Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

طاغوتی طاقتیں گستاخوں کو تحفظ دینے کےلیے سرگرم

2 اکتوبر کوریاستی اداروں کےہاتھوں ثابت شدہ گرفتارچارسو سے زائد گستاخان رسول کی حمایت میں اسلام آبادمیں ہونے والی پریس کانفرنس نےہر قانون پسند شہری کو حیران کر ڈالا ، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ قادیانی اور امریکی صہیونی لابی کےخرکار ڈالروں اور دجالی میڈیا کی جھوٹی طاقت کے بل بوتے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتار ثابت شدہ گستاخان رسول کو رہا کروا لے گا، تو اسے چاہیے کہ منہ دھو رکھے، ہمارے ملک کا نام بنانا ری پبلک نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،امریکہ میں پناہ گزیں پاکستانی بھگوڑے دانش فروش سے لے کر امریکی ،صہیونی لابی کے ہرخرکار سے کوئی پوچھے کہ قانون پسند پاکستانی اگرگستاخان رسول کےخلاف’’ہجوم‘‘کےپاس جانےکی بجائے ’’قانون‘‘سے مدد طلب کرتے ہیں تو تمہارے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں؟امریکی صہیونی لابی کے خرکار اور ان کا ہمنوادجالی میڈیاجتنامرضی جھوٹاپروپیگنڈہ کر لے،جتناچاہے شورمچائے،جو مرضی سیاپا ڈالے، سوشل میڈیا پرمقدس ترین ہستیوں کی گستاخی کرنے والے ہرملعون کو قانون کی زنجیروں میں جکڑنے کی جدوجہد مرتے دم تک جاری رہے گی،ان شااللہ ۔
سوشل میڈیا پرجاری مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے ریاستی ادارے 2016ء سے متحرک ہیں،جس میں نمایاں کردار ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ اور عدلیہ کا رہاہے، اس خاکسار کے نزدیک یہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔اس کا سہرا یقینی طور پر موجودہ سپہ سالار جنرل حافظ سید عاصم منیر کو بھی جاتا ہے کہ جنہوں نے سوشل میڈیا کو ’’شیطانی میڈیا‘‘ قرار دیا۔جس کے بعد سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنےکے لئے ایک ریاستی پالیسی بنی۔اس حوالے سےپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(PTA)نے عوام الناس کی آگاہی کے لئےجاری کئے گئے ایک پبلک نوٹس میں کہا تھا کہ’’ملحدین اور شر پسند عناصر کی جانب سے مل کر ہماری نوجوان نسل کے اخلاق،کردار اور عقائد کو تباہ کرنے کے لئے وطن عزیز میں انتہائی منظم طریقے سے سوشل میڈیا کےذریعےاللہ رب العزت،رسول اکرمﷺ،اہل بیت اطہار،ازواج رسول اکرم ﷺ، اصحاب رسول رضی اللہ عنہم،قرآن پاک اور قومی پرچم کی توہین (Blasphemyکی جارہی ہے۔ایک مذہب یا مسلک سے مطابقت رکھنے والے نام کے اکائونٹ سے اس کے مخالف مذہب یا مسلک کی توہین (Blasphemy)منظم سازش کے ذریعے کی جارہی ہے،تاکہ وطن عزیز کی ترقی کا پہیہ رک جائے اور اس کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل کر اسے تباہ کر دیا جائے۔ان حالات میں معاشرے کےتمام طبقات بالخصوص مدارس،علماء کرام،مشائخ، اساتذہ، صحافی،وکلاء،کالم نگار،سیاسی وسماجی رہنماتاجر اور سیاسی،صحافتی، مذہبی، سماجی جماعتیں اور ادارے اس مہم میں بھرپورکرداراداکریں اوروالدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے کہ وہ اس بات پربھی نظررکھیں کہ ان کےبچے سوشل میڈیاپرکیا دیکھتے ہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ بچے نادانی میں بےحیائی کے رستے پر چل پڑیں اور فحش ویڈیوز سے ہوتے ہوئےگستاخی (Blasphemy) تک جا پہنچیں۔اس وباکو کنٹرول کرنےکےلئےضروری ہے کہ جہاں والدین کو ان حالات سے آگاہ کیاجائے وہاں پرمعاشرے کو تعلیم دی جائے کہ ایسے مواد کی کسی طرح تشہیرنہ ہونے پائے اوراس کےانسدادکےلئےہرحال میں قانون کاراستہ اپنایا جائےتاکہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے ساتھ اس طرح کے جرائم کا سدباب ہوسکے۔اگر اس سلسلہ میں کوئی رکاوٹ یامشکل پیش آئےتوایف آئی اےکوقانونی کارروائی کےلئے 111345786-051 پر شکایت درج کروائی جاسکتی ہے۔جب کہ گستاخانہ مواد (Blasphemy Content) کو بلاک کروانے کیلئے پی ٹی اے،ایف آئی اے سے درج ذیل لنک پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
-https://complaint.pta.gov.pk /RegisterComplaint.aspx ملک بھر میں ایف آئی اے سائبر کرائم کے متعدد تھانے ہیں جن میں بلاسفیمی سیل قائم ہوچکے ہیں۔تمام تھانوں میں بلاسفیمی سیل ایکٹو ہیں اورایسی درخواست پرفوری کارروائی کی جاتی ہے۔گستاخی (Blasphemy) کرنےوالا مجرم کوئی بھی ایپ استعمال کررہاہو،کسی بھی ویب سائٹ پر گستاخانہ مواد شیئرکررہا ہو،اسےسائبرکرائم ونگ جدید ٹیکنالوجی کےذریعہ ٹریس کرتی ہے اورگرفتارکر کےقانون کےمطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
اس سےقبل وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی نےبھی سوشل میڈیا پرگستاخانہ موادکےسدباب کےلئےمیڈیااوراس سےوابستہ لوگوں کےفعال کردارپرزوردیتےاس امرکو اجاگر کیا تھاکہ میڈیا کےذریعے گستاخانہ مواد کی حوصلہ شکنی کےساتھ ساتھ اس کے سدباب کے لئےمتعلقہ قوانین اورحکومتی اقدامات سےمتعلق عوامی آگاہی بھی بہت ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی اطلاع فوری طورپر پی ٹی آے، ایف آئی اے یا وزارت مذہبی امور کو کی جائے۔وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے دستیاب تفصیلات کے مطابق وزارت نے سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی روک تھام کیلئے میڈیا کے اہم کردار کو مدنظر رکھتےہوئےجامع رہنما اصول وضع کئےہیں جس کےمطابق اس وقت وطن عزیز میں تقریبا ً10 کروڑ سے زائد لوگ سوشل میڈ یا استعمال کر رہے ہیں اور اس پلیٹ فارم پر گستاخانہ و توہین آمیز مواد کی برائی تیزی سے پھیل رہی ہے۔جہاں حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں وہیں میڈیا اور اس سے وابستہ لوگوں کا فعال کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ وزارت نے اس ضمن میں متعدد اقدامات تجویز کئے ہیں جو اس برائی کے سدباب میں نہایت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں ۔ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب نے اس امرپر زور دیا کہ میڈیا کے ذریعے جہاں ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے وہیں پاکستان کے متعلقہ قوانین اور حکومتی سطح پر موجود گستاخانہ مواد کے سد باب کے انتظام سے متعلق عوامی آگاہی بھی بہت ضروری ہے تاکہ عوام الناس ایسے کسی بھی مواد کے حوالے سے انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ میڈیا اس معاملے میں والدین کے لیے بھی خصوصی مہم چلائےکہ موجودہ حالات میں والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے ۔جو والدین اپنے بچوں کو موبائل،لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں