(گزشتہ سے پیوستہ)
۱۱ : میں دس اداروں کے نام اور عدالت کی جانب سے انھیں نوٹس دیے جانے کا ذکر ہے ۔ ۱۲ : میں عدالت کی صراحت کہ فوجداری مقدمے میں نظر ِ ثانی کے موقع پر مقدمے کے اصل فریقوں کے سوا کسی کو فریق نہیں بنایا جا سکتا ، سوائے اس شخص کے جو مقدمے کے فیصلے سے براہ ِ راست متأثر ہو ۔ ۱۳ : میں فاضل ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ معترضہ حکم نامے میں آئین کی دفعہ ۲۰ کا حوالہ دیا گیا ،لیکن یہ حوالہ ادھورا ہے ، کیونکہ اس میں مذکورہ دفعہ کے ابتدائی الفاظ : ’’ قانون ، امن عامّہ ، اور اخلاق کے تابع ‘‘ نقل نہیں کیے گئے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی دلائل دیے کہ ایف ۔آئی ۔آرمیں مذکورہ حقائق کی بنیاد پر مسؤل الیہ نمبر : ۱ کے خلاف مجموعۂ تعزیرات کی دفعہ ۲۹۵ بی کی فردِ جرم عائد کی جا سکتی تھی ۔ شکایت کنندہ کےوکیل نے بھی یہ دلیل دی ۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس پیراگراف میں پہلی بات کہ :’’ دفعہ ۲۰ کا حوالہ ادھورا ہے ۔ ‘‘ کا جواب یہاں نہیں دیا گیا ، آگے جا کر دیا ہے ۔ دوسری بات کا جواب یہ دیا گیا کہ مسؤل علیہ نمبر : ۱ کے وکیل نے اعتراض کیا کہ نظر ثانی میں حکومت ِ پنجاب کی جانب سے صرف ایک استدعا کی گئی ہے ( کہ دفعہ : ۲۰ کا حوالہ ادھورا ہے ۔ ) اب وہ اس پر اضافہ نہیں کر سکتے ۔ گویا عدالت بھی مانتی ہے کہ دفعہ : ۲۹۵ بی کا اطلاق ہو سکتا تھا ، جس کا پہلے فیصلے میں اطلاق نہیں کیا گیا ۔ عوامی امنگوں کے مطابق جب نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا اور نظر ثانی کی استدعا میں چونکہ پنجاب حکومت نے صرف ایک ہی استدعا کی تھی ، اس لیے ۲۹۵ بی کی فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی ۔ گویانظر بظاہر قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر اور جواز بنا کر ملزم کو ضمانت دی گئی ۔ حالانکہ پاکستانی عوام کا تو مطالبہ ہی یہ تھا کہ قانون کے مطابق اور ایف ۔آئی ۔ آر کے مطابق اس مقدمے کا صحیح فیصلہ سنایا جائے ، اس فیصلے میں جو جو سقم اور کمزوریاں ہیں ‘ ان کو دور کیا جائے ۔ لیکن نظر ثانی میں بھی ان کا تدارک نہیں کیا گیا ۔ عدالت عظمیٰ کی اس بات سے تو یہ مترشح ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت کے فاضل ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل پنجاب نے اس مقدمے کو سنجیدگی اور بیدار مغزی سے پیش نہیں کیا ۔ اگر ایسا صحیح بھی ہو تو عدالت عظمیٰ سے یہ درخواست تو کی جا سکتی ہے کہ وہ مسؤل علیہ نمبر : ۱ کے فاضل وکیل سے کہہ سکتی تھی کہ جب ایف ۔آئی ۔آر میں دفعہ : ۲۹۵ بی کا ذکر ہے اور اس پر دلائل بھی دیے گئے ہیں تو ان دلائل کی روشنی میں دفعہ : ۲۹۵ بی کا اطلاق ہوتا ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں کوئی قانونی رکاوٹ تھی ، یا اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ اور یہ بھی کہا کہ : ’’ایف ۔آئی ۔آر وقوعے کے تقریباً تین سال بعد درج کی گئی ہے اور اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکا ۔ ‘‘تو گزارش یہ ہے کہ مذہبی معاملات میں ایف ۔آئی ۔آر کا ایسا پیچیدہ اور مشکل نظام بنایا گیا ہے کہ اس میں وفاقی سطح کا افسر جب تک محل ِ وقوع کا معائنہ نہ کر لے یا جب تک وہ اجازت نہ دے تو ایف ۔آئی ۔آر نہیں کاٹی جا سکتی۔
اس مقدمے میں بھی مدعی وقوعے کے دن سے مسلسل افسران بالا کو درخواستیں دیتا رہا لیکن شنوائی نہ ہوئی ، حتّٰی کہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد پولیس جے آئی ٹی بنی اور پھر پنجاب تحفظ ِ قرآن بورڈ کی طرف سے اس کو بھیجا جانا اور ان کی طرف سے انتظامیہ کو حکم دیا جانا ، اس میں اتنی تاخیر ہوئی ۔ گویا تاخیر کی وجوہات مقدمے کی فائل میں درخواستوں کی صورت میں موجود ہیں ، لیکن شاید ان کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔ ۱۴ : ۔۔۔ میں ناشر کے مفہوم میں تقسیم کنندہ شامل ہے یا نہیں ؛ اس پر بحث کی گئی ہے ۔۱۵ : میں شکایت کنندہ کی جانب سے تفسیر ِ صغیر تقسیم کیے جانے کی بنا پر اس پر غیر قانونی مقصد کا اطلاق ہونے کا ذکر ۔ مسؤل علیہ نمبر ۱ کے وکیل کی جانب سے ’’طاہر نقاش بنام ریاست ‘‘ مقدمے کا حوالہ دیا گیا ، حالانکہ پیرا گراف : ۴۱ میں عدالت نے لکھا ہے کہ اس مقدمے میں احمدی ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے اپنی عبادت گاہ کے اندر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا اور قرآن مجید کے نسخے رکھے تھے ۔الخ لیکن سوچنا چاہیے کہ اس مبارک ثانی مقدمے میں اس ملزم پر تحریف شدہ تفسیر صغیر تحریر کرنے ، چھاپنے سے لے کر تقسیم کرنے تک کے الزامات ہیں ۔ ’’ طاہر نقاش بنام ریاست ‘‘ مقدمے پر اس کو قیاس کرنا صحیح نہیں ۔ ۱۶ : میں دس اداروں کو نوٹس دیے گئے ، ان کے نام اور ’’ المورد ‘‘ کا بحیثیت ِ ادارہ کوئی مؤقف نہ ہونے کا ذکر ۔ ۱۷ : میں لکھا ہے کہ : ’’ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ : عدالت نے اسلامی عقیدے کو محض ’’ قرآن ‘‘ پر مبنی قرار دیا ہے ، یہ ناقص بات ہے ۔
اسلامی عقائد ’’ قرآن اور سنت ‘‘ دونوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ‘‘ اس پر عدالت نے کہا کہ : ہم نے ایسا نہیں کہا ۔ کونسل نے معترضہ فیصلے میں آیات کو بے محل قرار دیا اور کہا کہ :’’ اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ جہاں غلط کام ہو رہا ہو تو مسلمان اس کو شرعی وقانونی طریقوں سے نہ روکیں۔ ‘‘ اس پر عدالت نے کہا کہ : کسی کو شرعی و قانونی طریقہ اختیار کرنے سے روکا نہیں تھا اور نہ ہی ایسا حکم دے سکتے ہیں ۔ عدالت نے لکھا کہ کونسل نے دین کے معاملے میں جبر کی ممانعت کو تو تسلیم کیا مگر اسے اس حد تک محدود کر دیا کہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ راقم الحروف اس پر عرض کرتا ہے کہ اس کا دائرہ محدود کونسل نے نہیں کیا بلکہ مفسرین نے اس آیت کا اپنی تفاسیر میں محدود دائرہ ہی ذکر کیا ہے ، اور اس کو عدالت عظمیٰ نے ’’ مجیب الرحمٰن بنام ریاست ‘‘میں بھی واضح کیا ہے ، جیسا کہ فیصلے کےنمبر : ۲۰ میں ’’ مجیب الرحمٰن بنام ریاست ‘‘ فیصلے کے تحت چند اقتباسات بطور حوالہ نقل کیے جائیں گے ۔
(جاری ہے)