Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

حکومت کا یوم استحصال بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کے لئے آج یوم استحصال منایا جارہا ہے۔
نریندرمودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے 5اگست 2019ء کو آئین کی دفعہ 370کو منسوخ کر کے مسلم اکثریتی علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ریاست کو نئی دہلی کے زیرکنٹرول دو علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ مذکورہ دفعہ کی منسوخی سے بھارت کے لوگوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں جائیدادیں خریدنے اور وہاں مستقل طور پر آباد ہونے کا حق حاصل ہوا۔ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت کے ناقدین نے بھی اس اقدام کو مسلم اکثریتی علاقے میں ہندوئوں کو آبادکرکے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیاہے۔ اس متنازعہ اقدام کے ردعمل میں حکومت پاکستان نے 2020ء میں 5اگست کو یوم استحصال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اب اس دن کو پاکستان میں ہر سال یوم استحصال کشمیرکے طورپر منایا جاتا ہے۔
اس سال وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں اس دن پاکستانی اور کشمیری قیادت کی مشترکہ مرکزی تقریب کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی جنہوں نے وزیراعظم کو تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم شہبازشریف آج کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظفر آباد کا دورہ کریں گے۔پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم یوم استحصال کے حوالے سے اہم پالیسی بیان دیں گے ۔یوم استحصال کے دیگر پروگراموں میں خصوصی واک کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباتہوں گی ۔ کشمیریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے خصوصی پروگرام نشر کئے جائیں گے اور مقبوضہ علاقے میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ یوم استحصال کے موقع پر تنازعہ جموں و کشمیر ، کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں اور بھارت کے وعدوں کی خلاف ورزی کو اجاگر کیا جائے گا۔رواںہفتے کے اوائل میں پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دبائوڈالے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرے، وادی میں مظالم بند کرے اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرے۔یہ مطالبہ اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں غیر ملکی سفارت کاروں کے لیے بریفنگ کے دوران کیاگیاجہاں سیکرٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی نے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کی تفصیلات بتائیں اوربین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور امن و سلامتی کے تناظر میں اگست 2019کے بھارتی اقدامات کے اثرات پر بات کی۔
دوسری طر فماہر تعلیم، دانشور اور امن کارکن ڈاکٹر شیخ ولید رسول نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کے طرز عمل پر بھارتی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ انہوں نے کشمیری عوام کو دھوکہ دیاہے۔ ڈاکٹر شیخ ولید رسول نے یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں کہاکہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے جائیداد کے حقوق کو سلب کرنے اور ان کو بے اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیاسی جماعتوں کا اصل چہرہ بے نقاب کر تے ہوئے کہاکہ بھارتی حکومت کے اقدامات سے کشمیری عوام کا جذبہ آزادی ختم نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر پربھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرنے اور علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے لیے کشمیری عوام 5اگست کویوم ا ستحصال کے طورپر منائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن حق خود ارادیت کے لیے جاری کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کی یاد دہانی ہے جسے وہ اپنے حقوق کی خلاف ورزی اور اپنی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ولید رسول نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص ہندوتواکے نفاذ پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے جگہوں کے نام اور طلبا کے نصاب کو تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے کی بھی مذمت کی جسے وہ کشمیری عوام کی ثقافتی شناخت اور ورثے کو مٹانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی گروپوں پر وحشیانہ مظالم کے لیے بدنام ہٹلر نے بھی اس طرح خطوں کی ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جس طرح بھارتی حکومت کشمیر میں کر رہی ہے۔ انہوں نے اقلیتی برادریوں بالخصوص مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے حوالے سے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
ادھر پیس ایند کلچرل آرگنائیزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی ابتر صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دبا ڈالے۔
انہوں نے آج منائے جانے والے یوم استحصال کشمیر کے حوال سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت کشمیریوں کی شناخت پر حملہ آور ہے اور اس نے مقبوضہ علاقے کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر کے لوگوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مودی حکومت نے 5 اگست2019کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت چھین کر کشمیریوں کی شناخت پر ایک بڑا وار کیا، اس کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مشعال حسین ملک نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو غیر قانونی اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی تسلط میں کشمیریوں کی شناخت ، تذیب و تمدن شدید خطرے میں ہے ۔ مودی حکومت کشمیریوں سے انکا سب کچھ چھین کر انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے پر تلی ہوئی ہے۔مشعال حسین ملک نے کشمیر کاز کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔

یہ بھی پڑھیں