اسلام آباد کے سینئر صحافی اور ممتاز لکھاری نے اپنے تازہ کالم میں ایران ،اسرائیل جنگ کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایران نے اس سال 13اپریل کوتین سومیزائل اسرائیل پرداغے تھے اوراب یکم اکتوبرکوچارسومیزائل اسرائیل پربرسائے عالمی میڈیاکی رپورٹ کے مطابق ا ن حملوں میں اسرائیل کاکچھ نقصان نہیں ہوا،اس کے مقابلے میں یکم اکتوبرکوہی دوفلسطینی جانبازوں نے جافاپرحملہ کیا اورایک درجن کے قریب اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہو گے،سوال یہ ہے کہ آخر ایران کے پاس ایسے کون سے میزائل اور راکٹ ہیں جو عراق پر گرتے ہیں تو سینکڑوں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں ، شام پربرستے ہیں تو لاکھوں مسلمانوں کو پلک جھپکتے ہی شہیدکردیتے ہیں ، شہرکے شہر تباہ کردیتے ہیں ،گائوں قبرستان میں تبدیل کردیتے ہیں ،پاکستان پر یہ میزائل لگتے ہیں تومعصوم بچوں کوموت کی آغوش میں سلادیتے ہیں ۔ غرضیکہ یہ میزائل اورڈرون مسلم ممالک پر توقہر برپا کرتے ہیں لیکن جب یہی میزائل اسرائیل کارخ کرتے ہیں تو ایک یہودی بھی مردار نہیں ہو تا؟ اسرائیل کے کسی راہ چلتے شہری کوگزندبھی نہیں پہنچتی ۔آخرکیوں؟‘‘گو کہ یہ وہ زمینی حقائق ہیں کہ جن کو کوئی بھی صاحب بصیرت جھٹلا نہیں سکتا،میں اس پر اپنی طرف سے حاشیہ آرائی کی بجائے، انٹرنیشنل میڈیا پہ اس حوالے سے آنے والی ایک رپورٹ نذر قارئین کرنا چاہتا ہوں،جس میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ناکام ہوا یا پھرناکام؟رپورٹ کے مطابق ،اسرائیلی قابض فوج نے جمعہ کے روز پہلی بار اعتراف کرلیا ہے کہ ایران نے گزشتہ منگل کی شام اسرائیل پر اپنے میزائل حملے میں نیواتیم اور تل نوف فضائیہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کی تصدیق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی کی ہے اور مزید کہا ہے کہ دو ایرانی میزائل ایئر بیس پر گرے، ساتھ موساد ہیڈ کوارٹر کے قریب بھی گرنے کی تصدیق کی۔
مبصرین کے مطابق اسرائیل ایرانی حملے سے ہونے والے نقصانات کو چھپا رہا ہے اور ساتھ ہی غزہ کی پٹی اور لبنان میں اس کی جنگ کے نتیجے میں ہونے والے انسانی اور مادی نقصانات کو سامنے نہیں لاتا، مگر بہت ہی کم۔ اس نے تصویری اور ویڈیو کلپس کی نشریات پر سخت سنسر شپ پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔ میڈیا آئوٹ لیٹس کو کوئی معلومات فراہم کرنا بھی فوج کی اجازت کے بعد سخت کنٹرول سے مشروط ہے۔ امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ ایران ’’اسرائیلی دفاعی سسٹم کو چکمہ دینے اور تین اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔‘‘ اخبار کے مطابق 20 ایرانی میزائل صحرائے نیگیو (نقب)میں واقع ’’نیواتیم‘‘ایئر بیس پر گرے، جبکہ 3 میزائل وسطیٰ اسرائیل میں واقع ’’تل نوف‘‘کے اڈے پر گرے اور کم از کم دو میزائل اسرائیلی فارن انٹیلی جنس ایجنسی (موساد) کے ہیڈ کوارٹر کے قریب گرے۔ گزشتہ منگل کو ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے ہیں، جس سے انسانی جانی نقصان کے ساتھ بڑے پیمانے پر مادی نقصان ہوا ہے، جبکہ لاکھوں اسرائیلی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوئے اور پورے ملک میں سائرن بج گئے۔ یہ حملہ گزشتہ جولائی کے آخر میں تہران میں اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس)کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے ردعمل میں کیا گیا، اسی طرح یہ حملہ لبنانی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر عباس نیلفرشن کو 27 ستمبر کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں بمباری کا نشانہ بنانے کا جواب تھا۔ ایرانی حملوں میں نقصانات کے ساتھ اسرائیلی فوج نے پہلی بار عراق سے آنے والے ڈرون سے پہنچنے والے نقصانات کا بھی اعتراف کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز مقبوضہ شام کے گولان کے شمال میں اپنی افواج کے ایک اڈے پر عراق سے لانچ کئے گئے ایک ڈرون کے دھماکے کے نتیجے میں اپنے 2 فوجیوں کی ہلاکت اور 20 سے زیادہ کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی دھڑوں کی کارروائیاں ہلاکتوں اور زخمیوں کا باعث بنی ہیں۔ فوج کے ترجمان نے بتایا کہ حملے میں 25 فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے ۔ اسرائیلی فوج نے ہلاک ہونے والے دونوں فوجیوں کے نام اور تصویر شائع کرنے کی اجازت دی ہے، جن کا تعلق گولانی بریگیڈ کی 13ویں بٹالین سے تھا۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا کہ حملے کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ جمعرات کی صبح عراق سے 2 دھماکہ خیز ڈرون لانچ کئے گئے اور گولان کے علاقے میں داخل ہوئے اور ان میں سے ایک کو روک لیا گیا۔ لیکن فضائی دفاعی نظام گولان کے شمال میں واقع اڈے پر پھٹنے والے دوسرے ڈرون کا پتہ لگانے میں ناکام رہا۔ واضح رہے کہ ’’عراق میں اسلامی مزاحمت‘‘نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے صبح کے اوقات میں مقبوضہ علاقوں کے شمال میں 3 الگ الگ کارروائیوں میں ڈرون سے 3 اہداف پر حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد القسام کے ترجمان ابو عبیدہ نے بھی اہل عراق کو مبارک باد پیش کی ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز تسلیم کیا تھا کہ ایران کی جانب سے منگل کی شام کئے گئے میزائل حملے سے فضائی اڈوں کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اس نے اسے بہت معمولی قرار دیا تھا اور ساتھ ہی ان اڈوں کے مقامات ظاہر نہیں کئے تھے۔ جمعہ کو پہلی بار یہ تفصیلات سامنے آگئیں۔ بدھ کو اسرائیلی میڈیا نے فوج کی طرف سے یہ بھی اطلاع دی تھی کہ کسی طیارے یا ہتھیاروں کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ فوج نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ ایران نے اسرائیل پر سپرسونک میزائل داغے تھے۔ اناطولیہ نیوز ایجنسی نے ایک اسرائیلی فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ میزائلوں نے ’’ایئر بیس کے اندر انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ ذریعہ نے متاثرہ مقامات کو ظاہر کرنے سے انکار کیا اور کہا ’’ایئر بیس اب بھی فعال ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ جنگی طیارے ان اڈوں سے اترتے اور ٹیک آف کرتے ہیں۔‘‘ اسی ذریعے نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں کوئی اسرائیلی زخمی ہوا ہے۔ اس سے قبل امریکی ویب سائٹ Axios نے ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ تل ابیب میں فارن انٹیلی جنس سروس (موساد) کے ہیڈ کوارٹر پر درجنوں ایرانی میزائل داغے گئے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی کمپلیکس کے اندر نہیں گرا۔ اسی طرح امریکی سی این این نیٹ ورک نے کہا کہ ویڈیو کلپس کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ایرانی میزائل موساد کے ہیڈ کوارٹر سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر پھٹا۔ جبکہ ایرانی چیف آف سٹاف جنرل محمد باقری نے انکشاف کیا ہے کہ حملے میں 3 بڑے فضائی اڈوں اور موساد کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں نفاتیم بیس بھی شامل ہے، جس میں F-35 جنگی طیارے نشانہ بنے۔ واضح رہے کہ ایرانی حملے کے اگلے روز اسرائیل کی ہاشارون کی میونسپلٹی نے میزائل لگنے سے تقریباً 100گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا انکشاف کیا تھا۔ یہ بات اسرائیلی میڈیا میں آئی تھی۔ تاہم بعد میں حکومت نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ایرانی حملہ مکمل طور پر ناکام تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دریں اثنا ٹیلی گراف اور دی گارڈین اخبارات نے اسرائیل پر حالیہ ایرانی میزائل حملے کے بارے میں اپنی رپورٹس میں کہا کہ اگر ایرانی میزائل بھی اسرائیلی حدود میں کامیاب سے داخل ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام فیل ہوگیا، جسے ٹیکنالوجی میں جدید ترین نظام تصور کیا جاتا ہے۔ ٹیلی گراف کے مطابق اسرائیلی فضائی دفاع نے اگرچہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی اکثریت کو ناکام بنا دیا، لیکن ان میں سے کچھ اسرائیلی حدود میں داخل ہونے کا ہزاروں لوگوں نے مشاہدہ کیا۔ اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایران دنیا کے سب سے طاقتور فضائی دفاعی نظام میں سے ایک کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے؟