Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

افراد ’’بہانہ‘‘ ناموس رسالتﷺ کا مقدس کاز ’’نشانہ‘‘؟

افسوس صد افسوس وطن عزیز پاکستان میں بھی ان طاغوتی طاقتوں کے کچھ مہرے اس گھناؤنے عمل کا حصہ ہیں۔ حیرت درحیرت کہ اسپیشل برانچ پنجاب لاہور نے رواں برس جنوری میں ایک confidential رپورٹ مرتب کی۔ جس میں سنہ 2017 سے اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے جاری قانونی کاروائی کو ’’بلاسفیمی بزنس‘‘ کا نام دیا گیا۔ مذکورہ رپورٹ بغیر کسی شواہد کی بنیاد پر مرتب کی گئی۔حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ مذکورہ رپورٹ جنوری 2024 سے لیکر 29 جولائی 2024 تک یعنی پورے سات ماہ خفیہ رہی اور پھر امریکہ میں پناہ گزین پاکستانی بھگوڑے دانش فروش کے ذریعے اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا گیا۔یہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مذکورہ بے بنیاد رپورٹ زیر حراست مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کے لئے طاغوتی طاقتوں کے ایماء پر مرتب کی گئی تھی اور اسے مخصوص وقت میں ہی استعمال کرنے کے لئے خفیہ رکھا گیا تھا۔ اسپیشل برانچ پنجاب لاہور کی مذکورہ بے بنیاد رپورٹ کی بنیاد پر زیر حراست گستاخوں کے ورثاء اور دجالی میڈیا ایک بیانیہ بناکر زیر حراست گستاخوں کو آئین و قانون کے مطابق انجام سے بچانے کی کوششیں کر رہا ہے، لیکن ان کی یہ کوشش ان شاء اللہ رائیگاں جائے گی۔ یہ خاکسار سمجھتا ہے کہ اسپیشل برانچ پنجاب لاہور کی مذکورہ رپورٹ اور پھر اس کے منظر عام پر آنے کے بعد دجالی میڈیا کے ذریعے بنایا جانے والا بیانیہ عدالتوں پر اثرانداز ہونے کی ایک گھناؤنی کوشش ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ رپورٹ اعلیٰ عدلیہ کی اس لحاظ سے توہین بھی ہے کہ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ تو سنہ 2017 سے لیکر اب تک اعلیٰ عدلیہ بالخصوص اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے متعدد سخت احکامات کی روشنی میں مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف قانونی کاروائی کررہی ہے۔ اگر مذکورہ رپورٹ کو درست مان لیا جائے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ ’’بلاسفیمی بزنس‘‘ کی مرکزی کردار ہے؟ یہ واضح طور پر توہین عدالت ہے،اس خاکسار کی دانست میں اسپیشل برانچ پنجاب لاہور کی اس رپورٹ میں افراد ’’بہانہ‘‘ جبکہ ناموس رسالت ﷺ کا مقدس کاز اصل ’’نشانہ‘‘ ہے۔ جسے کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ امریکی صیہونی پٹاری کے دانش فروش ہوں یا پھر ان کے دسترخوان کے راتب خور، ان سب کو قانون کی حکمرانی قائم کر کے عبرتناک شکست سے دو چار کریں گے، ان شاء اللہ۔ اس موقع پر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر کسی بھی فرد نے کوئی غیر قانونی عمل کیا ہے، تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئیے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے مقدس مشن کی آڑ میں کوئی بھی غیر قانونی عمل بلاشبہ ایک سنگین جرم ہے۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے۔تاہم اس حوالے سے صرف الزام ہی کافی نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کا ہونا بھی ضروری ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ گزشتہ تقریباً آٹھ سالوں سے مقدس ہستیوں بالخصوص سرکار دو جہاں حضور ﷺ،اہل بیت رضی اللہ عنہم،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،قرآن کریم سمیت دیگر شعائر اسلام یہاں تک کہ اللہ رب العزت کی بھی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ فحش مواد کی سوشل میڈیا پر ناپاک تشہیری مہم جاری ہے۔اسلام دشمن عناصر نے مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کا آغاز سنہ 2016 کے آخر سے سوشل میڈیا (فیس بک اور ٹوئٹر) پر بھینسا، روشنی، موچی، جگن جیسے دیگر ناموں سے پیجز اور اکاؤنٹس بنا کر کیا تھا۔ اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی صدر تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان حضرت طارق اسد ایڈووکیٹ نور اللہ مرقدہ کے توسط سے رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی۔ جس کی تاریخی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے مذکورہ رٹ پٹیشن پر 116 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تھا جو تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے پاکستان کی عدالتی تاریخ کا بہترین فیصلہ ہے۔ مذکورہ پٹیشن پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سخت احکامات کے نتیجے میں ریاستی ادارے وقتی طور پر مذکورہ گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے متحرک ہوئے تھے۔ اس لئے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مذکورہ حساس ترین معاملے پر صرف فیصلہ دیکر اسے فائلوں کی نظر نہیں کیا تھا بلکہ مذکورہ فیصلے کے ایک ایک لفظ پر من و عن عملدرآمد کروانے کے لئے بھی انہوں نے اپنی کاروائی جاری رکھی تھی۔ جس وقت تک جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج تھے، اس وقت تک مذکورہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے مذکورہ رٹ پٹیشن کی سماعت جاری رہی۔ اس کے بعد سے آج تک اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوبارہ مذکورہ کیس سماعت کے لئے مقرر نہ ہو سکا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے بعد متعلقہ اداروں نے مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے معاملے سے صرف نظر کرنا شروع کر دیا۔ جس وجہ سے سنہ 2020 کے آخر سے سوشل میڈیا پر مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم نے ایک دفعہ پھر پوری شدت کے ساتھ سر اٹھا لیا۔مذکورہ گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے متعلقہ اداروں کو متعدد درخواستیں دی گئیں مگر ان پر کوئی کاروائی کرنے کے بجائے انہیں ردی کی ٹوکری کے نظر کیا جاتا رہا۔ بالآخر تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے ذمہ داروں نے ایک دفعہ پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے موجودہ فاضل چیف جسٹس عامر فاروق نے مذکورہ معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور ایف آئی اے سمیت متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پر مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کے خلاف بلا تفریق سخت ترین قانونی کاروائی کرنے کی ہدایت سختی سے جاری کی۔ جس کے نتیجے میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے متحرک ہوا۔ بعدازاں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں شہری عمر نواز نے بھی پٹیشن دائر کی۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے بھی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے سخت احکامات صادر کئے۔فاضل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس چوہدری عبدالعزیز کی ہدایت پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف جولائی سنہ 2021 سے شروع ہونے والی اس کاروائی کے دوران ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ اب تک ملک بھر سے تقریباً چار سو سے زائد مجرمان کو گرفتار کر چکا ہے۔ مجموعی طور پر اب تک مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث 17 مجرمان کو متعلقہ عدالتیں سزائے موت بھی سنا چکی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے مذکورہ سنگین جرم میں ملوث مجرمان کی سرکوبی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود طاغوتی طاقتوں کے ان مہروں کا بھی کڑا محاسبہ کرے، جو مذکورہ مجرمان کے خلاف جاری قانونی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں