Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ذخیرہ اندوزی بدترین قومی جرم

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضور ﷺ نے فرمایا کہ (اشیائے صرف) پھیلانے اور بکھیرنے والے (دکاندار وتاجر) کو رزق دیا جاتا ہے( اس کی کمائی وتجارت میں برکت وترقی ہوتی ہے) اور ذخیرہ کرکے روک رکھنے والے پر اللہ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے۔ (دارمی)
اس لعنت کا دنیوی زندگی میں پھر عملی مظاہرہ یوں سامنے آتا ہے کہ کمائی، تجارت میں بلیک میلنگ اور ناجائز منافع خوری کی وجہ سے مال کی ظاہری فراوانی کے باوجود بے برکتی ونحوست ہوتی ہے، طرح طرح کے آفات وحوادث میں وہ شخص مبتلا رہتا ہے اور ان قدرتی ومصنوعی آزمائشوں سے نکلنے کے لئے (لوگوں کو ترسا ترسا کر ان کے خون پسینے کی گاڑھی کمائی ہتھیانے والے کو )پھر یہ مال پانی کی طرح بہانا پڑتا ہے اور آخرت کی بربادی اور زندگی بھرکی بے سکونی سوالگ۔
جبکہ حلال کا اہتمام کرنے والے تاجر کو جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو اس کو قناعت، صبروشکر، دل کا سکون اور عافیت وسلامتی والی زندگی عطا ہوتی ہے‘مسائل ومصائب کے ان بکھیڑوں سے اللہ تعالیٰ بالعموم اس کو محفوظ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے حرام خور، بلیک میلر تاجروں کی زندگی عذاب بنی ہوتی ہے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ’’میں نے اللہ کے رسولﷺ سے احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس طرح ہوتی ہے؟ (سوال کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ صورۃُ تو جائز ذخیرہ اندوزی اور ناجائز ذخیرہ اندوزی ایک ہی طرح نظر آتی ہیں کہ دونوں میں اشیاء صرف ،قابل فروخت اشیاء سٹاک اور ذخیرہ کی جاتی ہیں جیسے کہ ابھی پیچھے تفصیل گزری تو دونوں میں ہم امتیاز کیسے کریں گے؟)
آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ (بیوپاری، آڑھتی، کمیشن ایجنٹ، تاجر ودکاندار) جب (اجناس واشیاء کی )ارزانی وفراوانی کا سنے تو اداس وغمگین ہو جائے (برا سا منہ بنائے، ماتھے پہ بل پڑ جائیں) اور جب گرانی (وقلت) کا سنے تو خوشی سے کھل اُٹھے۔ فرمایا کیسا برا شخص ہے ذخیرہ اندوز کہ اللہ تعالیٰ اگر نرخ ارزاں فرمادیں (مثلاً اللہ تعالیٰ ان اشیاء کی پیداوار میں اتنی کثرت وفراوانی فرمادیں کہ اس کے مقابلے میں طلب اور مانگ کم پڑ جائے، جس سے عام طورپر چیزوں کے نرخ گر جاتے ہیں) تو یہ غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ قیمت اور مول بڑھا دیں، مہنگی فرما دیں (قحط سالی، پیداوار کی کمی اور طلب می اضافہ، بدامنی وجنگ وغیرہ حالات میں عام طور پر منڈی وبازار کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں) تو یہ خوش ہوتا ہے (گویا اللہ کی مخلوق پراللہ کا فضل ہونے پر اس کو گرانی ہوتی ہے اوراللہ کی مخلوق کو تکلیف پہنچے، اشیاء کی کمیابی اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی زندگی تلخ ہوجائے تو ان صاحب کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں)
اس حدیث سے جائز وناجائزمنافع خوری وذخیرہ اندوزی کے دو بنیادی فرق معلوم ہوتے ہیں ایک فرق خارجی حالات کے اعتبار سے ہے کہ جائز منافع خوری وذخیرہ اندوزی وہ ہے جب اشیاء صرف کی فراوانی ہو اور لوگوں کو ان کے حصول میں کوئی تنگی ودشواری نہ ہو اور مناسب و معقول نرخوں پر اشیاء ضرورت میسر آجاتی ہوں، ایسے حالات میں مال سٹاک کرنا اور صارفین کی طلب پر بازاری نرخ پر بیچنا جبکہ اس کے مقابلے میں اشیاء صرف یا ان میں سے کسی چیز کی قلت ہوجائے( خواہ مصنوعی قلت ہو یا حقیقی) اور لوگوں کو اس کی عام ضرورت ہو پھر کوئی اس چیز کو چھپائے، ذخیرہ کرے اس طرح جب مصنوعی قلت انتہا کو پہنچ جائے اور لوگ اس کے حصول کیلئے خوب ترس جائیں تب یہ تھوڑا تھوڑا کرکے نکالے اور من مانے ریٹ پر بیچے تو یہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ہے۔
اور دوسرا فرق اچھے اور برے انسان کی ذہنیت اور نفسیات کے اعتبار سے ہے کہ (جو شخص عام حالات میں محض سٹاک فراہم رکھنے کی غرض سے اشیاء کو سٹور کرتا ہے ،ذخیرہ کرتا ہے اس میں کوئی برائی نہیں البتہ) جو لوگوں کو پریشانی کے عالم میں لوٹنے پر خوش ہوتا ہے اور اسی غرض سے اشیاء صرف کو ذخیرہ کرتا ہے کہ جب ایسے حالات پیدا ہوں گے تو پھر ان صارفین کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بیچوں گا (پھر بعد میں خواہ ایسے حالات کی نوبت نہ آئے لیکن جس نے اس ذہنیت اور نیت سے اشیاء سٹاک اور ذخیرہ کیا تو یہ ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کی فاسد ذہنیت پر مبنی مراد برآئے، چیزکی قلت ہوکر مہنگائی ہو جائے تو خوش ہوتاہے اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فصل سے ایسے حالات پیدا کریں کہ بجائے چیزمہنگی ہونے کے اور سستی ہو جائے تو اللہ کے اس فضل پر یہ ذخیرہ اندوز بے چین وغمگین ہوجاتے ہیں۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ یہ بہت برے لوگ ہیں۔
اس حدیث پر غور کریں تو سرمایہ دارانہ ملعون نظام معیشت اور اس نظام کے کل پرزے قارونی ذہنیت کے حامل سرمایہ داروں کی نفسیات کی یہ عکاسی کرتی ہے اور اسلام کے عطا کردہ تصور وذہنیت اور سرمایہ دارانہ ذہنیت میں فرق واضح کرتی ہیں۔ وہ یہ کہ اسلام مال کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیتا ہے، بندوں کے پاس یہ مال اللہ تعالیٰ کا دین اور عطیہ ہے اور بندے اس کے حصول میں بھی اور خرچ کرنے وتصرف کرنے میں بھی اللہ کے حکم کے پابند ہیں اس بنیاد پر اسلام میں ملکیت بے لگام اور بے حدود وقیود نہیں بلکہ حدودقیوم کی پابند ہے اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کے مالک کو اپنی ملکیت میں تصرف کرنے اور اس مال کو برتنے کا پورا اختیار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شریعت نے مالک کو کچھ قیود وشرائط کا پابند کیا ہے، کچھ اخلاقی، معاشرتی اور اجتماعی مصلحتوں پر مبنی ضابطے بھی سکھائے ہیں جن کی رو سے اصولی طورپر اپنے مال میں، اپنی ملکیت میں، ایسا تصرف کرنا کہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو، عوام کو ،قیوم کو، معاشرے کو، پوری ملت کو نقصان پہنچے اس قسم کے تصرف کو شریعت نے منع کیا ہے۔
جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ملکیت کی حد اور قید، کسی اخلاقی ضابطے کی پابند نہیں ہوتی وہ دولت کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کوتسلیم کرنے اور اپنے پاس یہ دولت اللہ کا دین وعطیہ ہونے اوراس کی آمد وخرچ میں اللہ کے احکامات کا، اخلاقی ضابطوں کا اپنے آپ کو پابند کرنے کے بجائے یہ قارونی نعرہ بلند کرتے ہیں: ’’قارون نے کہا کہ یہ مال میں نے اپنی صلاحیت ومہارت اور علم ودانائی سے کمایا ہے‘‘۔ (سورۃ قصص آیت ۷۸)

یہ بھی پڑھیں