازتا ہے اور ذخیرہ اندوز احتکار کرکے ،بلیک مارکیٹنگ کرکے اس فطری نظام پہ قدغن لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
حضرت معمر بن عبداللہ بن نضلہؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ذخیرہ اندوزی وہی آدمی کرتا ہے جو (دل کا پاپی ) گناہ گار ہو۔ (ترمذی)
اس حدیث میں علی العموم ذخیرہ اندوزی کو جرم وگناہ قراردیا گیا ہے، غذائی اجناس کی تخصیص نہیں کی گئی۔
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ’’حضرت سعید بن مسیبؒ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ حضرت معمرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں جوشخص ذخیرہ اندوزی کرے وہ مجرم وگناہ گار ہے، حضرت سعید (راوی) سے کسی نے کہا حضرت! آپ بھی تو ذخیرہ کرتے ہیں؟ حضرت سعید نے جواب دیاکہ (میرے استاد) حضرت معمرؓ (صحابی) بھی ذخیرہ کیا کرتے تھے۔ (مسلم)
ان کی مراد یہ تھی کہ ہم لوگ ایسی اشیاء کا ایسے اوقات میں ذخیرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو ضرر نہ پہنچے (دوسرے موقع پر خود ان حضرت سعید سے مروی ہے کہ وہ زیتون اور درختوں سے گرنے والے پتوں کا کاروبار کرتے تھے جو چوپایوں کے چارے کے طور پر استعمال ہوتے تھے، آپ بیچنے کے لئے ان کا کافی ذخیرہ جمع رکھتے تھے)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو اشیاء منڈی وبازار میں عام دستیاب ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کی قلت نہیں ہوتی تو تھوک فروش ان کا یکبارگی سٹاک یا بڑی لاٹ خرید لیتے ہیں پھر وہ آہستہ آہستہ تھوک وپرچون پکتی اور نکلتی رہتی ہیں یہ بلاشک وشبہ جائز ہے اور تجارت وکاروبار میں ایک لازمی عنصر ہے یہ ناجائز ذخیرہ اندوزی میں نہیں آتا کیونکہ اس کے بغیر تو عام طور پر تجارت وکاروبار چل ہی نہیں سکتا کہ مال یکبارگی خریدلیا جائے اور پھر بتدریج وہ فروخت ہوتا رہے، گاہک وخریدار کی حسب ضرورت جتنی ڈیمانڈ وطلب ہو اس کو بیچا جاتا رہے جبکہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور باوجود ڈیمانڈ اور طلب کے اور لوگوں کی ضرورت میں تنگی پیش آنے کے پھر بھی مال چھپائے رکھتا ہے اور لوگ جب زیادہ قیمت دے کر خریدنے پر مجبور ہوجائیں تب بیچتا ہے۔ دونوں میں فرق واضح ہے۔
(جاری ہے )