Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

قادیانی مقدمے کے متنازعہ فیصلے کا تفصیلی جائزہ

ملعون مبارک ثانی کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے أئین و دین سے متصادم فیصلے کے خلاف پاکستانی مسلمانوں میں غم وغصہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ، اور اگر متنازعہ فیصلے کو واپس نہ لیا گیا،یاپارلیمنٹ نے قادیانیوں کی ریلیف پر مبنی اس فیصلے کو ختم کرنے کے لئے متحرک کردار ادا نہ کیا،تو اسکے مضر اثرات بہت دور تلک جائیں گے،میری دانست میں متنازعہ فیصلہ صادر کرنے والے سپریم کورٹ کے معزز ججز کے بینچ سے 24 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کا اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی ، اور پھر جب ،جب آئینی منصب پر بیٹھا ہوا کوئی شخص آئین کی پاسداری کی بجائے غیر ملکی ایجنڈے کے تحت آئین اور قانون کے باغی قادیانی گروہ کی ناجائز طرف داری کرنے کی کوشش کرے گا تو 25 کروڑ عوام اسکا راستہ روکیں گے ،زیر نظر تحریر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا اعجاز مصطفیٰ کی ہے، مینارہ نور کی زینت اس نیت سے بنا رہا ہوں کہ شاید کہ اتر جائے کسی کے دل میں حق بات ،مولانا لکھتے ہیں کہ ۲۴ جولائی ۲۰۲۴ ء کا تازہ فیصلہ پچاس پیرا گراف اور اجزا پر مشتمل ہے ، جس میں ابتداءاً مفتی محمد حنیف قریشی کو جامعہ نعیمیہ کراچی کا نمائندہ لکھا گیا ، حالانکہ وہ اس کے نمائندے نہیں ، اور جناب حبیب الحق شاہ کو جامعہ دار العلوم کراچی کا نمائندہ لکھا گیا ، حالانکہ وہ جامعہ نعیمیہ کراچی کے نمائندے ہیں ۔
پہلے کے پیرگراف میں عدالت نے جو کچھ لکھا ، اس پر ہم عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان کی تحسین و توصیف اور اس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ لیکن ۶ : میں عدالت نے اس کیس کا جو پس منظر لکھا ہے ، وہ مدعی کے وکیل کے بقول ایف ۔آئی ۔آر کے جملہ مندرجات کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس لیے کہ مدعیٔ مقدمہ ایف ۔آئی ۔آر میں لکھواتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ۵ مارچ ۲۰۱۹ ء کو تمام اداروں کو حکم دیا کہ تحریف شدہ ترجمہ قرآن پاک چھاپنے والے ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے ، جس دن ہائی کورٹ کا یہ حکم آیا اس کے اگلے ہی دن یعنی ۶ مارچ ۲۰۱۹ ء کو قادیانیوں نے اعلان کر دیا کہ ۷ مارچ ۲۰۱۹ ء کو چناب نگر میں تفسیر ِ صغیر تقسیم کی جائے گی، مدعی نے پھر تھانے میں درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی ، ۷ مارچ ۲۰۱۹ ء کو قادیانیوں نے اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت نصرت جہان کالج کے گراؤنڈ میں کھلے عام تحریف شدہ تفسیر صغیر تقسیم کی ، قادیانیوں کی اس جسارت کے تمام ثبوت تھانے میں دیے گئے لیکن پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا اور کوئی کارروائی نہ کی ، اس پر عوامی احتجاج ہوا ، پولیس نے عوامی دباؤ کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنائی ؛ جس نے ہر زاویے سے اس کی تحقیق کی ، قادیانیوں کا جرم واضح ہونے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی بجائے ساڑھے تین سال بعد ۲۰۲۲ ء میں معاملہ ’’ پنجاب قرآن بورڈ ‘‘ کو بھیج دیا گیا۔دسمبر ۲۰۲۲ ء میں پنجاب قرآن بورڈ نے اس معاملے کے متعلق تمام دستاویزی ثبوت کا جائزہ لینے کے بعدضلعی انتظامیہ کو ایف ۔آئی ۔آر کاٹنے کا کہا ، ایک ماہ بعد تمام ملزمان میں سے صرف ایک ملزم مبارک احمد کو گرفتار کیا گیا جو مدرسۃ الحفظ کا پرنسپل اور اس تحریف شدہ قرآن کریم چھاپنے ، اس کی تبلیغ و تعلیم ، قرآن کریم کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنے ، مرزا بشیر الدین محمود کے لیے ’’ رضی اللہ عنہ ‘‘ لکھنے ، اپنےآپ کو مسلمان ظاہر کرنے، اور اہل ِ اسلام کے جذبات مجروح کرنے جیسے قبیح اور غیر قانونی جرائم کے ارتکاب میں شریک ِ کار ہے۔ گویا ملزم آئین و قانون کی رو سے پانچ جرائم کا مرتکب ہوا :
۱ : قادیانی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا ۔ ۲ : ’’ رضی اللہ عنہ ‘‘ کو مرزا کے بیٹے کے لیے استعمال کرنا ۔ ۳ : قرآن پاک کا مسلمانوں کے اجماعی عقیدے کے خلاف ترجمہ شائع کرنا ۔ ۴ : قرآن پاک کی غلط تفسیر شائع کر کے اہل ِ اسلام کے جذبات مجروح کرنا۔ ۵ : قرآن پاک کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ۔ایف ۔آئی ۔آر میں موجود ہے کہ مدعی نے تمام ملزمان کے نام دینے کے ساتھ استدعا کی کہ تحریف شدہ قرآن کریم چھاپنے سے لے کر تقسیم ہونے تک تمام معلوم و نامعلوم ملزمان ؛ پرنٹر ، پبلشر ، اوتھر (مصنف ) ، کمپوزر ، پروف ریڈر ، اور دیگر معاونین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ اس بناپر ایف ۔آئی ۔آر میں دفعہ : ۲۹۵سی ، ۲۹۵بی ، پنجاب قرآن ایکٹ ۲۰۱۱ ء کی دفعہ : ۷ اور ۹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ،جس پر سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ نے اس کو سزا دی اور اس کی درخواست ِ ضمانت کو مسترد کیا ۔ لیکن ہماری سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ملزم مبارک ثانی قادیانی جو بین شدہ تفسیر ِ صغیر چھاپنے سے لے کر اس کی غیر آئینی و غیر قانونی تقسیم تک تمام شریک ملزمان کی فہرست میں شامل رہا ، وہ صرف تقسیم کنندہ ظاہر ہو رہا ہے ۔ اس پر ۲۹۵سی اور ۲۹۵بی ختم کر کے صرف پنجاب قرآن ایکٹ ۲۰۱۱ ء کے تحت رکھا گیا ، چونکہ یہ ایکٹ ۲۰۱۱ ء مصنف ، طابع ، ناشر ، اور پروف ریڈر کے متعلق ہے اور اسی ایکٹ کے تحت تقسیم کنندہ کا نام ۲۰۲۱ ء میں شامل کیا گیا ، اور چونکہ یہ وقوعہ ۲۰۱۹ ء میں ہوا ہے ، گویا جرم پہلے ہوا اور قانون بعد میں بنا ، اس لیے عدالت نے کہا کہ اس کو ضمانت دی جاتی ہے ۔ حالانکہ اسی فیصلے میں بھی تقسیم ، اشاعت ساتھ ساتھ دونوں لکھے ہوئے ہیں ۔
پیرگراف ۷ میں لکھا ہے کہ : ’’ ایف ۔آئی ۔آر میں ملزم پر مجموعۂ تعزیرات کی دفعہ ۲۹۵ بی کا ذکر تو کیا گیا ہے ، لیکن ایف ۔آئی ۔آرکے مندرجات میں توہین ِ قرآن کا الزام نہ تو بلا واسطہ اور نہ ہی بالواسطہ لگایا گیا تھا ۔ ‘‘ اس بارہ میں عرض ہے کہ: ایف ۔آئی ۔آر میں ۲۹۵ بی ، ۲۹۵ سی اور آخر میں ۲۹۸ سی؛ تینوں دفعات کا ذکر ہے، اور تفسیر ِ صغیر میں کئی مقامات پر تحریف کر کے گویا قرآن کریم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی گئی ہے ۔ قانون کی نظر میں جس طرح کسی کو دھماکا خیز مواد دینا جرم ہے ، اسی طرح بم پکڑانا بھی جرم ہی کہلاتا ہے۔ جب ایف ۔آئی ۔آر میں بتایا گیا کہ تفسیر ِ صغیر ( جس میں جا بجا تحریف کر کے قرآن کریم کی توہین کی گئی ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی توہین کی گئی ۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں