Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

’’سکردو میں کچھ دن2….‘‘!

(گزشتہ سے پیوستہ )
دور دراز شمالی علاقہ جات میں بکھرے حسن وجمال کو بیان کرنے کے لئے کسی کلاسیکل داستان نگار کاقلم چاہیئے یا عصر حاضر کے سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کا طرز احساس کہ جنہیں ہر گام پر کوئی نہ کوئی پری وش مل جاتی ہے جو کئی منزلیں ان کی ہم سفر رہتی ہے اور جب بچھڑ جائے تو اس کے ہجر میں جس حسن کاری سے وہ ہجرو وصال کا افسانہ لکھتے ہیں وہ بھی کمال ہوتا ہے وہ پڑھنے والے کو حقیقت کے قریب تر کر دیتے ہیں ۔
میں تو اپنے ملک کے حسن کو پہاڑوں کے بیچ پھیلے حسین مناظر میں تلاش کرتا اور پاتا رہا جو ان علاقوں کی ننھی منی پریوں میں ملا جو اپنے نرم و نازک کندھوں پر بستے اٹھائے اسکول جارہی ہوتیں ۔میں اچانک زمین کے بارے میں سوچنے لگ جاتا ہوں ،یہ ہمارے قدموں تلے قید ہے یا ہم دائمی طور پر اس کے حصار میں ہیں ۔سمندروں سے لے کر مائونٹ ایورسٹ اور کے ٹو تک سب اسی نقطے میں قید ہیں اور اسی نقطے پر ’’ورڈ ٹور‘‘لگتے ہیں۔
یہ پہاڑی وادیوں میں گھری آبادیاں اور ان میں قائم تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی شہزادیاں ،میں نے استفسار کیا تو معلوم ہوا سکردو شہر میں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے اور ان پربتوں میں تعلیمی شرح چالیس فیصد سے زیادہ ہے ۔یہ نقطہ (زمین) جو 8۔7 انسانوں پر مشتمل ہے یہ سب اس نقطے ہی کے قیدی ہیں ۔گھومتے ہوئے پہاڑ ی رستوں کے بیچ ایسے لگتا ہے جیسے زمین غم ہوگئی ہو ، دور پہاڑوں پر پڑی سورج کی روشنی یہ بتارہی ہوتی ہے کہ نظام شمسی موجود ہے وہ نظام شمسی جس کا 8۔99 فیصد وزن اکیلے سورج ہی نے اٹھایا ہوا ہے وہ سورج جس میں ہماری زمین جیسی تیرہ لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں.اب ہم خپلو کی طرف روانہ ہیں جو قدیم دور سے لدا کو بلتستان و دیگر علاقوں سے ملا رہا ہے ۔یہیں سے سیاچن کو راستے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی دفاعی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔
انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق خپلو گلگت بلتستان کے چھ اضلاع میں سے ایک ضلع گانچھے کا صدر مقام پر اور لوگ پورے ضلع گانچھے خپلو کہتے ہیں۔سکردو سے 103کلومیٹر مشرق کی جانب سلطنت بیگو کا یہ پایہ تخت ہوتا تھا ،جہاں کے لوگ بلتی زبان بولتے ہیں اور خوشگوارحیرت یہ ہے کہ بڑے ہو ں یا چھوٹے سب اردو زبان سمجھتے اور روانی سے بولتے ہیں۔
بعض لوگ خپلو کو وادی وادی شیوک بھی کہتے ہیں جس کی وجہ وہ دریا ہے جس کا نام شیوک ہے۔جو اس کی ذیلی وادی چھورہٹ سے بہتا ہوا تقریباً پوری سے گزر کر کھر منگ کے مقام پر دریائے سندھ میں جاگرتاہے۔پورے ایک ہزار کا پر آدمی داخلہ ٹکٹ لے کر قلعہ کے اندر داخل ہوئے یوں لگا اس کے ہر ہر کونے میں راجائوں کے راز دفن ہیں ،را نیوں کے استعمال کے بھاری برتن اور دیگر سامان خوردونوش ان کے رسم و رواج کے عکاس تھے ۔ان کے رہنے سہنے کے طور طریقے عیاں ہوتے ہیں اوپر سے نگاہ دوڑائیں تو حد نگاہ تک امرود،خوبانی ،ناشپاتی،سیب اور اخروٹ کے ثمر سے خالی مگر سرسبز درختوں کے جھنڈ کے جھنڈ آپس میں سر دیئے کھڑے ہیں کہ سوائے سیبوں کے تمام پھلوں کا موسم لد چکاتھا یوں اگر ہوتے بھی تو کسی کو توڑنے تو کیا چھونے تک کی اجازت نہیں ہے ۔
تعلیم کی شرح یہاں خوب ہے مگر غربت کا بسیرا ویسے ہی ہے جیسے راجائوں کے زمانے میں تھا۔ عام لوگ راجوں کو زرعی ٹیکس اور مال مویشیوں پر ٹیکس ادا کرنے کے پابند تھے جس سے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ان کی جان چھڑائی۔
1983 ء میں راجہ خپلو کا انتقال ہوا تو خپلو قلعہ خستگی کی وجہ سے مسمار ہونا شروع ہو گیا ،آغاخان ٹرسٹ فار کلچر نے 2005 میں فنڈز جاری کئے تو اس کی تزئین وآرائش کا اہتمام ہوا ۔تاہم 2011 ء میں خپلو فورٹ کو ایک ہوٹل نے کرائے پر لے کر اس میں ریسٹورنٹ قائم کیا جس میں ہم جیسے لوگ پائوں دھرتے ہوئے لرز جاتے ہیں ، اس قدر مہنگا کہ اللہ کی پناہ !
خپلو فورٹ سے تھکے تھکے سے نیچے اترے ، ہماری اگلی منزل سکردو سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی خوبصورت ترین آبشار منٹھوکھا تھی۔180 فٹ بلندی پر ،سردیوں میں جس کا پانی نیچے گرتے گرتے برف بن جاتا ہے ،ایک خوبصورت ترین منظر ،یہ آبشار کٹھن راستے پر نہیں ہے البتہ آبشار تک پہنچنے کے راستے میں لکڑی کا ایک ہچکولے کھاتا ہوا پل ہے جسے عبور کرنا اس لئے مشکل ہوجاتاہے کہپارکرتے ہوئے بعض منچلے نوجوان شرارت کے طور پر پل کو ہلانا جلانا ضروری سمجھتے ہیں یوں عورتیں اور بچے تو چیخ و پکار سے احتجاج کرتے ہیں اور ہم جیسے ڈھلتی عمر کے لوگ دعائوں کی لاٹھی کے ذریعے چپ چاپ پار ہوجاتے ہیں ۔
آبشار سے گرتے پانی کے نیچے کھڑے ہونا کسی کی مجال نہیں مگر گورے اور گوریاں اور کچھ ہمارے شوخے نوجوان کپڑوں سمیت ارد گرد گرتے ٹھنڈے میٹھے پانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس موقع پر بچوں کی چیخوپکار بھی دیدنی ہوتی ہے جو خوشی اور خوف کے ملے جلے جذبات میں گندھی ہوتی ہے ۔
دیر تک اس منظر کو رگ جاں میں اتارتے اتارتے وقت کا احساس نہ رہا ،تب نوجوان گائڈ سجاد سدپارہ نے مسافت کے راستے میں پھیلتے اندھیرے کی نشاندہی کی مگر وہ بڑا پتھر تو دیکھنا ہی تھا جس پر 2020 ء میں معروف مصور اور مجسمہ ساز ڈاکٹر خلیق نے ایک پھول کندہ کیا تھا اور اب کے برس وہ اس پھول پر ایک چڑیا کھود کر گئے ۔ڈاکٹر خلیق ہمارے پنجاب کا اثاثہ اور پاکستان کا فخر جو میل انفر ٹیلیٹی(مردانہ بانجھ پن ) میں پی ایچ ڈی ہیں اور ان کے ہاتھ میں اللہ نے پتھر کو خوبصورت شکلیں عطا کرنے کا فن بھی عطا کیا ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں