Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

دجال کے خدمت گزار؟

ایک دو چار فتنے ہوں تو بندہ مقابلہ بھی کرے،یہاں تو جس پتھر اور اینٹ کو اٹھائیں نیچے سے دو چار فتنے برآمد ہوتے ہیں، دجالی فتنوں نے پاکستان کے گلی کوچوں میں ایسے ڈیرے ڈال رکھے ہیں کہ جیسے پاکستان شیطان لعین کی خالہ کا گھر ہو، اور ہر گزرتے لمحات کے ساتھ پاکستان کے عوام دجالی فتنوں کے جال میں پھنستے چلے جا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ جب ’’دجال‘‘ اپنے لائو لشکر کے ساتھ غار سے نکلے گا اور مسلمانوں کو تر نوالہ بنانے کی کوشش کرے گاتو اس وقت کمزور ایمان والے مسلمان کیا کریں گے؟کیونکہ آج مسلمانوں کی ایمانی حالت اس قدر کمزور ہے کہ کوئی فتنہ غامدیت تو کوئی فتنہ قادیانیت،فتنہ مرزا جہلمی ، کوئی گستاخانہ فتنے اور کوئی ساحل ندیم کے فتنے کا شکار نظر آرہا ہے،سوال یہ بھی ہے کہ ان فتنوں کا شکارلوگ کس طرح سے دجال کا مقابلہ کریں گے؟
فتنہ دجال کی ہلاکت انگیزی کا اندازہ اس بات سے بھی آپ لگا سکتے ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص دجال کے خروج کے بارے میں سنے، اس کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو، اس سے دور رہے۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی ۔(اور فرمایا:)اللہ کی قسم، آدمی اس کے پاس یہ خیال کر کے آئے گا کہ وہ مومن ہے،لیکن پھر اس کے اٹھائے ہوئے شبہات میں اس کی پیروی کرنے لگے گا ،یا فرمایا کہ وہ دجال کے اٹھائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگے گا۔(سنن ابی دائود،رقم الحدیث:4319 )
درج بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب دجال آئے گا تو بہت سے مسلمان اپنے ایمان کوپختہ محسوس کرتے ہوئے اس سے بحث ومباحثہ کرنے کی غرض سے جائیں گے۔ لیکن اس کے اعتراضات وپھیلائے گئے شکوک وشبہات اتنے خطرناک ہوں گے کہ مسلمان کو اپنے دام فریب میں پھنسا لیں گے اور آج کے دور میں میڈیا پر بیٹھے ہوئے دانش فروشوں، ڈرامہ بازوں اینکروں اور اینکرنیوں کو دیکھ لیجئے اور سوچ کر جواب دیجئے کہ یہ ’’دجال کے مخالف ہیں یا خدمت گذار‘‘
مسلمان نوجوان ہوں بوڑھے ہوں یا لڑکپن کی عمر والے،غرضیکہ مرد ہوں یا عورتیں! اب سب کو زیادہ سے زیادہ ہوشیارر ہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ صبح ایک فتنہ شام دوسرا فتنہ ، یہ سب فتنے یہود اور یہود کے آلہ کار پھیلارہے ہیں ،ایک طرف فحاشی کو ہمارے رگ وپے میں سمونے کے لئے ہمارے تعلیمی ڈھانچے کو استعمال کیا جارہاہے ،پرائیویٹ سکولز وکالجز اور سرکاری یونیورسٹیز میں نوجوان بچوں اور بچیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے ریپ کیسز،اور ہم جنس پرستی کی ترغیب ولالچ پر مبنی ویڈیوز بنوائی جارہی ہیں ،پھر ایسے میں سوشل میڈیا پر مرزا جہلمی جیسے فتنہ پرور ؟ نوجوان نسل کا مسجد و علماء سے رابط ختم کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، دجالی چینلز جاوید غامدی اور ساحل ندیم کو عوام کے سامنے یوں پیش کر رہے ہیں کہ جیسے اس صدی کے سب سے بڑے اسلامی اسکالرز وہی ہوں، دجالی میڈیا کی کوشش یہ ہے کہ مسلمان دین سیکھیں تو انہیں سے سیکھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوئہ حسنہ بھی انہیں مذہبی جیب کتروں سے سیکھیں ،توبہ توبہ،توبہ،کہاں غامدی ،جہلمی اور ساحل اور کہاں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نازل شدہ اللہ کا پسندیدہ ، دین اسلام ؟جہلمی اور ساحل ندیم کی تیزی طراری چرب زبانی اور دجالی میڈیا پر ان کو ملنے والا پروٹوکول دیکھ کر یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ صیہونی طاقتوں نے اپنے’’ خچروں‘‘ پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، کہاں علم و حکمت کا علم اور خوف خدا رکھنے والے علماء کرام اور کہاں دھواں چھوڑتے ہوئے ٹرین کے یہ انجن ؟سنا ہے کہ مرزا جہلمی مفتی تقی عثمانی جیسے جید علماء کو للکارتا اور پھنکارتا ہے،یعنی ’’ذات دی کوڑھ کرلی تے شہتیراں نال جپھے‘‘ حالانکہ قرآن و حدیث کے پاکیزہ علوم کے حوالے سے یہ بے چارے خود تو پیدائشی یتیم ہیں ، لیکن ہر اڑتا تیر لینے کی عادت بد کو ترک کرنے کے لئے یہ تیار نہیں ہیں، قرآن وحدیث سے عاری یہ ’’مجہول الزماں‘‘ دین کے نام پر گمراہی کی فیکٹریاں چلا رہے ہیں، جہالت کی فیکٹریوں میں تیار ہونے والی ان کی ویڈیوز کا پھیلا ئو تو اپنی جگہ ، عجیب بات یہ ہے کہ ان کا تو سوشل میڈیا اکائونٹ ہیک نہیں ہوتا،ان کو سبسکرائبر کی بھاری بھرکم خیرات بھی آنا، فانا مہیا کر دی جاتی ہے، ان کی متنازعہ ویڈیوز کی رپورٹ کرو تو کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ،آخر کیوں۔؟ کبھی غور کیا کہ ایسا سب کچھ کیوں ہوتا ہے ؟آپ کی وڈیو ز جو طاغوت پر کڑی ضرب ثابت ہو، اسے تو فیس بک ،یوٹیوب ،ٹک ٹاک سب سوشل میڈیائی اکائونٹ ڈیلیٹ کردیتے ہیں، بلکہ آپ کو وارننگ بھی مل جاتی ہے ،لیکن ان کی ویڈیوز ڈیلیٹ نہیں کی جاتیں، کیونکہ وہ ان کے ہرکارے یعنی کارندے ہوتے ہیں اور وہ انہی کے لئے کام کررہے ہوتے ہیں۔
اِس لئے مسلمانوں ،خدا کے لئے یہ وقت ہوش میں آنے کا ہے، ہوش میں آجائیے ،ابھی وقت ہے ، ابھی واپسی کا راستہ بھی کھلا ہے ،یہ نہ ہو کہ جب تم واپس آنے کا سوچو تو نہ وقت ملے اور نہ ہی واپسی کا راستہ ۔اللہ تعالی ٰہمیں دین اسلام کا صحیح فہم نصیب فرمائے۔(آمین)

یہ بھی پڑھیں