(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ ہے اس کا بیک گراؤنڈ۔ اس پس منظر میں اس قسم کے فیصلے آ رہے ہیں، اس کے پیچھے بین الاقوامی دباؤ ہے اور اس دباؤ کے پیچھے قادیانیوں کی ضد، ہٹ دھرمی اور محنت ہے اور ہماری بے پرواہی بھی ہے کہ ہم اس فورم پر کوئی لڑائی نہیں لڑ رہے۔
حالیہ فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں عیسائی، سکھ، یہودی اور ہندوؤں کو شہری حکومت حاصل ہیں تو قادیانیوں کو بھی شہری حقوق ملنے چاہئیں، ان کی عبادت گاہیں ہیں تو ان کی بھی ہونی چاہئیں، وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتے ہیں تو انہیں بھی اجازت ہونی چاہیے، وہ جلسے کرتے ہیں تو انہیں بھی جلسے کی ممانعت نہیں ہونی چاہیے۔
میں عرض کرنا چاہوں گا کہ بین الاقوامی اداروں کا یہ مطالبہ اور اس کے دباؤ پر ہونے والے اس قسم کے فیصلے ہمارے لیے دو وجہ سے ممکن نہیں ہیں کہ ہم دباؤ کو قبول کریں اور ان فیصلوں کو قبول کریں۔
ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب خود قادیانی دستور کے فیصلے کو نہیں مان رہے تو وہ مطالبہ کس بات کا کر رہے ہیں؟ وہ حقوق لیں گے تو آخر دستور اور قانون کے تحت لیں گے، قانون کو تو وہ تسلیم نہیں کر رہے۔ جب تک قادیانی دستور کے فیصلے کو اور پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے تو ان کا اس مطالبے کا جواز نہیں بنتا۔ وہ جب دستور کو مان نہیں رہے، فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں اس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں تو جس فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں اور جس کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں، اس فیصلے کے تحت حق کیسا مانگ رہے ہیں؟
یہ ایک بنیادی اصولی بات ہے اور میں قادیانیوں سے اکثر کہتا ہوں کہ دیکھو بھئی! یہ فیصلہ تم نے کرنا ہے، ہم نے نہیں کرنا۔ ہم تو فیصلہ کر چکے ہیں، پارلیمنٹ، عدالت، تمام سیاسی پارٹیاں اور تمام مکاتب فکر فیصلہ کر چکے ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں جو فیصلہ ہوا تھا اس میں کوئی سیاسی پارٹی پیچھے نہیں تھی، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی وغیرہ سب اس فیصلے میں شریک تھیں۔ تاجر برادری، وکلاء، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی، شیعہ سب شریک تھے، یہ پوری قوم کا متفقہ فیصلہ ہے۔
اس لیے ایک بات تو یہ ہے کہ چونکہ قادیانی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہے اور اس فیصلے کے خلاف پوری دنیا میں کمپین کر رہے ہیں، اب تک انہی کی مہم چل رہی ہے، ون وے ٹریفک چل رہی ہے تو جب تک وہ اس دستوری فیصلے کو تسلیم نہیں کر لیتے، اس وقت تک ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم ان کے حقوق کی بات کریں۔
دوسری بات یہ ہے کہ دیگر غیر مسلموں میں اور قادیانیوں میں فرق ہے اور عملی فرق ہے، مثلاً یہاں ہندو رہتے ہیں، وہ اپنی عبادت گاہ بناتے ہیں تو اس کو مندر کہتے ہیں، اپنی کتاب چھاپتے ہیں تو اسے گیتا کہتے ہیں۔ اگر ہم قادیانیوں کو ہندوؤں والے حقوق دیں گے تو وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہیں گے اور کتاب چھاپنے کی اجازت ملے گی تو قرآن چھاپیں گے جس سے جھگڑا اسی طرح رہے گا۔
اسی طرح سکھ یہاں رہتے ہیں، ان کے مذہب کو پانچ سو سال ہو گئے ہیں۔ یہ ہندوؤں سے الگ ہوئے تھے اور مسلمان ہوتے ہوتے رہ گئے تھے، تو یہ اپنی مذہبی روایات کے اعتبار سے خلط ملط ہیں۔ کسی سکھ سے بات کریں گے تو وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول کہے گا، قرآن پاک کو اللہ کی کتاب کہے گا اور صوفیائے کرام سے، بالخصوص حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بابا فریدؒ ہمارے بزرگ ہیں اور اہل اللہ میں سے ہیں۔ سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ میں قرآن پاک کی آیتیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں ہیں، صوفیائے کرام کا تذکرہ ہے اور بابا فریدؒ کی کافیاں اس میں سب سے زیادہ ہیں۔
بابا فریدؒ کے ساتھ ان کے تعلق پر ایک لطیفہ عرض کروں گا کہ ایک دفعہ لندن ساؤتھ آل کے علاقہ میں مجھے بیگ خریدنا تھا، میں ایک سکھ کی دکان پر گیا تو وہاں بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کی فوٹو لگی ہوئی تھی۔ میں نے کہا سردار جی! آپ نے بابا فریدؒ کی فوٹو لگائی ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا آپ انہیں مانتے ہیں؟ میں نے کہا ہم ہی تو انہیں مانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پھر آپ سے بیگ کے پیسے کیوں لینے ہیں، آپ بیگ ویسے ہی لے جائیں۔ میں نے بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کا ایک عقیدت مند کے طور پر نام لیا تو اس نے مجھ سے بیگ کے پیسے نہیں لیے۔
سکھوں کی مذہبی کتاب میں یہ سب کچھ ملے گا لیکن انہوں نے اپنا نام الگ کر رکھا ہے، وہ مسلمان نہیں کہلاتے، اپنی کتاب کو قرآن نہیں کہتے اور ہماری طرز پر مسجد نہیں بناتے۔ باوجودیکہ قرآن کی بات کرتے ہیں، حدیث کی بات کرتے ہیں، صوفیاء کرام کی بات بھی کرتے ہیں اور بڑے ادب و احترام سے کرتے ہیں، لیکن چونکہ وہ الگ ہیں، اپنے آپ کو انہوں نے الگ کر لیا اور اپنے نام اور شناخت کو الگ کر لیا ہے، اپنی کتاب کو گروگرنتھ کہتے ہیں، اپنی عبادت گاہ کو گردوارہ کہتے ہیں اور اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ لاہور میں سکھ موجود ہیں، یہاں آتے بھی ہیں، لیکن کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا کہ یہ مسلمان ہیں، سب انہیں سکھ ہی سمجھتے ہیں۔(جاری ہے)