جانا تو ٹھہر ہی گیا تھا،یہ طے کرنا باقی تھا کہ کہاں جانا ہے اور پھر فاطمہ بیٹی نے سکردو کے جہاز کا ٹکٹ بک کرا کر میسج کردیا ،تاہم پہلا پڑائو شہر اقتدار تھا جہاں خوبصورت نظموں کے شاعر ڈاکٹر خلیق دیدہ ودل فرش راہ کئے ہوتے ہیں اور اپنے سوا کسی کے یہاں قیام ہی نہیں کرنے دیتے ۔
تین دن اور دوراتیں خلیق کے یہاں گزریں جہاں ان کے بڑے بھائی شفیق اور سہیل کی دو یاد گار ضیافتوں کا اپنا مزہ تھا اور 12 اگست کی صبح سکردو روانہ ہو ا ، ایک گھنٹے کی مختصر پرواز کے دوران ناران کے اوپر سے گزرتے ہوئے ناگا پربت کا دلکش نظارہ اور دیگر خشک و سرسبز پہاڑی سلسلوں سے گزرتے ہوئے پہاڑوں کے بیچ سکردو ایئر پورٹ پر اترے تو اپنے گرد ایک جادوئی مناظر کا سا ناقابل بیان احساس رگ جاں میں سرایت کر گیا مگر یہ سب اس وقت ایک اذیت میں تبدیل ہوگیا جب سامان سفر کے مشین تک پہنچنے میں پورا ایک گھنٹہ لگ گیا باہر میرا گائیڈ سجاد آنکھیں بچھائے شدت سے میرا انتظار کر رہا تھا ۔
سد پارہ کہکشاں(معروف کوہ پیما خاندان) کا ایک ستارہ جس کے والد عباس سدپارہ سکردو کے سب سے قابل اعتماد ٹریکنگ اور پاسنگ کے ماہر ہیں جو اپنی باون سالہ عمر میں سینکڑوں ٹریولرز کو کامیابی کے ساتھ ٹریکنگ اور پاسنگ کرواچکے ہیں ۔
عباس سدپارہ کا ہونہار بیٹا ایسوسی ایٹ انجینئر سجاد سدپارہ میرے لئے نعمت سے کم نہ تھا سکردو کے تمام تر پہاڑی سلسلوں اور تاریخی مقامات کی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا اور حسن اخلاق کا پیکر سعادت مندی کی جیتی جاگتی تصویر۔
سکردو کے بازاروں میں زندگی پورے جوش کے ساتھ دکھائی ،ہاں مگر اس کی مہنگائی کو بھی ایک پہاڑ کی طرح سر کرنا پڑتا ہے ۔ہوٹلز کے ہوش ربا کرائے اور تاریخی و تفریحی مقامات پر جانے والی گاڑیوں کے دل تھام لینے والے کرائے جیب پر ہی نہیں دل و دماغ پر بھی بوجھ بن جاتے ہیں ۔سکردو شہر کے دل میں موجود ہوٹل موباشبرم جس کے روم کی عقبی ٹیریس کی طرف کھلنے والی کھڑکی جیسے جنت کا در وا کردیتی ہے اور یہی نظارہ کنکارڈیا کے ٹیریس سے دکھتا ہے۔
سکردو سے شگری کی طرف جاتے ہوئے حسین آباد آتا ہے جہاں شمالی پاکستان کے نامور ادیب، دانشور، محقق اور مترجم قرآن پروفیسر محمد یوسف حسین آبادی کا کئی ایکڑوں پر مشتمل میوزیم ہے جس کے ہر کونے میں تاریخ بکھری پڑی ہے ۔اس میوزیم میں زمانہ قدیم کے عام گھروں اور راجائوں کے محلات میں استعمال ہونے والے سینکڑوں مختلف نوعیت کے برتن اور بڑی تعداد میں جنگی ہتھیار کثیر تعداد میں موجود ہیں ،ان کے علاوہ رانیوں اور ان کی بیٹیوں کے پہنائوے اور زیوارات۔صدیوں پرانی لکڑی پرکندہ نمونے اور چوبی دروازوں پر بنے دل موہ لینے والے ڈیزائن، وسیع و عریض اراضی پر مشتمل اس میوزیم کے ایک پہلو میں چڑیا گھر ہے جس میں رنگ برنگی پرندوں کے علاوہ ٹرکی،مور اور دیگر بڑے چھوٹے پرندے اور جانور تک موجود ہیں ۔
آنریری پروفیسر ایمریٹس یونیورسٹی آف بلتستان سکردو کے پروفیسر محمد یوسف حسین آبادی نے بلتستان کی قدیم و جدید تاریخ پر ’’تاریخ بلتستان‘‘نام کی کتاب بھی لکھی ہے جس میں بلتستان کے عوام کی اس مزاحمتی جدوجہد کا ذکر ہے کہ انہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف آزادی کا علم بلند کر کے سرفروشی کی مثالیں قائم کرتے ہوئے خود کو ڈوگرہ راج کے پنجہ استبداد سے آزاد کرالیا اور پاکستان کا اٹوٹ انگ بن گئے ۔
اپنی کتاب میں مصنف نے بلتستان کے جغرافیائی حالات کے ساتھ ساتھ بلتی زبان و رسم الخط ، بلتی شاعری، بلتی شعرا،بلتی لوک گیت ،موسیقی اور قدیم کہانیوں اور داستانوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ،آثار قدیمہ ،صنعت و حرفت اور خطے کے رسم و رواج پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ان تاریخی و تہذیبی خدمات کے صلہ میں انہیں حکومت کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی بھی دی جاچکا ہے ۔
حسین آباد سے شگری کی طرف روانہ ہوئے تو سکردو کی تاریخ میں دلچسپی کا احساس دو چند ہوچکا تھا اور پھر شگری کے راستے میں کولڈ ڈیزرٹ جہاں کچھ دیر رکے اور وہاں کے چار سو پھیلے حسن سے جسم و روح میں تازگی اترتی چلی گئی ۔پیرانہ سالی کی اس عمر میں لمبے اور پہاڑی سفر میں تھکن کا احساس تک نہیں ہورہاتھا ۔
شگری فورٹ راجوں مہراجوں کا ایک اور قلعہ جو کافی اونچائی پر موجود تھا جس کی تنگ و تاریک راہداریاں اور تہہ در تہہ کمروں کی فضا اس امر کی غمازی کر رہی تھی کہ قلعہ کے مکین کس خوف میں زندگی بسر کرتے تھے کہ کوئی ان کی نام نہاد راحت و سکون والی زندگی کو پل بھر میں ملیا میٹ نہ کردے ۔ان کے آہنی ہتھیار جو صدیوں کے زنگ سے اپنا رنگ و روپ بدل چکے تھے ان میں ان کا ڈر اور خوف چیخ چیخ کر ان کی بے بس زندگی کی تاریخ بیان کر رہا تھا۔
ایک ڈرائیور ایک گائیڈ کی معیت میں اگلے روز خپلو قلعہ کی جانب روانہ ہوئے ،چاروں اونچے سنگلاخ پہاڑ اور بہت نیچے بہتی ہوئی صاف و شفاف پانی کی تیز لہریں ۔پورے وجود پر موت کاخوف طاری دلوں میں دھڑکا کہ کسی پل ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص سے ذرا سی غفلت ہوگئی تو زندگی ان کہساروں میں بہتے تیز پانی میں ایسی گم ہوگی کہ کوئی پتہ ہی نہیں پاسکے گا۔
کہساروں کے اس سفر کی داستان ابھی باقی ہے۔خپلو فورٹ ، منٹھوکا،اپر کچورا، شنگریلا، سکردو میں شرح تعلیم اور اس پر 80سالہ ڈاکٹر سکندر کا ذکر جنہوں نے ایک پہاڑی پر سرمک گائوں میں اپنی والدہ اور والد کی یاد میں ’’زبیدہ خالق میموریل فری ہسپتال‘‘ قائم کر رکھا ہے۔
( جاری ہے)