آج کل پورے ملک میں قادیانیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ زیرِ بحث ہے۔ تمام دینی جماعتیں اور تمام مکاتب فکر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اور تقریباً یہ سب کے ہاں قدر مشترک ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ دینی تقاضوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہے۔ میں سادہ سے لہجے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ دینی حلقے مطمئن کیوں نہیں ہیں، مسئلہ کیا ہے اور دینی حلقوں کا موقف کیا ہے؟
قادیانیوں کو طویل جدوجہد کے بعد ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا تھا۔ یہ ہمارا پرانا مطالبہ تھا جو کہ ۱۹۵۳ء سے چلا رہا تھا۔ تمام مذہبی حلقوں، سیاسی پارٹیوں، عدالتوں اور پارلیمنٹ کا متفقہ اور مشترکہ فیصلہ تھا کہ قادیانی اس ملک میں بطور شہری رہیں، لیکن مسلمانوں کے کھاتے میں شمار نہیں ہوں گے بلکہ غیر مسلموں میں شمار ہوں گے، مگر قادیانیوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ اگر وہ فیصلہ قبول کر لیتے اور اس کے تقاضے پورے ہوتے تو جھگڑا ختم ہو جاتا، لیکن انہوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا کہ ہم غیر مسلم کہلانے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کا موقف یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ان کا موقف یہ نہیں ہے کہ ہم بھی مسلمان ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم ہی مسلمان ہیں اور ہمارے سوا دنیا میں کوئی مسلمان نہیں ہے۔ قادیانی اس پر اڑ گئے تو اس کی وضاحت اور توضیح میں دس سال لگ گئے، پھر ۱۹۸۴ء میں ان کی ضد کی وجہ سے نیا قانون نافذ کرنا پڑا کہ چونکہ قادیانی دستور اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق مسلمان نہیں ہیں، اس لیے مسلمانوں کی علامتیں استعمال نہیں کر سکتے۔ وہ اسلام کا نام نہیں لیں گے، مسجد کے نام سے عبادت گاہ نہیں بنائیں گے، قرآن پاک کی اشاعت نہیں کریں گے، وغیرہ۔
ظاہر بات ہے کہ چونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں تو مسلمانوں کی اصطلاحات و علامات استعمال کرنے کا حق بھی انہیں نہیں ہے۔ میں اس پر ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ ایک کمپنی چلی آ رہی ہے، اس کا ایک نام ہے، ٹریڈ مارک ہے اور ساکھ ہے۔ اس میں سے کچھ لوگ الگ ہو کر نئی کمپنی بناتے ہیں تو انہیں پہلی کمپنی کا نام استعمال کرنے کا حق نہیں ہوتا، اس کا ٹریڈ مارک اور اس کی سٹیمپ استعمال کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ ضد کریں کہ ہم نئی کمپنی کے لیے پرانی کمپنی کا نام استعمال کریں گے، کمپنی نئی ہے، مگر نام، ٹریڈ مارک، سٹیمپ اور ساری علامتیں پرانی کمپنی کی استعمال کرتے ہیں تو اس کو قانون کی دنیا میں فراڈ کہا جاتا ہے۔ قادیانیوں کے اسی فراڈ کو روکنے کے لیے ۱۹۸۴ء میں قانون نافذ کرنا پڑا کہ وہ اسلام کا نام استعمال نہیں کریں گے اور اسلامی شعائر استعمال نہیں کریں گے۔
یہ سادہ سی بات ہے، کامن سینس کی بات ہے، مگر اس کو بھی قادیانیوں نے رد کر دیا اور صرف رد نہیں کیا، بلکہ دنیا بھر میں ۱۹۸۴ء سے لے کر اب تک منفی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری حق تلفی ہو رہی ہے، پاکستان میں مسلمان ہمیں عبادت گاہ نہیں بنانے دے رہے، اپنی کتاب کی تلاوت نہیں کرنے دے رہے، وغیرہ۔ بین الاقوامی ادارے، جو انسانی حقوق یا شہری حقوق کے نام سے کام کر رہے ہیں، قادیانی وہاں جا کر واویلا کرتے ہیں اور ان کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔
میں اپنی ایک کمزوری بھی عرض کر دینا چاہوں گا کہ جب قادیانی پاکستان کے دستور اور قانون کے خلاف کوئی مقدمہ لے کر جاتے ہیں تو حکومت پاکستان کو وہاں دفاع کرنا چاہیے مگر حکومت پاکستان اس میں فریق نہیں بنتی۔ حالانکہ پاکستان کے خلاف درخواست ہے، پاکستان کے دستور اور قانون کے خلاف درخواست ہے تو پاکستان کا دفاع حکومت کو کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں میں درخواست جاتی ہے اور انہوں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو وہاں پاکستان کی پوزیشن کی وضاحت حکومت پاکستان کو کرنی چاہیے، لیکن وضاحت کے لیے حکومت نہیں جاتی اور کوئی بھی نہیں جاتا تو فیصلہ قادیانیوں کے حق میں ہو جاتا ہے۔ ۱۹۸۴ء سے لے کر اب تک صورتحال یہ ہے کہ جو بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، ان میں قادیانیوں کی درخواست جاتی ہے، جواب میں ہماری طرف سے کوئی نمائندہ نہیں جاتا یا کوئی جاتا ہے تو چپ بیٹھا رہتا ہے تو وہ ان کے حق میں فیصلہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے جن کی بات سنی ہے تو ان کے حق میں ہی فیصلہ کریں گے اور پھر ایسے فیصلوں کی بنیاد پر ہی بین الاقوامی موقف اور دباؤ منظم ہوتا ہے۔
اس وقت بین الاقوامی تاثر واقعتاً یہ ہے اور اس میں قادیانیوں کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ساتھ ہماری بے پرواہی بھی شامل ہے۔ بات انصاف کی کرنی چاہیے۔ قادیانیوں کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ہماری یہ بے پرواہی کہ ہم اس کی پرواہ نہیں کر رہے کہ اقوام متحدہ میں، جنیوا ہیومن رائٹس کمیشن میں اور یورپی یونین میں جہاں ہمارے خلاف یہ کیس جاتے ہیں، ہم وہاں فریق نہیں بنتے اور ہم وہاں جا کر اپنا دفاع نہیں کرتے، نہ حکومت کرتی ہے، نہ کوئی اور کرتا ہے چنانچہ فیصلہ ان کے حق میں ہو جاتا ہے اور اس پر بین الاقوامی ادارے مطالبہ کرتے ہیں کہ جب آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے رکھا ہے تو ان کو غیر مسلموں کی طرح حقوق بھی دیں۔ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ قادیانی نماز نہیں پڑھیں گے اور مسجد نہیں بنائیں گے، یہ پابندیاں ختم کریں۔ تقریباً اکثر بین الاقوامی اداروں کا ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلموں کے شہری حقوق سے محروم نہ کریں۔
(جاری ہے)