ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ شہید ہوگئے، تہران میں ان کی رہائش گاہ کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس میں ہنیہ اپنے محافظ سمیت شہید ہوگئے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے جواب میں اسرائیل پر براہ راست حملے کا حکم دیدیا ہے ، اس معاملے سے واقف تین ایرانی عہدیداروں نے بتایا یہ حکم ایرانی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دیا گیا،اللہ کرے کہ اس متوقع حملے میں پرندوں اور درختوں کے ساتھ ساتھ چند صیہونی فوجی بھی نشانہ بن جائیں،ورنہ اسرائیل اور امریکیوں کو دھمکیاں دینے کی ایرانی تاریخ تو پرانی ہے،مگر صیہونی، ڈرنے یا خوفزدہ ہونے کی بجائے ایران میں گھس کر اسکے قابل احترام مھمان یعنی اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے میں کامیاب رہے،ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو کوئی بتائے کہ اس دفع بات دھمکیوں سے آگے بڑھنی چاہیے ،انتقام ایسا ہونا چاہئے کہ پلید نیتن یاہو اور اسکا ناجائز باپ امریکہ تڑپ کر رہ جاے،میں پچھلا کوئی طعنہ دئیے یا منفی بات لکھے بغیر اللہ کے حضور دعا گو ہوں کہ اللہ ایران کو نعروں اور دھمکیوں سے بڑھ کر عملی طور پر اسرائیل سے بدلہ چکانے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین۔
حماس کے عسکری ونگ قعزالدین القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اسماعیل ہنیہ کا قتل جنگ کو نئی سطح پر لے جائے گا اور اس کے پورے خطے پر اثرات ہوں گے‘‘ پاکستان، روس، چین، ترکیہ، عراق اور قطر سمیت کئی ممالک نے حماس کے سربراہ کی شہادت کی مذمت کی ہے تاہم امریکہ نے حملے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر اسرائیل کے دفاع کا اعلان کیا ہے، حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے تہران میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیل نے لبنان اور ایران پر حملہ کیا تاکہ ’’خطے میں آگ لگائی جائے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور اس کے اتحادی (ایران)’’علاقائی جنگ‘‘ نہیں چاہتے لیکن ہنیہ کے قتل نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ اس دشمن کے ساتھ ہمارا واحد آپشن خون اور مزاحمت ہے۔ حماس نے اپنے سیاسی ونگ کے سربراہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مکروہ فعل کا جواب ضرور دیا جائے گا،حماس کے سیاسی بیورو کے رکن موسی ابو مرزوک نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایک بزدلانہ فعل ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تہران میں شرمناک قتل کی مذمت کرتے ہیں، وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اس حملے کا مقصد غزہ کی جنگ کو علاقائی جہت تک پھیلانا بھی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ایک بار پھر نیتن یاہو حکومت نے ظاہر کیا ہے کہ اس کا امن کے حصول کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کو بتایا کہ یہ قطعی طور پر ناقابل قبول سیاسی قتل ہے، اور یہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔چینی وزارت خارجہ نے بھی حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی مذمت کی ہے،کوئی شک نہیں کہ اسماعیل ہنیہ موجودہ صدی کے عظیم مزاحمتی اورجہادی رہنماوں میں شامل تھے، جو امریکی تسلط کے منصوبے اور صہیونی ظلم و قبضے کے خلاف اخری سانسوں تک بہادری سے ڈٹے رہے، اقصی کی آزادی کی اس جنگ میں انہوں نے اپنے خاندان کے ستر پیارے قربان کئے ۔
اس دور میں اپنے بیٹے پوتے ،نواسے اور دیگر جگر گوشوں کی قربانی دے کر جہادی پرچم کو سربلند رکھنایہ اسماعیل ہنیہ کا ہی دل گردہ تھا،بدھ کے روز نماز تہجد کے وقت اسماعیل ہنیہ نے اپنے جسم کی قربانی پیش کر کے حورو غلمان وملائیکہ کو مسکرانے پر مجبور کر دیا۔’’واہ‘‘کیا منظر نامہ ہو گا کہ جب زمین پر امت مسلمہ کے بہادر اپنے پیارے اسماعیل ہنیہ کی ہمیشہ کی جدائی پر رو رہیں ہوں گے اور آسمان پر حورو غلمان وملائیکہ مسکرا، مسکرا کر اپنے مہمان کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہوں گے،اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر رونے والے مسلمانوں سے گزارش ہے کہ یہ وقت جہاد ہے،حماس کے شیر دل مجاہدین اسرائیل کے اندر مصروف جہاد ہیں،مسلمان ملکوں کے حکمران صہیونیت زدہ دماغوں کے ساتھ اپنی اپنی مسلمان عوام کو دباتے چلے جا رہے ہیں،اسماعیل ہنیہ نہ پہلے شہید ہیں اور نہ آخری ،ہاں البتہ صیہونی خفیہ ٹھکانوں کو جتنا جلدی تہس نہس کیا جائے گا۔
دنیا امن کی راہ پر چل پڑے گی،لیکن یہ ممکن ہو گا صرف اور صرف جہاد وقتال ہی کی برکت سے ،آئیے اپنے شہید اسماعیل ہنیہ کو قرآن پاک کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، فرمان خدا وندی ہے کہ:
’’ مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا۔‘‘
(فمِنہم من قض نحبہ) تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کردیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کردیا۔ وہ اللہ تعالی کی راہ میں قتل (شہید ہوا) اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کردی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔
(ومِنہم من ینتظِر ) اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لئے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کرچکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ (وما بدلوا تبدِیلا)اور انہوں نے اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں۔ وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔
مندرجہ بالا آیت مبارکہ کی روشنی میں حضرت اسماعیل ہنیہ کی قربانی کو سمجھیں گے تو دل اطمینان سے معمور ہو جائے گا۔ ان شااللہ