Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا گہری بھارتی سازش

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مودی حکومت کی سازشوں پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے علاقے کے مسلم اکثریتی تشخص کے لئے شدید خطرہ قراردیا ہے۔ 5اگست 2019سے جب دفعہ370کو منسوخ کیا گیا تھا، لاکھوں غیر کشمیریوں میںمقبوضہ جموں وکشمیرکے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ بانٹے گئے ہیں جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ سول سوسائٹی ارکان نے کہا کہ یہ کشمیریوں سے ان کی شناخت چھیننے اور علاقے میں نو آباد کار ی کو آگے بڑھانے کے بھارت کے خفیہ منصوبے کا حصہ ہے۔سول سوسائٹی کے ایک ممتاز رکن نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے مودی حکومت کے اقدامات ایک جنگی جرم ہے۔انہوں نے کہاکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارت کی کوششیں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ دفعہ370کی منسوخی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ڈیموگرافک انجینئرنگ کا ایک اہم عنصرہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دے کر خطے کے آبادیاتی توازن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کے کشمیریوں کی سیاسی اور ثقافتی شناخت پر دور رس نتائج ہوں گے۔سول سوسائٹی ارکان نے کہاکہ کشمیری مقبوضہ جموں وکشمیر میںآبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مودی کی سازشوں کی مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے خطرناک منصوبوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مودی حکومت کومقبوضہ جموں وکشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔
دوسری طرف جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر عائد پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے علاقے میں تعلیم اور سماجی بہبود کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ اگر زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے والی فرقہ پرست تنظیموں پر پابندی نہیں لگائی جا رہی ہے تو پھر جماعت اسلامی پر جس نے تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں قابل ستائش کام کیا ہے، پابندی کیوں لگائی گئی؟پی ڈی پی سربراہ نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے آواز اٹھانے کے پارٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے دفعہ370کی منسوخی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمانی انتخابات میں شمالی کشمیر کے لوگوں نے نظر بند لیڈر شیخ عبدالرشید کو منتخب کرکے استصواب رائے کے جذبے کو ووٹ دیا ہے۔پی ڈی پی سربراہ نے کہاکہ بی جے پی نے دفعہ370کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے درمیان پل کو توڑدیا ہے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لداخ خطے میں لہہ ایپکس باڈی نے اگلے ماہ لہہ سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی تک پیدل مارچ کا اعلان کیا ہے تاکہ مودی حکومت پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ لداخ کی قیادت کے ساتھ چار نکاتی ایجنڈے پر تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرے۔
دریں اثناء غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا ہے کہ بی جے پی جھوٹ بولنے اور حقائق کو مسخ کرنے سے زندہ ہے۔ آغا روح اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ این سی کا منشور دلتوں، گجروں، بکروالوں یا پہاڑیوں کی ریزرویشن ختم کر نا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ریزرویشن پر 50فیصد کی حد کو لاگو کرکے انصاف کو یقینی بنانا ہے جس کی ہدایت بھارتی سپریم کورٹ دی ہے۔انہوں نے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ این سی تاریخی مقامات کا نام تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے بی جے پی کی تقسیم کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔روح اللہ مہدی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جھوٹ بولنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے بی جے پی اور اس کی حکومت قائم ہے۔انہوں نے بی جے پی پر زور دیا کہ وہ جھوٹی خبریں پھیلانا بند کرے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے پہلے ہی اپنے جھوٹ اورجعلی خبروں سے کشمیریوں کی شناخت اور وقار کو داغدار کر دیا ہے۔
واضح رہے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاتھا کہ کانگریس اقتدار کے حصول کے لئے نیشنل کانفرنس کے ساتھ شراکت داری کرکے قومی اتحاد اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔انہوں نے این سی کے منشورخاص طور پر مختلف طبقوں کی ریزرویشن اور سرینگر میں مخصوص مقامات کے نام تبدیل کرنے پر اس کے موقف پر بھی سوال اٹھایا تھا۔
ادھر ایک حالیہ سروے میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر کے رہائشیوں کے پریشان کن مالی حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔یہ سروے حال ہی میں انڈیا ٹوڈے گروپ نے کرایا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کے 66فیصد رہائشیوں کو اپنے اخراجات کا انتظام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مالی مشکلات میں یہ اضافہ خطے میں وسیع تر اقتصادی چیلنجوں سے منسلک ہے۔ 38فیصد کشمیریوں نے سروے کے دوران کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں انکی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے ، کم آمدنی بہت سے گھرانوں کیلئے مالی مشکلات کا سبب ہے۔سروے میں مقبوضہ علاقے میں بے روزگاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 47 فیصد جواب دہندگان نے اسے سب سے اہم مسئلہ قراردیا، بے روزگار ی کا معاملہ خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے انتہائی بے چینی کاباعث ہے۔17 فیصد جواب دہندگان نے افراط زر اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک اہم تشویش قرار دیا۔آمدنی اور اخراجات کے لحاظ سے 30فیصد جواب دہندگان نے نوٹ کیا کہ ان کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی البتہ ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔صرف 13 فیصد نے آمدنی اور اخراجات دونوں میں بیک وقت اضافے کی اطلاع دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ مالیاتی بہتری دیکھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں