Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

رونے کا نہیں یہ وقت جہاد ہے

مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والی 10 سالہ بچی کی وصیت نے سب کو رُلا دیا، فلسطینی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ 10 سالہ راشا العریر اور اس کا بھائی 11 سالہ احمد غزہ شہر میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے، فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق ان بچوں کے اہل خانہ کو 10 سالہ راشا العریر کی وصیت ملی ہے جس میں اس نے اپنی چیزیں اپنے رشتے داروں میں تقسیم کرنے کا کہا ہے۔ ہاتھ سے لکھی اپنی وصیت میں راشا نے اپنے والدین سے کہا کہ اگر میں شہید ہوجاؤں تو میرے لیے رویئے گا نہیں، کیونکہ آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ راشا العریر نے لکھا کہ میں چاہتی ہوں میرے کپڑے ضرورت مندوں کو دیے جائیں، میری چیزیں، کتابیں، کاپیاں اور کھلونے میرے کزنز میں تقسیم کردیے جائیں۔ راشا العریر نے لکھا کہ میرے بھائی احمد پر غصہ نہیں کیجیے گا، مجھے یقین ہے کہ آپ میری وصیت کا احترام کریں گے، معصوم و مظلوم ’’راشاالعزیز‘‘ کی اس وصیت نے انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر درد مند انسان کو رلا ڈالا، میری مسلمان نوجوانوں سے گذارش ہے کہ وہ غزہ کی شہید بیٹی کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے رونے دھونے سے گریز کریں، ہاں البتہ راشاالعزیز جیسی غزہ کی دیگر شہید بیٹیوں کا دشمن سے انتقام لینے کے لئے سروں پر کفن باندھ کر جہادی میدانوں میں کود پڑیں، یہ رونے کا وقت نہیں، بلکہ جہاد کا وقت ہے، صیہونیت اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے، اسرائیل کا ناجائز اور ناپاک وجود دنیا کے نقشے سے مٹنے کے قریب ہے، ہم غزہ کی معصوم بیٹی راشاالعزیز کو یاد رکھیں گے، غزہ کی بیٹی راشاالعزیز ہمارے دلوں کا سرور اور آنکھوں کا نور ہے، پاکستان اور غزہ کے مسلمان یکجان دو قالب ہیں، میں اس موقع پر کسی بزدل حکمران سے مدد مانگنے کی بجائے، اقصیٰ و فلسطین کے بیٹوں اور بیٹیوں کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد کا خواستگار ہوں، دوسری طرف اسرائیل سے جنگ کا ایک سال مکمل ہونے پر حماس مجاہدین کے شیر دل ترجمان کمانڈر ابو عبیدہ نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ ’’آج ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ سے غزہ سے مخاطب ہیں، وہ غزہ جو دشمن کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ ہی جھکنے والا ہے۔ طوفان الاقصیٰ معرکہ کے آغاز کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، اور یہ سال ثابت قدمی اور عزم کی داستانوں سے بھرپور رہا ہے،کمانڈر ابو عبیدہ نے اس موقع پر یہ اعلان کیا کہ جدید دور کی سب سے کامیاب اور پیشہ ورانہ کمانڈو کارروائی کو بھی آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے، جس نے دشمن کے دلوں میں لرزہ طاری کیا،ابو عبیدہ نے کہا: ’’معرکہ طوفان الاقصیٰ اس وقت شروع ہوا جب دشمن کا حملہ مسجد اقصیٰ پر ایک انتہائی خطرناک اور بے مثال مرحلے تک پہنچ گیا۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’یہ معرکہ اس وقت شروع ہوا جب دشمن نے آباد کاری، یہودیت سازی اور قیدیوں پر حملوں میں بے پناہ جارحیت دکھائی۔‘‘ ابو عبیدہ نے اپنے عوام کی استقامت کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارے عوام نے اپنوں سے ملنے والے دھوکوں، حکومتوں کی بزدلی اور ان کی سازشوں کے باوجود، دشمن اور ظالم قوتوں کے جبر کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک اسطوری صمود کا مظاہرہ کیا۔‘‘ آئیں، ہم سب مل کر اپنے عزم اور استقامت کو مزید مضبوط کریں، اور فلسطین کے حقوق کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں، ابو عبیدہ نے اپنے تازہ بیان میں فلسطینی عوام کی جرات اور استقامت کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے، جہاں انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ڈرون یمن اور عراق کی پروازیں فلسطینی آسمانوں میں دشمن پر حملے کر رہی ہیں، جس سے اسے بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ، انہوں نے ایرانی مدد کی اہمیت پر بھی زور دیا، جہاں اسلامی جمہوریہ ایران نے وعدہ صادق کے تحت موثر ضربات فراہم کی ہیں تاکہ دشمن کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ ابو عبیدہ نے امریکی انتظامیہ کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، کہ یہ صہیونی وجود صرف ان کی کڑیوں سے جڑا ہوا ہے، جو وقت کے ساتھ ٹوٹ جائیں گی،کمانڈرابو عبیدہ نے فلسطینی عوام کی قوت اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج فلسطینی عوام اپنی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر ہیں، جہاں ان کی استقامت اور حوصلہ دشمن کی سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ یہ صہیونی ریاست اب دنیا کی تمام آزاد قوموں کے درمیان بد نام ہو چکی ہے، جبکہ فلسطینی عوام ایک تاریخی صمود کے ساتھ کھڑے ہیں، حالانکہ انہیں دھوکہ دیا گیا اور امریکی اور مغربی حمایت یافتہ دشمن کے ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ ہم ایک غیر متوازن جنگ میں لڑ رہے ہیں، جہاں دشمن ایک مجرم کی طرح ہر قسم کے جرائم کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ ہمارے مجاہدین اور فلسطینی عوام کے مزاحمت کار ہر کونے میں غزہ میں اپنی بہادری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم نے ہزاروں دشمن فوجیوں کو ہلاک و زخمی کیا ہے اور سو سے زائد فوجی آلات کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ ہمارا عزم طویل اور تکلیف دہ جنگ جاری رکھنے کا ہے، اور ان معرکوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ راستہ کامیابی کی جانب لے جا رہا ہے۔مغرور دشمن تاریخ کے اسباق، حقیقت کی سچائیاں، اور ہماری قوم کی ثقافت کو نہیں سمجھتا۔۔۔ قائدین اسماعیل ہنیہ اور حسن نصر اللہ کی شہادت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دشمن مزاحمت کی حقیقت کو نہیں جانتا، اگر اغتیالات فتح ہوتے تو مزاحمت ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ زمین ہمیں مجاہدین عطا کرتی ہے، جیسے زیتون کے درخت، اور ہر نسل کو عزت و وقار کی وراثت عطا کرتی ہے۔ ہمیں اپنے وطن کی حفاظت کے لیے مل کر جدوجہد کرنی ہوگی!انہوں نے کہا کہہم فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے سب سے بڑی عرب، اسلامی اور بین الاقوامی مہم شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔صیہونیوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ پوری آزاد دنیا سے خارج ہیں،ہم الیکٹرانک جنگی ماہرین سے دشمن کے خلاف سب سے بڑے سائبر حملے کا مطالبہ کرتے ہیں،ہم اپنے لوگوں کے خلاف قبضے کی جارحیت کے خطرے کو واضح کرنے اور تنازعہ کی حقیقت اور اپنی لڑائی کے انصاف کو واضح کرنے کے لیے پوری قوم کے علما کو جمع کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ہم فرقہ وارانہ گفتگو کی عدم موجودگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں