پاکستان کا جمہوری سیاسی نظام اس قدر بوسیدہ ،ظالمانہ اور غلامانہ ہے کہ جس کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں،یہ خاکسار تو عرصہ دراز سے مینارہ نور کے ذریعے اپنے قارئین کو آگاہی دیتا چلا آرہا ہے،کہ پاکستان میں رائج نظام افلاطونی ہے،یہ وہ افلاطونی سسٹم ہے کہ جس میں گدھا گھوڑا برابر ،عالم اور جاہل کا ووٹ برابر ہوتا ہے ،جو اس نظام کے تحت الیکشن لڑ کر ملک میں اسلامی نظام لانے کے علمبردار تھے’ اب تو وہ بھی اس سسٹم سے مایوس نظر آرہے ہیں،اس جمہوری یعنی افلاطونی سسٹم کی مضبوطی کی خاطر کئی دہائیاں قربان کرنے والے سیاست دان ،کاش کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے یہ جدوجہد کرتے تو آج ملک کا حلیہ درست ہو چکا ہوتا،پاکستان میں معیشت کی تباہی ہو،معاشرت کی تباہی ہو یا اخلاقیات کی تباہی،اس میں نیچے والوں سے زیادہ اوپر والوں کا ہاتھ ہے،یہاں سیاسی فرقہ واریت ہو یا مذہبی فرقہ واریت،جب تک حکمران ٹولہ نہ چاہے اس میں اضافہ نہیں ہو سکتا،میرا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی فرقہ واریت کے پھیلائو کی ذمہ داری وقت کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، انہیں مرزا جہلمی جیسے زبان دراز بہت سوٹ کرتے ہیں،ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں اٹھنے والی ہر جذباتی آواز زور زبردستی بندکرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، مغربی افلاطونی جمہوری سسٹم کرپٹ لٹیروں اور فرنگی غلاموں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے،آئیے دیکھتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی کا اس حوالے سے کیا موقف ہے۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ دنیا میں انقلاب حکومت نہیں عوام کے ذریعے آتے ہیں’ ہم ابھی تک بہتر سیاسی نظام اور اچھی قیادت کے منتظر ہیں، اس وقت سیاسی انتشار ہے جبکہ اقتصادی اعتبار سے بھی نیچے جاچکے ہیں، جاری حالات سے مایوسی ہے لاکھوں لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، یہ بات انہوں نے وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان میں تاجروں ، صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات پر انتخابات ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہر الیکشن میں دھاندلی کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور پھر الیکشن کا مطالبہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں مغرب کو آئیڈیل بنالیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ملک کو بے پناہ وسائل عطا فرمائے، ہم آج تک جھیل سیف الملوک تک 8میل کے راستے کو پکا نہ بناسکے، انگریز جو جو ریلوے لائن ڈال گئے تھے اس کے بعد کوئی نئی ریلوے لائن نہ ڈال سکے۔ سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی جڑ کہاں ہے؟ ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں اور آئی ایم ایف کے بغیر نہیں چل سکا کہ اس غلامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض ہے۔ ہمارا سیاسی نظام آزاد نہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک کو غلامی سے نکالنے والی تحریک سیاسی سطح پر کامیاب نہیں ہوتی۔
دنیا میں انقلاب حکومت نہیں عوام کے ذریعے آتے ہیں۔ قیام پاکستان کا مطلب کلمہ طیبہ تھا جسے ہم نے بھلاکر انگریزوں کا نظام قائم کیا ہوا ہے، سود کے نظام کو اللہ تعالیٰ نے جنگ قرار دیا ہے تو ہم کیسے ملک کو ترقی دے سکتے ہیں۔ افسوس ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد اصل نظریاتی اکابرین دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور ملک کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی ہے کہ ہمارا سیاسی نظام آزاد نہیں بلکہ غلام ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں سیاسی نظام کے ذریعے اسلامی نظام کا لانا مجھے مشکل لگتا ہے، دنیا میں انقلاب صرف حکومت کے ذریعے نہیں آتے، عوام کے ذریعے آتے ہیں۔ اس وقت ملک سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کا شکار ہیں، سیاسی اعتبار سے انتشار میں مبتلا ہیں، اقتصادی اعتبار سے ہم بہت نیچے جا چکے ہیں، حالات ایسے ہیں ہر شخص میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا تاجر برادری کسی بھی ملک کی شہ رگ ہوتی ہے، تاجر برادری سیاست کو بھی صحیح راستے پر آنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا دنیا میں تھنک ٹینک طویل مدتی پالیسیوں پر غور کرتے ہیں، تاجر اور عوام فیصلہ کرلیں کہ امپورٹڈ چیزیں استعمال نہیں کرنی تو امپورٹڈ مصنوعات بند ہو جائیں گی، تاجر برادری کے باہمی اتحاد اور اتفاق سے ہی امپورٹڈ مصنوعات کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کو بے شمار مسائل درپیش ہیں، زر مبادلہ کی کمی ہے مگر امپورٹ پر پابندی نہیں لگائی جا رہی، آئی ایم ایف اس پابندی سے روکتا ہے، اس کا کیا مفاد ہے؟ کیوں کہ ہم غلام ہیں، تو عالمی اداروں کی ماننی پڑتی ہے، یہ تحریک چلائی جائے کہ امپورٹڈ چیزیں ہم نہیں منگوائیں گے، خاص طور پر ایسے دشمنوں کی چیزیں جو مسلمانوں کا گلا کاٹ رہی ہیں، تاجر اور عوام یہ فیصلہ کریں، حکومت یہ نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا تھا اصل بات یہ ہے کہ ہم سیاسی نظام میں غلام ہیں، آزاد نہیں، ایسی تحریک جو اس غلامی سے آزادی دلائے وہ سیاسی سطح پر کامیاب نہیں ہو رہی، عوام کھڑے ہو جائیں تو حکومت گھٹنے ٹیک دے گی، معاشرے کے مختلف طبقات جمع ہوں اور غلامی سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں ۔