Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ بظاہر ایک سادہ اور عام سی بات ہے لیکن اس سے عدی بن حاتمؓ نے جو نتیجہ اخذ کیا اس پر غور فرمائیے کہ کسی حکمران کا خوفِ خدا اور مخلوق کے ساتھ ہمدردی سے بہرہ ور ہونا اس کے اچھا ہونے کی علامت ہے اور یہی اسلام کا مزاج اور امتیاز ہے۔ اس لیے میں پہلی گزارش یہ کرنا چاہوں گا کہ خوفِ خدا ہی ہمارے سب کاموں کی بنیاد ہے او ریہی ہمارا اصل کنٹرولر ہے جو ہمیں کسی بھی قسم کی بے راہ روی اور غلطی سے بچا سکتا ہے۔
اس کے بعد میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیسیوں ارشادات میں سے چند ایک کا تذکرہ کروں گا جو اپنی اپنی ذمہ داری اور فرض کو صحیح طریقے سے ادا کرنے میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔
ایک واقعہ ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ بنو مخزوم کی ایک عورت فاطمہؓ نے چوری کی تو جناب نبی اکرمؐ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس پر اس کی برادری کے لوگوں نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو سفارشی بنایا کہ کسی طرح ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف ہو جائے لیکن جناب رسول اللہؐ نے سفارش مسترد کرتے ہوئے فاطمہ مخزومی کا ہاتھ کٹوا دیا۔ اس موقع پر نبی کریمؐ نے مسجد نبویؐ میں جو خطبہ ارشاد فرمایا، بخاری شریف کے حوالہ سے اس کا ایک جملہ ذکر کروں گا جس میں آپؐ نے فرمایا کہ ’’تم سے پہلی امتیں اس لیے ہلاک اور برباد ہوئیں کہ ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن کوئی عام یا غریب شخص چوری کرتا تو اس کو سزا دی جاتی تھی‘‘۔ گویا قانون کی یکسانیت اور سب پر قانون کا یکساں اطلاق معاشرے میں امن و انصاف کی ضمانت ہے۔ اور اگر قانون کی عملداری میں چھوٹے بڑے کا فرق ہوگا تو سوسائٹی تباہی کا شکار ہوگی۔
ایک حدیث میں جناب رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے دائرے میں سوال ہوگا۔ حدیث میں ’’مسئول‘‘ کا لفظ ہے کہ وہ جوابدہ ہے۔ اس میں آپؐ نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ اپنے اپنے دائرے کو دیکھ لو، اپنی اپنی ذمہ داری کو دیکھ لو، اپنے دائرہ کار اور دائرہ اختیار میں مسئولیت کا تصور ذہن میں رکھ کر کام کرو۔ میرا خیال ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اگر اس تصور کو ذہن میں بٹھا لے تو ہمارے بہت سے مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔
حضرت عمرؓ ایک رات معمول کے گشت پر تھے کہ ایک گھر کے اندر سے گانے بجانے کی آواز آئی۔ حضرت عمرؓ مکان کی عقبی دیوار پھلانگ کر اندر کود گئے اور گانے بجانے والوں کو ڈانٹا تو صاحبِ خانہ نے کہا کہ حضرت میں نے تو ایک غلطی کی ہے کہ گانے بجانے کی محفل سجائی ہے لیکن آپ نے قرآن کریم کے تین حکم توڑے ہیں۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ (۱) کسی کے گھر میں داخل ہو تو پہلے اجازت لو جبکہ آپ بغیر اجازت اندر کود پڑے ہیں۔ (۲) قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ گھروں کے اندر کی جاسوسی نہ کیا کرو جبکہ آپ نے اس حکم کی پروا نہیں کی۔ (۳) اسی طرح قرآن کریم کا حکم ہے کہ گھروں میں دروازے سے داخل ہوں جبکہ آپ دیوار پھلانگ کر اندر آگئے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے یہ بات سن کر وہیں اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور انہی قدموں واپس چلے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیوٹی کے دوران اور اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کہیں غلطی کا احساس ہو جائے تو اس پر اڑنا نہیں چاہیے۔
ایک اور بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اورا ن کے کرنے میں فائدہ محسوس کرتے ہیں لیکن اجتماعی نظم اور سسٹم کی وجہ سے ایسا نہیں کر پاتے۔ میں یہاں سسٹم اور نظام سے بغاوت کی بات نہیں کروں گا لیکن اتنی بات ضرور کہوں گا کہ سسٹم اور نظم کے دائرے میں رہتے ہوئے اور اس کی پابندی کرتے ہوئے اس کام کو جس درجے میں کیا جا سکتا ہو اس کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ اصلاحِ احوال کا ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اجتماعی نظام کو تبدیل کیا جائے اور سسٹم کو بدلا جائے، اس کے لیے جائز دائرے میں کوشش کرنا بھی ضروری ہے، لیکن اصلاحِ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنے دائرے میں خود کو بدلنے کی کوشش کرے اور اپنی اصلاح کرے۔ ظاہر بات ہے کہ جب ہر شخص خود کو بدلنے کی کوشش کرے گا اور اپنے فرائض کو صحیح طریقے سے سرانجام دینے کی فکر کرے گا تو نظام کی اصلاح خودبخود ہو جائے گی۔ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اور پھر آپ حضرات کو دعوت دوں گا کہ ہم سب اپنا اپنا احتساب کریں، اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور اپنے فرائض کو پہچانتے ہوئے ان کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں