صحافی وہ ہوتا ہے جو اپنی معروضی صورت حال کا عہد نامہ تحریر کررہا ہوتا ہے اور سچا صحافی وہ ہوتا ہے جو عہد کے حق پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہوتا اور مہر لگانے کے لئے وہ ایسی روشنائی استعمال کرتا ہے جو انمٹ ہوتی ہے ۔مگر آج صورتحال میں سچ کہنا بھی تو اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک آدمی کا رسی پر چلنا۔رسی بھی وہ جو گہرے دو دریائوں کے بیچ تنی ہوئی اور جس پر سے پھسلنا سیدھا موت کے منہ میں چلے جانے کے مترادف ہوتا ہے ۔البتہ وہ صحافی جو آدھوراسچ بولنے کی مہارت رکھتے ہیں یا جنہیں لگی لپٹی کہنے کا ہنر آتا ہے وہ رسی پر چل رہے ہوں تو ان کی رسی کے گرد بچائو کرنے والوں کا پہرہ ہوتا ہے۔
ہم جیسے لوگ جو کہانی کاری کی دنیا سے صحافت کے دشت میں قدم رکھتے ہیں ،جنہیں علامت اور تجرید کے پیرائے میں بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے وہ بات کی بابت اشارے کنائے یا استعاروں کی مدد سے آگہی کے در پر دستک دینے کی سعی کرتے ہیں اور کبھی جو گرفت میں آجائیں تو کوئی انہیں وعدہ معاف گواہ نہیں بنا سکتا۔
آج کل جنرل فیض حمید کے بارے یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے پر دھیان دیا جارہا ہے اور کپتان نے خو د بھی اس امر کی تصدیق کی ہے ،تو سچی بات یہ ہے کہ اس حد تک پہنچنے کے لئے اور بہت سارے لوگوں کے شریک جرم ہونے کے پنجرے کھلیں گے جن کی اس حکومت کی تاب نہیں جس کے اپنے کرتا دھرتا سر تا پائوں ایسی بے اعتدالیوں میں ملوث ہیں کہ ان کی ایک دوسرے کے خلاف رنجشوں کی داستانیں ہی ختم ہونے والی نہیں ہو ں گی ۔کو ئی گوجرانوالہ کا ہوگا تو آغاز داستاں وہاں سے کرے گا اور کوئی کسی اور بند گلی سے گزر کر آنے کا دعویٰ کر بیٹھے گا اب ثبوت تلاش کرنے کی ذمہ داری نیب کے کندھوں پر ڈالی جائے گی جس کے اپنے پائوں ریت پر ہیں ۔
فی الحال تو سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیل ہی عجیب سراسیمگی اور سنسنی خیز ی کا ماحول پیدا کئے رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں یا ان کے دست راست پڑھے لکھے نوجوان جو کچھ کام کی باتیں بھی کرتے ہیں مگر ان کا بنیادی مقصد بے تکی ہانکنا ہی ہوتا ہے اس پر مستزاد چڑیا والے صاحب اپنے تجزیوں میں کہاں کہاں کی کوڑیاں لاتے ہیں اور دس بیس میں سے کوئی ایک بات سچ ثابت ہوجائے تو ان کی خاتون اینکر ان کی دانش پر خوب غازے چڑھاتی ہیں ۔ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم حسن نثار ہیں جو کھری کھری باتیں کرتے ہیں اور بے لاگ تبصروں سے عام آدمی کی تسلی اور تشفی کا کچھ سامان کرتے ہیں ۔سب اپنی اپنی آرا کو خوبصورت الفاظ سے مرصع کرتے ہیں مگر عام آدمی کے ساتھ بیتنے والے سانحات کا ذکر ہی کوئی نہیں کرتا گویا کہ اسکے کے مسائل کی کسی کوخبر نہیں ۔کوئی اس کے زخموں پر پھاہے رکھنے کا روادار نہیں۔اس صورتحال میں عام آدمی کا جینا اور محال ہورہا ہے حکمران ہوں یا حزب اختلاف کی نشستوں پر براجمان سیاستدان سب ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کمزور سے کمزور تر ہورہی ہے ،اس کا ذمہ دار عدلیہ اور مقتدرہ کو ٹھہرایا جارہا ہے۔ عدالتی نظام ہی نہیں اعلی ججز شدید تنقید کا نشانہ ہیں اور فوج کی قربانیوں کو تو سرے سے بھلا ہی دیا گیا ہے ۔چند کرداروں کی بے اعتدالیوں اور بے رحمیوں کو مثال بناکر سب کے کردار کو آلودہ کیا جارہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیل یہ جانتے تک نہیں کہ ان کا اصل کردار کیا ہے اور وہ ملک وقوم کو کس سمت لے کر جارہے ہیں ؟ سیاسی کارکنوں کی تربیت کون کرے گا ،کون ان میں حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دینے کا پابند و مکلف ہے ؟ ایک بڑی آبادی جو قوم کی بجائے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ کہلائے جانے کی مستحق ٹھہری ہے اسے کون اس کی صحیح جون میں لائے گا ؟ ہم چھہتر برس سے ریشہ دوانیوں کی فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔ہمارے نظام ہائے حیات میں انسانی رمق کم اور درندگی ہر دن فروغ پارہی ہے ۔کارساز سانحے کو کیا کہیں گے اگر تفتیشی رپورٹ دینے والے ڈاکٹر کے اندر انسان کی حرمت کا احساس نہ ہوتا تو نتاشا کے متمول باپ کا دولت کا جادو چل گیا ہوتا مگر یہ نہ ہوسکا مگر ابھی خطرہ ٹلا نہیں ،سیکنڈ اوپینین لی جاسکتی ہے ،امیر باپ کی بیٹی کوبچایا جاسکتا ہے ، غریب کی آنکھ میں دھول جھونکنا کوئی مشکل نہیں، دولت کی چمک سے اس کے اعصاب کو مختل کیا جاسکتا ہے ،سوال تو پھر ریاست کے کورٹ میں آئے گا ،میڈیا ہی آخری ہدف ہوگا قاتلہ کے دولت مند خاندان کا۔
سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیل خاموش ہیں ان کی زبانوں کو تالے لگ گئے ہیں ،دونوں طرف کے سیاسی بھگت بھی چپ ہیں ۔کون جانے کل عدالتوں کو بھی کسی قانون کے تحت چپ کرادیا جائے۔کئی ایسے قتل کی فائلیں دفن ہوچکیں ۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے ہے یا تو ہر نو کے میڈیا پر قدغن لگا دی جائے یا پھر میڈیا کو زادی دی جائے ۔ چپ کی بکل توڑنی ہوگی ،غریب اورامیر کے لئے ایک ہی قانون بنانا وقت کی ضرورت ٹھہرا کہ اب چھوٹی بڑی خبر پل بھر میں براعظموں کا سفرطے کر دیتی ہے ،سارے راز کھل جاتے ہیں سماجی ہوں یا سیاسی!
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارض وطن
جو ترے عارض بے رنگ کو گلنار کرے
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا
کتنے آنسو تیرے صحرائوں کو گلزار کریں