پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کااعادہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہاکہ رواں ہفتے کے شروع میں پاکستان کے عوام اور حکومت نے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے پانچ اگست 2019 ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر یوم استحصال منایا۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قیادت کو خطوط لکھ کر ان کی توجہ 5 اگست 2019 سے بھارتی اقدامات کے سنگین نتائج کی طرف مبذول کرائی اور اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
دوسری طرف نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو توا حکومت نے جس نت نئی قانون سازی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کا واحد مقصد مسلمانوں سے انکا سب کچھ ہڑپ کرنے کے علاوہ مقبوضہ جموںوکشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کو تقویب دیناہے۔
سرینگر میں قانونی ماہرین نے بھارتی جبر کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیا جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ انہوںنے کہا کہ دراصل اس بل کا مقصد مسلمانوں کی وقف املاک پر قبضہ جمانا ہے ۔ اس بل کے تحت بعد ازاں مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھی مسلمانوں کی وقف املاک چھین لی جائیں گی۔
انہوںنے کہا کہ دراصل مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی جو غیر قانونی کارروائی کی اسکا بنیادی مقصد ہی علاقے کے مسلمانوں کی شناخت ، گھر، زمینیں اور دیگر املاک چھیننا تھا۔
انہوںنے کہا کہ مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فورا بعد یہاں کے ڈومیسائل قوانین میں ترمیم کی اور لاکھوں بھارتی ہندوں کو علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس فراہم کیے۔قانونی ماہرین نے کہا کہ بی جے پی حکومت اس اقدام کے ذریعے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے ، بھارتی حکومت علاقے میں مسلم اکثریت کو ختم کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے، وہ کشمیری سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر رہی ہے تاکہ انہیں معاشی طور پر مفلوک الحال بنایا جاسکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں جس طرح کے اقدامات کر رہا ہے وہ نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ متنازعہ خطوں کے بارے میں عالمی قوانیں کی بھی صریخ خلاف ورزی ہے۔ انہوںنے کہا کہ عالمی برادری جموںکشمیر کو ایک متنازعہ خطہ تسلیم کرتی ہے جس کے مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا باقی ہے
ادھر غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل پیش کرنے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت نے اس بل کو باضابطہ قانونی شکل دینے کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا ہے ۔
مرکزی جامع سرینگر میں نماز جمعہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اس ترمیمی بل میں کئی متنازعہ دفعات تجویز کی گئی ہیں جن کے تحت اب غیر مسلم بھی وقف بورڈ کا حصہ ہو سکتے ہیں اور کسی غیر مسلم کو وقف بورڈ کاسربراہ بھی بنایا جاسکتا ہے جبکہ موجودہ وقف ایکٹ میں کسی کو وقف بورڈ ذمہ دار بنانے کیلئے اس کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی بیشتر مساجد ، درگاہیں ، خانقاہیں اور امام بارگاہیں وقف بورڈ کے تحت آتے ہیں اور بہت سی وقف مساجد سینکڑوں سال پرانی ہیں اور بعض کے پاس ضروری دستاویزات بھی موجود نہیں ہیں تو کیا ان سب کو سرکاری املاک تصور کیا جائیگا؟۔ انہوں نے کہاکہ دراصل مودی حکومت اس طرح کے امتیازی قوانین کے ذریعے وقف بورڈ کے بنیادی مقاصد کو ختم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف اراضی کی حتمی حیثیت کے حوالے سے اس بل میں ضلع کلکٹر یعنی ڈی سی کو اختیارات حاصل ہونگے اور وہی اس بات کا مجاز ہوگا کہ یہ زمین سرکاری ہے یا وقف بورڈ کی۔ انہوںنے کہاکہ دراصل اس طرح کے متنازعہ اور امتیازی قوانین کو بھارتی حکومت مسلمانوں کو کمزور اوراپنے مذموم انتخابی مقاصد کیلئے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔میرواعظ نے مودی حکومت کی جانب سے کئے جانیوالے انتقامی اقداما ت سے چوکنا رہنے ، قومی اور ملی مفادات کا ہر ممکن تحفظ کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پرزوردیا ۔انہوںنے کہاکہ اگر مودی حکومت ان امتیازی قوانین کو پاس کرتی ہے تو جموںوکشمیر کے مسلمان اس کے خلاف ہرممکن احتجاج کریں گے۔ انہوںنے مزیدکہاکہ اگر ضرورت پڑی تو اس حساس معاملے پر جلد ہی متحدہ مجلس علما ء کا اجلاس طلب کیا جائیگا۔