(گزشتہ سے پیوستہ)
آج صورتحال یہ ہےکہ مشرقِ وسطیٰ کےجن ممالک میں بادشاہتیں قائم نہ رہ سکیں، وہاں بھی شخصی آمریتیں ہیں، اور مغرب کی طرف سے ان کی پشت پناہی کےباعث جمہوریت اور انسانی حقوق ہنوز دِلی دور است کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا قیام اور اسے اس درجہ طاقتور بنا دیناکہ اردگرد کے ممالک کے لئے اس کی بالادستی قبول کیے بغیر کوئی چار کار نہ رہے، اسی منصوبہ کا حصہ ہے، جس پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد کے بعد اب اس کےاگلےحصے کی جھلکیاں مذکورہ رپورٹ کی صورت میں سامنے آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ صدی کے دوران عرب ممالک اور اسلامی ممالک کو جمہوری حقوق اور اقتدارمیں شرکت کےمسلمہ حق سےمحروم کرنےکی حکمتِ عملی کامقصد یہی تھا کہ جب اس اگلے منصوبے پر عملدرآمد کا موقع آئے تو مسلم ممالک اس قدر بےجان ہو چکے ہوں کہ وہ عرب ممالک اور اسلامی ممالک کو مغرب کے تحفظ کی چھتری کے نیچے لانے کے پروگرام میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ کا پروگرام کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بین الاقوامی رپورٹوں میں اس کا مسلسل تذکرہ ہوتا رہا ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس سے قبل اسے عظیم تراسرائیل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا مگر اب اسے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ کا نام دیاجارہا ہے۔
عظیم تر اسرائیل یہودیوں کی صہیونی ریاست کا وہ دیرینہ خواب ہے جس کے لیے فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی گئی۔ جسے پال پوس کر اور مسلح کر کے مغرب نے اس قدرطاقتور بنا دیا ہے کہ وہ اپنے عزائم اور ایجنڈے کی تکمیل میں کسی کی پرواہ نہیں کر رہا، اور تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کرتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ عظیم تر اسرائیل کا نقشہ اس کی طرف سے سامنے آچکا ہے جس میں پورے عراق اور مدینہ منورہ سمیت نصف سعودی عرب کے علاوہ بہت سے عرب ممالک اس کا حصہ ہوں گے، اور وہ اس خطے کا سب سے بڑا چودھری ہو گا جس کی ماتحتی میں عربوں اور مسلمانوں کو رہنا ہو گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اورجنوبی ایشیاء میں بھارت کو اسی منصوبے کے تحت آگے بڑھایاجارہا ہے اور اس کے ساتھ کھلی معیشت کے لیے جی ایٹ کے پروگرام کو بھی شامل کر لیں تو مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام کی تجارت، تیل، معدنی وسائل، اور افرادی قوت کو جی ایٹ اور مغرب کی وساطت سے امریکہ کی تحویل میں دینے کی منصوبہ بندی صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ مغرب کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر بار نئی اصطلاح اختیار کرتا ہے۔ جب یہی منصوبہ لے کر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال، اور روس نے تیسری دنیا اور مسلم ممالک پر تسلط جمایا تھا تو اسے ان علاقوں کو ترقی دینے اور نوآبادیات کا عنوان دیا گیا تھا لیکن اب وہی ممالک اکٹھے ہو کر امریکہ کی قیادت میں انہی مقاصد کے لیے دوبارہ آئے ہیں تو اس منصوبے کو عرب اور اسلامی ممالک کو تحفظ کی چھتری فراہم کرنے کا نام دے دیا گیا ہے۔ اور عظیم تر اسرائیل پر عظیم تر مشرقِ وسطیٰ کا لیبل چسپاں کر کے ملتِ اسلامیہ کو ایک نئی غلامی کے جال میں جکڑنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔
جہاں تک اس منصوبے کا تعلق ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر امریکہ، یورپی یونین اور جی ایٹ نے یہ پروگرام بنا لیا تو اس پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی، اور انہیں اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اس لیے کہ مسلم ممالک پر مسلط حکمرانوں کی کرم فرمائی سے اس وقت مغربی استعمار کے مقابلہ میں عالمِ اسلام کی صورتحال اس کہاوت جیسی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ کسی شخص سے پوچھا گیا کہ اگر وہ جنگل میں جا رہا ہو اور خالی ہاتھ ہو، آگے سے کوئی درندہ آجائے اور اس پر حملہ آور ہو جائے تو وہ کیا کرے گا؟ اس نے جواب دیا کہ پھر میں نے کیا کرنا ہے، جو کچھ کرنا ہے اسی درندے نے کرنا ہے۔ آج ہم عملاً اس مقام پر کھڑے ہیں کہ خالی ہاتھ ہیں اور درندوں کے حصار میں ہیں، ایسے میں درندے اپنا کام کر گزریں تو کچھ بعید نہیں، لیکن سیانے کہتے ہیں کہ اگر حواس قائم اور حوصلہ بحال رہے تو ایسے حالات میں بھی بچائوکی کوئی نہ کوئی صورت سجھائی دے ہی دیتی ہے۔ یہ کام اہلِ دانش کا ہے، وہ حواس قائم رکھیں، حوصلہ کے بحال رہنے کی صورت نکالیں اور ملتِ اسلامیہ کو اس خوفناک الجھن اور دلدل سے نکالنے کے لیے عقل و دانش کو استعمال میں لائیں۔ لیکن جیسا کہ نظر آ رہا ہے، اربابِ دانش ہی مرعوبیت کا شکار ہو گئے، ان کے حواس ہی خطا ہو گئے، اور ان کے حوصلوں نے ہی جواب دے دیا تو جنگل میں خالی ہاتھ جانے والے شخص کو درندے سے بچانے کی کوئی تدبیر بھلا کس کو سجھائی دے سکتی ہے؟
ہمیں عرب بادشاہتوں سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے قیام میں مغربی ممالک سنجیدہ ہیں، اس منصوبہ میں عرب اور اسلامی ممالک کے لیے تحفظ کی چھتری اور عظیم تر مشرقِ وسطیٰ کے نام سے جو خوفناک اژدھا دکھائی دے رہا ہے، اس نے اورکسی سمت دیکھنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔ ہمارے حکمران اپنی اپنی ڈیوٹی پر ہیں، علما ء کرام کو اپنے روایتی کاموں سے فرصت نہیں، اور اربابِ عقل و دانش کی ایک بڑی تعداد کو ملت کی بجائے اپنے اپنے مستقبل کی فکر نے گھیر رکھا ہے۔ ان حالات میں مذکورہ رپورٹ کے مطابق اسی سال برسلز میں منعقد ہونے والی بہت بڑی سربراہی کانفرنس میں اسلامی دنیا کے مستقبل پر جو غور و خوض ہونے والا ہے، اس میں امت کی راہنمائی کون کرے گا؟ اور ملت کو صحیح راستہ دکھانے کے لیے آگے بڑھنے کی ہمت کس کو ہو گی؟ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔