Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

“آئینہ خانہ”

وفاق جو کر رہا ہے وہ کر ہی رہا ہے اب پنجاب سازشوں کے جال بچھانے کی پیش بندی پر تلا ہواہے ،فارم سنتالیس کی پیداوار حکومت خونخوار نظروں سے اس کا تعاقب کررہی ہے جس کے کندھے ہی نہیں بیانیہ بھی مضبوط ہے اس لئے تو عدالتیں بھی مجبور ہیں ۔وہ دن اب ہوا ہوئے جب قانون و آئین کے وارث آل شریف کے بریف کیس اٹھائے صوبہ صوبہ حمایتیں خریدتے پھرتے دکھائی دیتے تھے ۔اس میں شک نہیں ان کی اولادیں ان کے لگائے پودوں کے ثمر کھا رہے ہیں ،نمک کا حق ادا کرنا اچھی بات ہے مگر اس کے کفارے کے لئے بھی کوئی سامان کرلینا چاہیے کہ ساری ضرورتیں دنیا ہی میں پوری کرکے تہی دست چلے جانا ہی مقصد حیات نہیں ہوتا ۔جو لوگ تاریخ کو فقط سیاسی مصلحتوں اور ذاتی ضرورتوں کے حصول تک محدود کر لیتے ہیں ان کا فقط یہی توشہ انہیں زمانے میں زندہ رہنے کے کام نہیں آتا۔آخرت میں اعمال تلنے ہیں تو تاریخ کے ترازو میں وہ اسباب بھی تلتے ہیں جو آپ کی اگلی نسلوں کو منہ دکھانے کے قابل رکھیں ۔پنجاب کی رانی کسی کے جینے کی راہیں مسدود کرنا چاہتی ہیں تو سو بار، طاقت آزما کر دیکھ لینے میں بھی کچھ حرج نہیں ہاں مگر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کے تازہ ترین ایک بیان کے اس جملے کو بھی پڑھ لیں کہ “سزا دینے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے “۔گو اس جملے کا تناظر کچھ اور ہے مگر یہ پنجاب حکومت کے ان عزائم پر بھی صادق آتا ہے جو کسی سیاسی قیدی کو راستے سے ہٹانے کے لئے پلان کئے جارہے ہیں ۔ارادوں کے افق پر نمودار ہونیوالی شعاعیں کبھی کبھی دیاسلائی کی طرح خود بھی پوری کی پوری جل جاتی ہیں ۔اپنے اقتدار کے سنگھاسن کے اس پار بھی کبھی جھانک کر دیکھیں آپ کی حکومت کی پھیلائی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے کتنے انسان لہو کے آنسو رورہے ہیں دھرتی کا پورا وجود ان کی آہ وفغاں اور نالہ ہائے شیون سے لرزاں ہے ۔زندہ قوموں کے سیاسی رہنما بدلے چکانے کے جنون میں ہی مبتلا نہیں رہتے بلکہ اجتماعی فلاح کی منصوبہ بندی میں بھی جان کھپاتے ہیں تبھی جاکر مصحف تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کے قابل ہوتے ہیں۔سیاست کے تھانوں پر اختیار ملے تو منشا کی ضمنیاں لکھوانا کبھی کبھی اپنے گلے بھی پڑجاتی ہیں ،جن کے پاس اپنی کمائی ہوئی نیکیاں ہوں وہ دوسروں کی نیکیوں کو حسرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔تمہارے سیاسی اونٹ کی کونسی کل سیدھی ہے ،تم اپنی سیاسی ریشہ دوانیوں میں لت پت ہو اور تمہاری جامعات جانکنی کے عالم میں ہیں ،ہر سو خوشامد کا بول بالا ہے ،علم کے مالک جاہل ،ادب کے اجارہ دار فتنہ پرداز ،سیاستدان سیاسی ساز باز میں ملوث،منبرومحراب کے وارث فرقہ بازی و مسلکی جنگ میں مبتلا اپنے اپنے عقیدے اور مسلک کے علمبردار، اپنے سچ کو حق ثابت کہنے پرمصر،علیل روحوں کا ایک انبوہ ہی تو ہیں ،بھیڑ بکریوں کے ریوڑ ،جنہیں حق راس ہے نہ سچ ۔صحافت جو کبھی آئینہ خانہ ہوتی تھی آج دشنام طرازی کا ڈھیر بن گئی ہے وہ جو اس کی راہ کے کانٹے چن رہے ہیں زنجیر و سلاسل ان کا مقدر ،وہ اپنی اغراض کی دکانیں نہیں چمکاتے،صحافت کو کاروبارزیست کا ذریعہ نہیں بناتے یہی لوگ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں لوگوں کے دلوں میں تابندہ رہتے ،قومیں ان کے دیئے منشور کو لائحہ عمل بناکر زینہ در زینہ ترقی کا سفر طے کرتی ہیں ۔ہم سب ایک آئینہ خانے میں کھڑے ہیں ،کسے آئینہ دیکھنے کی تاب ہے اور کون خوف زدہ ہے؟بابا جی نے کہاتھا”سیاسی جماعت ایک آزاد اور خود دار قوم میں حکومت کی مخلص مشیر ہوتی ہے ،حزب اختلاف ہو تو وہ اپنے پروگرام کے مطابق حکومت کو اسکی غلطیوں پر ٹوکتی اور سیدھی راہ دکھاتی ہے ۔حزب اقتدار ہو تو وہ اپنی جماعتی حکومت کے لئے سینہ سپر ہوکر زخم کھاتی اور اس کے کارناموں کو عوام میں اجالتی اور اچھالتی ہے “۔ہم دونوں لحاظ سے بے نیل و مرام ہیں ۔ہماری ہر سیاسی قبیل مجنوں بنی ہوئی ہے اور سیاسی کارکن سگان لیلی بنیہوئے ہیں ،جو کبھی مجنوں کے ہاتھ چومتے ہیں اور کبھی لیلی کے پائوں چاٹتے ہیں ۔نظریئے کی سیاست ختم ہوچکی ہے ۔نہ سیاستدانوں کی قدر ہے نہ سیاسی کارکنوں کی آبرو،سیاستدانوں نے سیاسی کارکنوں کے نرخ رکھے ہوئے ہیں سیاست کی منڈی میں دن کے اجالے میں بھائوتائو ہوتے ہیں ۔کوئی آئینے کے روبرو کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتا۔جب انسان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر غورکرنا ان پر شرمندہ ہوناچھوڑدے تو اسے آئینہ دیکھنا تو کیا اپنے مٹنےکا احساس بھی نہیں ہوتا ۔

یہ بھی پڑھیں