معاشرتی امن اور عدل و انصاف سوسائٹی کی اجتماعی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ تمدن اور معاشرت کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ امن ہو، عدل ہو اور انصاف ہو۔ اس کے بغیر تمدن کا قائم رہنا اور اپنے مقاصد حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا معروف قول ہے کہ حکومتیں کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہیں مگر ظلم کے ساتھ ان کا زیادہ دیر تک قائم رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ ریاست، سوسائٹی اور حکومت تینوں کے لیے عدل ناگزیر ہے اور عدل و انصاف کے بغیر ان کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
عدل، امن اور انصاف جس طرح سوسائٹی کی اجتماعی ضرورت ہے اسی طرح اس کے قیام کی ذمہ داری بھی مشترک ہے اور سوسائٹی کا ہر فرد اور ہر طبقہ اس کا کسی نہ کسی درجے میں ذمہ دار ہے۔ کوئی ایک طبقہ اگر چاہے بھی تو سوسائٹی کو اکیلا امن اور انصاف فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے تمام افراد اور تمام طبقات اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں گے تو معاشرے کو امن ملے گا اور عدل و انصاف میسر آئے گا۔ البتہ یہ تقسیم کار ہے کہ اس ذمہ داری کا ایک حصہ ایک طبقے کے سپرد ہے اور دوسرے حصے کی ذمہ داری دوسرے طبقے پر عائد ہوتی ہے۔ اسی تقسیم کار میں پولیس کا بھی ایک حصہ ہے اور اس کا بھی ایک کردار ہے۔ لیکن چونکہ ہمیں اس حوالہ سے پولیس فرنٹ پر دکھائی دیتی ہے اس لیے بسا اوقات ذہن میں یہ تاثر قائم ہونے لگتا ہے کہ یہ سارا کام پولیس کا ہی ہے، اور اگر ساری ذمہ داری اس کی ہے تو پھر ساری ناکامیاں بھی اسی کے کھاتے میں شمار ہونے لگتی ہیں۔ ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح آپ حضرات پولیس افسران کی حیثیت سے اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ان امور کے ذمہ دار ہیں، منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر اپنے دائرے میں اسی درجے میں میں بھی ذمہ دار ہوں، اور سب کے اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر معاشرتی انصاف کا مدار ہے۔ پولیس چونکہ حکومت کا ایک حصہ ہے، اس کے پاس طاقت ہے، اختیارات ہیں اور ڈنڈا ہے، اس لیے بہرحال اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ ہے۔
میں آپ حضرات کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوسائٹی کو امن و انصاف کے ایک ایسے تصور سے متعارف کرایا تھا جو آج تک آئیڈیل اور مثالی سمجھا جاتا ہے اور دنیا کی قومیں اس سے استفادہ کر رہی ہیں۔ اس حوالہ سے میں اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہوں گا کہ آخر وہ کیا طریق کار تھا جس کے ذریعے جناب نبی کریمؐ نے چند برسوں میں عرب معاشرے کو ایک صحت مند انقلاب سے دوچار کر دیا تھا، اور نہ صرف یہ کہ سونے چاندی سے لدی ہوئی عورتیں کھلے راستوں میں بلا خوف و خطر چلنے لگی تھیں بلکہ سوسائٹی میں زکوٰۃ اور صدقات کے مستحق افراد کو تلاش کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ اس سلسلہ میں جناب رسول اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ سے چند باتیں پیش کروں گا کہ ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ وہی ہیں اور آپؐ ہی کی پیروی ہمارے لیے دنیا و آخرت میں سرخروئی اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔
حاتم طائی دنیا کی معروف شخصیت ہے جسے سخاوت کا سمبل تصور کیا جاتا ہے، اس کے بیٹے عدی بن حاتمؓ صحابیٔ رسولؐ ہیں۔ وہ اپنا واقعہ بتاتے ہیں کہ جب وہ آنحضرتؐ کی خدمت میں آئے، ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہ چند روز تک اپنی طرف سے چیک کرتے رہے کہ یہ صاحب جو کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں، ان میں نبیوں والی کوئی بات بھی ہے یا یہ دنیا دار بادشاہوں اور سرداروں کی طرح کے ایک حکمران ہیں۔ اس لیے کہ جو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوتا ہے، اس کا مزاج دنیا دار بادشاہوں سے مختلف ہوتا ہے، اس کے ہر کام کی بنیاد خدا کا خوف ہوتا ہے اور اس کے ہر عمل سے خوفِ خدا جھلکتا ہے۔
اسلام میں خوفِ خدا ہی سارے کاموں کی اساس ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی اور جوابدہی کا عقیدہ انسان کو بہت سی برائیوں اور غلط کاریوں سے روکتا ہے۔ جوابدہی تو کسی نہ کسی کے سامنے ہماری ہوتی ہی رہتی ہے، آفیسرز کے سامنے جوابدہی، محکمے کے سامنے جوابدہی، سوسائٹی کے سامنے جوابدہی اور آج کل میڈیا کے سامنے جوابدہی۔ یہ سب جوابدہی کے مختلف دائرے ہیں جن کے سامنے ہم پیش ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی جوابدہی کے منفی نتائج سے بچنے کے لیے ہم کوئی نہ کوئی حیلہ ضرور نکال لیتے ہیں اور اکثر اوقات بچ بھی جاتے ہیں۔ صرف ایک جوابدہی ایسی ہے جس سے بچنے کے لیے کوئی حیلہ کارگر نہیں ہو سکتا اور کوئی تدبیر بن نہیں پاتی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی اور جوابدہی کا عقیدہ ہے جس سے ہم اپنی کوئی بات نہیں چھپا سکتے اور اپنا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے اسلام یہ کہتا ہے کہ خدا کا خوف اور اس کے سامنے جوابدہی کا ڈر ہر وقت پیش نظر رکھو اور کوئی بھی کام کرتے ہوئے یہ سوچ لو کہ اس کا ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔ بس یہی فلسفہ ہے کسی شخص کو جرم سے روکنے کا اور بد عملی سے باز رکھنے کا۔ اور یہ فلسفہ کسی دنیاوی نظام میں نہیں ملے گا، یہ صرف انبیاء کرامؑ کی تعلیمات سے ملے گا، وحی الٰہی سے ملے گا، قرآن و سنت سے ملے گا اور اسلام کے عادلانہ نظام میں ملے گا۔
میں بات کر رہا تھا حاتم طائی کے بیٹے عدیؓ کی جو کہتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے سے پہلے چند روز نبی اکرمؐ کی مجلس میں حاضر ہو کر یہ چیک کرتا رہا کہ یہ صاحب دنیادار حکمرانوں میں سے ہیں یا واقعتاً خدا کے ساتھ بھی ان کا کوئی تعلق ہے؟ عدیؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ جناب رسول اللہؐ مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک عورت آئی جو بظاہر دیوانی سی لگتی تھی، اس نے آنحضرتؐ سے کہا میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں، آپؐ مجلس سے اٹھ گئے اور ایک طرف ہو کر اس کی باتیں سننے لگے۔ اس عورت نے خاصی دیر آنحضرتؐ کو مصروف رکھا مگر جس انداز سے اور جس توجہ اور مہربانی کے ساتھ آپؐ اس کی باتیں سن رہے تھے اس نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ یہ دنیادار حکمران نہیں ہیں اور فی الواقع خدا کے رسول اور فرستادہ ہیں۔ اس کے بعد میں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔
(جاری ہے )