وہ بنیادی طور پر دہنی سکالر ہیں، محراب و منبر کے وارث مگر انہوں نے اس سب سے دست کشی کرتے ہوئے سیاسی مدبر کا کردار اپنا لیا ہے لیکن اس میں بھی اب کچھ اور رنگ بھرنے لگے ہیں۔ سنجیدگی رفتہ رفتہ غیر سنجیدگی کی طرف مائل ہے۔ اب ضرورتیں ان کی ترجیح ہیں، جیسے بھی پوری ہو پائیں۔ جس طرف بڑھتے ہیں، بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ آگے پیچھے دیکھتے ہی نہیں۔ نفرت ہو یا محبت، دونوں میں انتہا پر چلے جاتے ہیں۔ ویسے تو سب کے لئے قابل احترام ہیں، میرے لئے اس لئے بھی کہ میرے سکول فیلو ہیں بس کلاس فیلو ہونے میں چند سال کا فرق ٹھہرا۔ ہمارے اسکول کے بانی مرحوم و مغفور مسرت مرزا اپنی ہر تقریر میں فرمایا کرتے کہ’’اپنے سے بڑی جماعت کے طلبا کا احترام کیا کریں‘‘ اور میں تو اسی مدرسے (قاسم العلوم) کا پڑھا ہوا ہوں جس کے مطبخ کے پکے کھانے کھا کر وہ پلے بڑھے۔ مجھے ذاتی طور پر ہمیشہ بھلے لگے ہیں۔ مگر ان کے سیاسی کردار سے میں کبھی مطمئن نہیں رہا، بلکہ ایک زمانہ ہی ان کے سیاسی ناٹک سے بد ظن رہا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے جسے یہودی ایجنٹ کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی تھی، آج اسی کی محبت کے اسیر ہیں۔ مجھے ان سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے بہت تردد ہوتا ہے کہ ان کے جاں نثار زبانیں سونت کر میدان میں نکل آتے ہیں پھر آپا بانو قدسیہ کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ کی گوجرانوالہ کے کوچہ ککے زئیاں کی زنانیاں بن جاتے ہیں۔
زرداری صاحب سے تو ان کی جنم جنم کی یاری ہے ۔شکر ہے ان کے ہم مشرب نہیں لیکن وہ سنجیدہ سیاسی مدبر ہیں اور یہ غیرسنجیدہ۔ وہ سراپا ناٹک ہے اور یہ ہر پل نیا ناٹک رچائے رہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جو ان کے لئے زیبا تو نہیں مگر یہ زیبا نا زیبا کے چکر میں ہی نہیں پڑتے۔ معصومیت ایسی کہ بندوق لیکر بھی خوش ہوجاتے ہیں۔ بھلے وہ استعاراتی پہلو ہی کیوں نہ رکھتی ہو۔
پی ڈی ایم کے سربراہ اس لئے بنائے گئے کہ ان کی ڈنڈا فورس سے استفادہ کے در کھلے رہیں، ان کی موجودگی میں غیر قانونی و غیر آئینی اقدام کئے جاتے رہے یہ چپ رہے یا انہیں چپ کرانے کا اہتمام پیشگی کرلیا جاتا۔ اس عہدے سے فارغ ہوئے تو سارے گلے شکوے زبان پر لے آئے چڑیوں کے چگے کھیت سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ انہیں بھی معلوم ہے اور صاحبان علم و عرفان کو بھی۔ فرق یہ ہے کہ یہ خبر رکھتے ہوئے چپ کی یا مصلحت کی بکل مار لیتے ہیں اور جو آکٹوپس ہیں سب کچھ ہی اپنے آلودہ ہاتھوں میں سمیٹ لیتے ہیں اور یہ جو بچ جاتا ہے اسی پر قناعت فرما لیتے ہیں۔
مراعات کے حصول میں یہ بھی پیچھے نہیں رہتے مگر مادی نہیں، ایک دو وزارتوں اور چند کام کے عہدوں کے سوا۔ اسی لئے یہ واحد سیاستدان ہیں جن پر آج تک بدعنوانی کا الزام کبھی نہیں لگا۔ ان کے لگوائے گئے عہدیدار ایسے کسی گناہ میں ملوث ہوتے ہوں تو یہ ان کے حصہ دار کے طور پر بھی نہیں پائے گئے۔ حال ہی میں صدر زرداری کی طرف سے گفٹ کی گئی بندوق سے متعلق بعض لوگوں نے درفنطنی ضرور چھوڑی کہ سونے کی تھی مگر یہ سب تفنن طبع کے لئے تھا تاہم اس کا یہ مفہوم ضرور لیا جاسکتا ہے کہ آپ جنہیں یہودی ایجنٹ گردانتے تھے ان پر بندوق تانے رکھیئے کہ آپ کی سیاسی حمایت سے وہ اور طاقتور ہوجائے گا۔ حالانکہ اس کی سب سے بڑی طاقت عوام ہیں جن کے خوف سے وہ اسٹیبلشمنٹ یا حکومت سے مذاکرات کی جرات نہیں کرتا گو کچھ وہ بھی ضدی ہے اڑ جانا اس کی سرشت میں ہے حق پر اڑجائے یا ناروا پر۔ تاہم اس کا یہ کہنا غلط نہیں کہ فارم سینتالیس والوں سے وہ مذاکرات نہیں کر سکتا یوں اس کے مینڈیٹ پر شب خون مارنے والے اس سے سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں اس لئے اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کی اوٹ میں رہنا اور انہیں کی ہاں میں ہاں ملانا، انہیں کے استانوں پر سر جھکائے رہنے ہی میں عافیت گردانتے ہیں۔
صدر زرداری کی دی ہوئی بندوق کاجو بھی مطلب و مفہوم ہو وہ ایک بار کپتان کو آزمالینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے کہ اس اتحاد میں ان کے مزاج کے کچھ اسباب ان کے لئے موجود ہیں۔ سو اس لئے ابھی اس بندوق کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس سے سوا کچھ کر دکھانے کی یقین دہانیوں کے ساتھ اچکزئی صاحب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اچکزئی صاحب اس پیرانہ سالی میں اپنے کسی خواب کی تعبیر پالینے میں بھی شاید دلچسپی رکھتے ہوں تو انہیں بھی ضرور موقع ملنا چاہیئے۔ مگر جو نظر آرہا ہے وہ ہر طرف سے ناٹک ہی ناٹک ہے۔ کوئی سنجیدہ نہیں ہے جبکہ عوام مہنگائی کے اندھے کنویں میں پڑی ہے اور بلوں پر دس دن کا اضافہ بھی تو ایک ناٹک ہی ہے، ادائیگی تو جو لکھی ہے وہی کرنی ہے،کوئی رو پیٹ کر کرے یا ہنستے، مسکراتے ہوئے، ناٹک ہی کرنا ہے تو کسی صورت بھی کیا جاسکتا ہے۔