Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

نجی چینل پر ایک انٹرویو کا ردعمل

باباجی شورش کاشمیری نے کہا تھا ’’انسان فطرتا افسانہ ساز ہے ۔وہ افسانوں سے محبت کرتا ہے ، افسانوں کو ترتیب دیتا ہے ،افسانوں سے کھیلتا ہے اور ظاہر ہے کہ افسانہ و حقیقت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا بعد سچائی اور جھوٹ میں ہے ۔‘‘
انسان جتنا بھی بڑا بن جائے اس کے اندر سے تعصب نہیں جاتا اور اگر کوئی لکھاری رفعت و بلندی کی اوج ثریا پر ہی کیوں نہ ہو وہ جب الفاظ کے معاملے میں بے احتیاط ہو جاتا ہے تو وہ بھی نہیں سوچتا ’’آج کے الفاظ کل کا روگ بھی بن سکتے ہیں۔‘‘ وہ بہت کمال انسان بلکہ لکھاری ہیں کہ الفاظ ہمیشہ ان کی بارگاہ میں ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں ،انہیں الفاظ کے استعمال کا سلیقہ بھی آتا ہے مگر ان کے اندر کا تعصب جب عود کر آتا ہے تو ان کی تحریر کی وقعت ذرہ برابر نہیں رہتی ۔جب وہ ایک عام استاذ تھے تو انہوں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا ،انہیں روپے پیسے کی ضرورت بھی تھی اور شہرت دوام کی خواہش بھی ،انہوں نے زر کثیر بھی کمایا اور شہرت کے آسمان کا ستارہ بھی بن گئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اندر حرص و آر بڑھتی چلی گئی،وہ مٹی کو ہاتھ لگاتے تھے وہ سونا بن جاتی تھی تاہم پھر وہ ایسے نابینا ہوئے کہ سونے کو مٹی بنانے میں بھی عار محسوس نہ کی۔ اور عالم یہ ہے کہ وہ کسی کی محبت میں اتنے گھائل ہوگئے ہیں کہ معروضی حقائق تک سے روگردانی پر تلے ہیں ۔
ایک نجی چینل پر بیٹھے وہ بڑی سنجیدگی سے یہ بھاشن دے رہے تھے کہ’’ اس شخص کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں‘‘وہ شخص کہ جس نے صبح کے اجالے میں ریشہ دوانیوں میں ملوث تمام تر قوتوں کو چاروں شانے چت کر دیا ،اس نے بڑے چائو سے لائے جانے والوں کے قدموں تلے سے زمین چھین لی اور میں اتنی سکت تک نہ رکھی کہ وہ چاند مانگ سکتا جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ۔میں جان بوجھ کر ہر دو حضرات کام نام نہیں لے رہا اور تیسرے کا نام لینے پر تو ویسے ہی قدغن ہے ۔میں دل و جاں سے ان کی عزت کرتا ہوں ،احترام کرتا ہوں ،ان کے صاحب اسلوب لکھاری ہونے پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہوں ،مگر وہ سچ بھی بولیں تو ملمع سازی کے بغیر نہیں بول سکتے۔لندن مذاکرات سے لے کر ،جرنیلی معاملات ہوں یا سیاسی تذکرہ نگاری، میں سب جانتا ہوں مگر طشت ازبام نہیں کر سکتا کہ ان کا ادب مانع ہے ، ان کا ادبی قد مانع ہے،انہیں اسٹیبلشمنٹ کے کانٹے بو کر جانے والوں سے شکوہ ضرور ہے مگراسٹیبلشمنٹ کے کردار پرآنچ کا گناہ وہ اب بھی نہیں سہہ سکتے ،ان میں یارہ ہی نہیں کہ وہ’’ ان کے‘‘ بھلے کے آستانوں کو پیٹھ کر سکیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کا کندھا نہ ملتا تو سوائے عمارتی سامان کے بڑے تاجر کے وہ اور کچھ نہ ہوتے ۔مجھے پھر بابا جی یاد آئے جنہوں نے کہا تھا’’دوستی میں ہاتھ بڑھایا جاتا ہے ،ایمان فروخت نہیں کیاجاتا اور یہ بھی کہ حاسد ہمیشہ بدقسمت ہوتا ہے ،اس کی روح کو گھن لگا رہتا ہے جو اس کے خون میں سرانڈ پیدا کرتا ہے۔‘‘
خدا نخواستہ میں ایک صاحب طرز ادیب کو ابھی اس مقام تک نہیں دیکھتا مگر اس واہمے اور مخمصے میں ضرور گھر جاتا ہوں۔ان کے لئے یہ ضرور کہتا ہوں کہ بسا اوقات الفاظ کی تلخیاں قومی اور ملکی مسائل کو فروتر کردیتی ہیں ،حالات کو ایک ڈگر سے ہٹاکر دوسری راہ پر ڈال دیتے ہیں ،مستقبل کے مورخ کے لئے بھی لکھنے کو کچھ رہنے دیجئے ۔آپ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی جماعت ماننے پر تیار نہیں ۔شورش نے کہاتھا’’عبرت روزن تاریخ سے متمرد انسانوں کے چہروں کو ضرور جھانکتی ہے ،ماضی میں زندگی بسر کرنے والوں کی حیثیت ان مغل شہزادوں کی سی ہے جن کی عالم پناہی پوتڑوں میں دم توڑتی نظرآتی ہے،جن کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ رسی جل گئی بل باقی ہے ۔یاپھر بعض شہزادے سرکارسے سوا روپیہ سالانہ وظیفہ پاتے تھے ،لیکن اپنی کوٹھڑی ہی میں دیوان عام و خاص بنا رکھا تھا خودبخود حاجب و دربان بنتے،خودکو شہنشاہ گیتی پناہ پکارتے اور خود ہی شہنشاہ گیتی پناہ ہوجاتے۔جوپانی ایک دفعہ بہہ جائے پھر واپس نہیں آیا کرتااور نہ تن آسانوں سے معجزے سر زد ہوتے ہیں ‘‘۔
وہ ایک حقیقت ہے جسے اب تسلیم کرنا اور کروانا پڑے گا ۔ریت پر کھڑے محل خوابوں میں ہوں یا حقیقت میں انہوں نے ڈھے جانا ہوتا ہے ،انہیں خوش کن الفاظ کے سہارے ایستادہ نہیں رکھا جا سکتا ،یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی ،حاصل کی ہوئی عزت ،دولت اور شہرت کو دائو پر لگانے سے بہتر ہے خلوت نشینی اختیار کر لی جائے،انہیں اب عدالتی عتاب سے کوئی نہیں بچا سکتا بھلے عدالتی نظام خود زیر عتاب ہے ۔اسے بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے ۔آپ نے ایک مرتبہ مجھے اپنے میسج میں کہا تھا’’ میرے لئے نعوذبااللہ وہ پیغمبر نہیں کہ ان پر ایمان لانا ضروری ہو ۔آپ اپنی رائے پر قائم رہیں۔ہم فقیروں سے محبت کا رشتہ نہ توڑیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں