Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

عدالت سے ولایت تک کی سعادت

حضرت عزیز محمود اودائی چیف جسٹس سے درویش بنے اور پھر درجہ ولایت پر فائض ہو کر وقت کے بہت عظیم صاحب کرامت ولی اللہ بنے۔ ان کی زندگی کا وہ واقعہ جس میں ان کی روحانی تبدیلی کا آغاز ہوا، تاریخ کا ایک اہم اور نصیحت آموز حصہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح انہوں نے دنیاوی عزت اور مرتبے کو ترک کیا اور ایک سچے درویش بننے کا سفر شروع کیا۔جج کا لباس اور درویشوں کی محفل عزیز محمود اودائی اس وقت خلافت عثمانیہ کے ایک معروف اور بااثر جج تھے، لیکن ان کے دل میں ایک روحانی بے چینی ہمیشہ موجود رہی۔ وہ جانتے تھے کہ دنیاوی عدالتوں میں انصاف فراہم کرنا اہم ہے، لیکن وہ روحانی حقیقت کی تلاش میں بھی تھے۔ وہ وقت کے مشہور صوفی اور ولی، حضرت آق شمس الدین سے ملنے کی خواہش مند ہوئے۔
ایک دن جسٹس عزیز محمود کے دل میں حقیقت و معرفت چنگاری چمکی اور وہ عدالت سے جج کے لباس میں اٹھ کر اچانک حضرت شمس الدین کی محفل میں پہنچے۔ دروازے پر موجود درویشوں نے انہیں دیکھ کر کہا جناب’’آپ یہاں غلط جگہ پر آگئے ہیں۔ آپ ایک عظیم جج ہیں اور یہ جگہ درویشوں کے لیے ہے، آپ یہاں بھول کر آگئے ہیں۔‘‘ عزیز محمود نے جواب دیا ’’میں یہاں آپ کے شیخ سے ملنے آیا ہوں۔‘‘ شیخ سے ملاقات اور بیعت کی طلب کی خواہش کے ساتھ جب جسٹس عزیز محمود حضرت شمس الدین کے سامنے حج کے لباس میں پہنچے ۔ انہوں نے شیخ سے بیعت ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حضرت شمس الدین نے مسکراتے ہوئے کہا ’’جج صاحب، درویشی اور فقیری آپ کے لئے مشکل ترین راستہ ہے۔ لیکن عزیز محمود اپنے فیصلے میں پختہ تھے اور مسلسل اصرار کرتے رہے۔حضرت شمس الدین نے ان کی ثابت قدمی کو دیکھتے ہوئے کہا ’’اگر آپ اتنے مصر ہیں، تو پھر ایک شرط پوری کریں۔ جج کے لباس میں بازار جائیں، وہاں سے جانور کی انتڑیاں خریدیں اور انہیں کھلے عام لوگوں کے سامنے آواز لگا کر فروخت کریں۔ اگر آپ یہ کر سکیں، تو میں آپ کو بیعت کر لوں گا۔
’’عزیز محمود نے شیخ کی یہ عجیب شرط قبول کرلی۔ وہ جج کے لباس میں بازار گئے اور جانور کی انتڑیاں خرید کر لوگوں کے سامنے بیچنے کے لئے آواز لگانے لگے۔ بازار میں موجود لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو حیران رہ گئے۔ وہ سوچنے لگے کہ جج پاگل ہوگیا ہے۔ انہوں نے اپنے وقار اور عزت کی پروا نہ کرتے ہوئے اس امتحان کو پورا کیا۔ اس طرح تبر کے مقام سے انکساری کے مقام پر پہنچ کر ولی کامل کے ہاتھ پر بیعت کرکے عدالت سے ولایت کے مقام پر پہنچنے کا سفر شروع ہوا۔ جب عزیز محمود شیخ کے پاس واپس پہنچے تو حضرت شمس الدین نے انہیں بیعت کر لیا۔ اس امتحان نے ان کے دل سے دنیاوی تکبر اور عزت و جاہ کا بوجھ اتار دیا اور انہیں ایک سچے درویش کی راہ پر ڈال دیا۔ انہوں نے جج کا عہدہ چھوڑ کر اپنی زندگی کو روحانی خدمت اور اللہ کی رضا کے لئے وقف کر دیا۔
وقت کے ساتھ ان کی کرامات ظاہر ہونے لگیں، اور لوگ ان کے روحانی فیض سے مستفید ہونے لگے اور آپ ہر خاص و عام کے محبوب ہوگئے۔ حضرت عزیز محمود اودائی کے ولی اللہ بننے کے بعد ان کا فیض اس قدر عام ہوا کہ عثمانی سلطنت کے سلطان بھی ان کی محفل میں شرکت کرنے لگے۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر سلطان روحانی تربیت اور حکمت کی باتیں سنتے اور ان سے رہنمائی حاصل کرتے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی روحانی ترقی دنیاوی عہدوں اور مرتبوں کو چھوڑ کر حاصل ہوتی ہے۔ عزیز محمود اودائی ؒ کا یہ سفر ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دنیا کی ظاہری عظمت اور مقام حقیقی کامیابی نہیں، بلکہ اللہ کے قرب اور محبت میں ہی انسان کی اصل کامیابی ہے اور دنیا اور آخرت سرخروئی ہے۔ یہ وقتی عہدے دنیا کے دھوکے ہیں۔ آپ استنبول کے ایشیائی حصہ اسقادار میں مدفون ہیں۔ مجھے دس سال قبل آپ کی مرقد پر حاضر اور فاتحہ خوان سعادت حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں