Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بھارتی یوم آزادی اوربیرون ممالک میں کشمیریوں کا احتجاج

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی سرزمین پر طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ مقبوضہ علاقے میں یوم آزادی کی تقریبات کے انعقاد کو کوئی حق نہیں رکھتا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں غلام محمد خان سوپوری، مولانا مصعب ندوی، فیاض حسین جعفری اور سبط شبیر قمی نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ بھارت نے 1947ء میں تقسیم برصغیر کے منصوبے او ر کشمیریوں کی خواہشات کو پامال کرتے ہوئے جموں وکشمیر پر قبضہ جما لیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیریوںنے بھارتی قبضے کو یکسر مسترد کر رکھا ہے اور وہ اپنی آزادی کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے 1947ء سے اب تک لاکھوں کشمیریوں کو قتل اور ہزاروںکو لاپتہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو مکمل طور پر ایک فوجی چھانی میں تبدیل کر کے کشمیری مسلمانوں کے تمام سیاسی ، معاشرتی ، معاشی اور دینی حقوق سلب کر رکھے ہیں ۔ حریت رہنماں نے کہا کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے۔
انہوںنے کہا کہ کشمیریوں کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق، حق خود اریت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا نہ صرف عالمی برادری بلکہ بھارت نے بھی ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوںنے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دلانے کے لیے اس پر دبا ئو ڈالے۔
دریں اثنا مقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقے میں پوسٹر بھی چسپاں کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے بھارت نے جموں کشمیر پر کشمیریوں کی مرضی کے خلاف قبضہ کر رکھا ہے، بھارت جموں و کشمیر میں اپنا یوم آزاد ی منانے کا کوئی حق نہیں رکھتا، کشمیری حق خود ارادیت کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، بھارت کشمیریوں کو انکا غصب شدہ حق دینے کے بجائے انہیں طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر برسلز میں کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام بھارتی سفارتخانے کے سامنے ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کا اہتمام کشمیرکونسل یورپ نے کیاتھا جس میں بڑی تعداد میں بلجیم سمیت یورپ میں مقیم کشمیریوں اور انکے ہمدردوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیرپر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بھارتی مظالم کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت میں نعرے لگائے۔کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین علی رضاسید نے اس موقع پر کہا کہ بھارت نے کشمیریوں پر مظالم کی انتہاکردی ہے۔ گذشتہ چند برس سے مقبوضہ کشمیرکے عوام کے خلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہواہے اور اسی وجہ سے مظلوم کشمیری گونا گون مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام اہم کشمیری سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن نظربند اور گرفتار ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے اور مقبوضہ وادی کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے کشمیریوں کی منفرد شناخت مٹانے کے درپے ہے۔علی رضا سید نے کہاکہ ہم بھارتی مظالم کے خلاف اور جموں و کشمیرکی آزادی کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہے اور ہم بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے ۔ انھوں نے کہاکہ ہم اس وقت تک بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ مناتے رہیں گے، جب تک جموں و کشمیرکو بھارت سے آزادی مل نہیں جاتی۔علی رضا سید نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم بند کروائے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔مظاہرے میں چوہدری خالد محمود جوشی، ملک محمد اجمل، شیراز بٹ، سردار صدیق، حاجی پرویز، مرزا شبیر، راجہ خالد، زاہد بھدر، سلیم میمن، شازیہ اسلم، سید زاہد شاہ، ظہیرزاہد، راجہ مجاہد اور مہرندیم اور دیگر نے بھی شرکت کی ۔
ادھر امریکہ میں انسانی حقوق اور بین المذاہب تنظیموں کے ایک اتحاد نے آج نیو یارک شہر میں انڈیا ڈے پریڈ میں متنازعہ رام مندر کے فلوٹ کی شمولیت پر سخت تنقید کی ہے۔ اتحادنے جس میں انڈین امریکن مسلم کونسل، ہندوز فار ہیومن رائٹس اور کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز جیسے گروپ شامل ہیں،پریڈ میں میں رام مندر کے فلوٹ کو شامل کئے جانے پر نیویارک سٹی ہال کے باہر ایک پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز کی جانب سے متنازعہ فلوٹ کی پریڈ میں شمولیت کی مذمت کا خیرمقدم کیااور ان پر زوردیاکہ وہ پریڈ میں رام مندر کے فلوٹ کوشامل نہ کئے جانے کیلئے اقدامات کریں۔میئر ایڈمز نے کہا کہ نیویارک شہر میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ نفرت کو فروغ دینے والے کسی فلوٹ یا شخص کو ہرگز پریڈ میں شامل نہیں کیاجانا چاہیے۔ نیویارک میں انڈین قونصلیٹ اور ہندو انتہاپسند تنظیم وشوا ہندو پریشدکی امریکہ شاخ نے رام مندری کا متنازعہ فلوٹ پریڈ کیلئے تیار کیا ہے۔ ہندوز فار ہیومن رائٹس کی طر ف سے جاری ایک بیان میں کہاگیاہے کہ رام مندر کے متنازعہ فلوٹ سے بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی اور عدم برداشت کے رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔بلیک لائیوز میٹر گریٹرنیویارک اور سکھ کولیشن سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندے بھی پریس کانفرنس میں موجودتھے ۔ انہوں نے فلوٹ کو تشدد اور نفرت کی علامت قراردیا۔
واضح رہے کہ متنازعہ رام مندر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ پر قائم کیاگیاہے۔ مسجد کو 6دسمبر 1992کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہندوانتہاپسندوں منہدم کر دیا تھا۔ مسجد کی شہادت کے بعد شمالی بھار ت میں بڑے پیمانے پر پرتشدد فسادات کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بیشتر مسلم تھے ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں سال لوک سبھا انتخابات سے قبل اپنے سیاسی مفاد کیلئے شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح کیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں