Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بھارتی یوم آزادی پر کشمیریوں کا یوم سیاہ منانے کا اعلان

پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کی آزادی کا جشن مناتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط سے آزادری کیلئے کوشاں ہیں۔ جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں چٹان کی طرح کھڑے ہیں، ہم انہیں اپنی ہر طرح کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی تعاون کا بھرپور یقین دلاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ چاہے روایتی یا غیر روایتی جنگ ہمارا جواب تیز اور دردناک ہوگا، ہم یقینا گہرا اور دور رس جواب دیں گے۔
دوسری جانب کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری آج بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیںگے۔ یوم سیاہ منانے کا مقصد بھارت کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ کشمیری اس کے غیر قانونی تسلط کے مسترد کرتے ہیں اور وہ اپنی آزادی کے مقدس مشن کی تکمیل تک اپنی جدوجہد ہرقیمت پر جاری رکھیں گے۔ یوم سیاہ منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی ہے ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ ، شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان نے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنا یوم آزادی منانے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ اس نے جموں وکشمیر پر کشمیریوں کی مرضی کے خلاف محض فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اسیر رہنمائوں نے حق خود ارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی آزادی کی منزل حاصل کر لیں گے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے دیگر رہنمائوں نے بھی سرینگرمیں اپنے بیانات میں کشمیریوںپر زور دیا ہے کہ وہ آج بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری گزشتہ 77 برس سے حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بھارت نے انکا یہ حق فوجی طاقت کے بل پر دبا رکھا ہے ۔ انہوںنے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دبا ڈالے۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹرز بھی چسپاں کیے گئے ہیں۔ پوسٹروں میں تحریر ہے بھارت نے 1947ء میں جموں وکشمیر پر طاقت کے بل پر قبضہ جما لیا تھا، کشمیری اسکے قبضے کو رد کرتے ہیں اور اپنی آزادی کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ کئی کشمیریوں نے کہا کہ بھارت مظالم کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا، کشمیری 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی حکومت کے غیر قانونی اقدام کو بھی مسترد کرتے ہیں اور وہ بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے آج بھارتی یوم آزادی پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔سرینگر اور دیگر چھوٹے بڑے قصبوں میں بھارتی فورسز کے اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ فورسز اہلکاروں ، گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی بڑے پیمانے پر تلاشی لے رہے ہیں۔ سرینگر کے بخشی سٹیڈیم جہاں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد تقریب ہوگی‘ کو بھارتی فوجیوں، پیراملٹری اہلکاروں نے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کیے گئے ۔
بھارتی یوم آزادی کشمیریوں کے مزید مشکلات و مسائل کا باعث بنتا ہے ۔ محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں نے کشمیریوں کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ کشمیریوں ہربرس بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر بھارت کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ اسکے جابرانہ تسلط کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے بھارتی یوم آزادی پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ادھر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیر بار ایوسی ایشن کے سابق صدر میاں عبد القیوم سمیت کئی آزادی پسند رہنمائوں کی ملکیتی 159 کنال اراضی قبضے میں لے لی ہے۔ یہ راضی سرینگر کے علاقے برزلہ میں قبضے میں لی گئی ہے۔ مودی حکومت قبضے میں لی جانے والی اراضی پر مندر کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مودی حکومت کشمیریوں کی املاک ہتھیانے کیلئے اپنی عدلیہ کا استعمال کر رہی ہے، مقبوضہ علاقے کی ہائی کورٹ نے منگل کے روز ڈپٹی کمشنر سری نگر کو برزولہ سرینگر میں رگھو ناتھ جی مندر کی تعمیر کے لیے 159 کنال سے زائد اراضی قبضے میں لینے کے احکامات دیے تھے۔قبضے میں لی گئی اراضی میں میاں عبدالقیوم اور انکے چار بہن بھائیوں کی ملکیتی چھ کنال سے زائد ارضی شامل ہے ۔بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے کی مسلم شاخت کو ختم کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے۔وہ کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک کو مسلسل قبضے میں لے رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں