بہاولپور کی تاریخ دو سو سال پرانی ہے۔تقسیم ہند کے بعد 1955 تک ریاست بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی رہی۔بعدازاں ریاست ون یونٹ میں شامل ہو گئی اور ریاست کے نوابوں نے اس کی جداگانہ صوبے کی الگ حیثیت ختم کر دی۔یوں ریاست بہاولپور کے تمام آئینی اختیارات بھی سلب ہو گئے اور ریاستی لوگ پاکستان کے آئین کے مطابق زندگی بسر کرنے لگے۔اس کے آئینی ضابطوں کے پابند بن گئے تاہم 1970 میں لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ون یونٹ تحلیل کر دیا گیا۔تاریخ کے ایک پروفیسر ڈاکٹرطاہر کے مطابق یحیی خاں نے ون یونٹ کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو بہاولپور کے عوام کو اپنی سابقہ ریاست کی بحالی کی امید پیدا ہوئی۔تاہم جب ایسا نہ ہوا تو بہاولپور کے باسیوں نے اپنے حقوق کے لیےایک زبردست تحریک کا آغاز کیا۔اس تحریک کا مرکز تاریخی فرید گیٹ تھاجہاں عوامی جلسے اورمظاہرے کیےجاتے تھے۔یہ تحریک قریباً چھ ماہ تک جاری رہی۔بلآخر جاری اس تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا۔1970 میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں بہاولپور کی بطور صوبہ بحالی اہم انتخابی نعرہ بن کر ابھرا۔ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک متحدہ محاذ کی شکل میں اس مطالبے کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں۔
انتخابی نتائج نے بہاولپور کے عوام کی خواہش کی عکاسی کی۔قومی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ اور صوبائی اسمبلی کی 18 میں سے 16 نشستوں پر بہاولپور کے امیدوار کامیاب ہو گئے۔بہاولپور کے عوام نے انہیں الگ صوبہ بنانے کے نام پر بے تحاشا ووٹ دئیے۔ بہاولپور،پنجاب کا بڑا ڈویژن ہے جس کی حدود بہاولنگر اور رحیم یارخاں تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ بڑا زرخیز علاقہ ہےجو غذائی اجناس کی پیداوار کے لیےدنیابھرمیں مشہور ہے۔یہاں کی گندم غذائی اعتبار سے بہت پسند کی جاتی ہے۔طاقت اور ذائقےمیں بےمثال ہے۔مانگ کا عالم یہ ہے کہ بیرون ملک سے بھی ایکسپورٹ کے آرڈر آتے ہیں۔ہم آج بہاولپور ڈویژن کے اہم ڈسٹرکٹ بہاولنگر کی بات کریں گےجس کی مٹی بہت زرخیز مانی گئی ہے۔یہاں پیدا ہونے والی غذائی اجناس میں سے گندم سب سے اہم ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک میں گندم کی مختلف ورائیٹیوں کی کاشت ہوتی ہےتاہم اس اناج کی سبھی ورائیٹیاں دو بنیادی اقسام سے نکلی ہیں، اول پاکستان قسم (Durum)اور دوم روٹی قسم۔ (Common Wheat)جو روٹیوں، ڈبل روٹی،بن وغیرہ بنانے میں کام آتی ہے۔یہ دونوں اقسام دنیا بھر میں قریبا ساڑھے چار ارب انسانوں کا من پسند کھاجا ہیں۔پاکستان میں کاشت ہونے والی اہم غذائی فصلوں میں سے گندم بہت اہم فصل ہے۔ربیع کا موسم آتا ہے تو پاکستان بھر میں گندم کی کاشت شروع ہو جاتی ہے۔پاکستان، پیداوار کے حوالے سے دنیا بھر میں گندم پیدا کرنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔گندم کی پیداوار میں بہتری کے لیے تحقیقاتی کوششوں کا آغاز 1926 میں اس وقت ہوا جب یہاں سیریل سیکشن لائل پور قائم ہوا۔1975 میں اسے ترقی دے کر ادارہ تحقیقاتی گندم فیصل آباد کا نام دےدیاگیا۔اب تک گندم کی جو اقسام دریافت کی گئیں ان اقسام نے عمومی طور پر ملکی سطح، اور خصوصی طور پر پنجاب بھر میں گندم کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔1947-48 میں گندم کی ملکی پیداوار 2.63 ملین ٹن تھی جو بڑھ کر اب 30 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی ہےجس کی وجہ سے آج ملک گندم کی پیداوار میں مکمل طور پرخودکفیل ہوچکا ہے۔گندم کی پیداوارکومزید بڑھانے کے لیے تحقیقاتی ادارہ برائے گندم کے سائنسدان مسلسل کوشاں ہیں جس کے باعث اب ہم بہت بڑے سبز انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
سرکاری رپورٹ سے ملنے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گندم خریداری مہم میں بہاولنگر کو پہلا نمبر حاصل ہےجبکہ دوسرے،تیسرے اور چوتھے نمبر پر آنے والے اضلاع میں بہاولپور، راجن پور اور رحیم یارخاں شامل ہیں۔محکمہ فوڈ کی جانب سے بہاولنگر سے تین لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ٹارگٹ رکھا گیا تھاجو محکمہ فوڈ نے باآسانی حاصل کر لیا۔تاہم پنجاب،ڈسٹرکٹ بہاولنگر اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے زمیندار اور چھوٹے کسان اپنی فصل کی خریداری کے باوجود بہت مضطرب اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ان کے نزدیک گندم خریداری میں حکومت نے صحیح ریٹ مقرر نہیں کیا۔مہنگائی،لاگت اور بجلی کے بلوں نے زمینداروں کے اوسان خطا کر رکھے ہیں۔کسان کا دارومدار فصل پر ہوتا ہے اور فصل پرافٹ نہ دے تو کاشتکاری کا کیا فائدہ؟کاشتکار کی یہ پریشانی آج بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہےاورتمام کسان موجودہ حکومت کو کوسنےاوررونے دھونےپر مجبور ہو چکے ہیں۔اگرچہ سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والے ڈسٹرکٹ بہاولنگر میں گندم خریداری کے لیئے پاسکو کی جانب سے 22 خریداری مراکز قائم کیے گئے تھےتاہم فصل میں نمایاں اضافے کے باوجود کاشتکاروں کی پریشانی اپنی جگہ موجود ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گندم کی پیداوار میں اضافےسے کاشتکار خوش ہوتے لیکن اس کے برعکس خریداری میں سرکاری ریٹوں میں کمی کے باعث ان کی خوشی کافور ہو گئی ہے۔پنجاب اور بہاولنگر کے زمینداروں نے امسال 10 لاکھ 50 ہزارایکٹررقبے پرگندم کاشت کی اورپیداوار بڑھانے کے لیے حکومت پنجاب نے اچھی کوالٹی کی یوریا کھاد سندھ سےبذریعہ ٹرین منگوائی۔ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کے مطابق یہ یوریا کھاد تعین کردہ نرخوں پر ضلع اور تحصیل کی سطح پر کاشتکاروں میں تقسیم کی گئی جس کے فصل پر اچھے اثرات مرتب ہوئے اور فصل کی پیداوار توقع سے کہیں بڑھ کر ہوئی۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کارروائی کا آغاز کیا۔ذخیرہ اندوزی کے خلاف 17 ایف آئی آرز درج کرائیں۔13 افراد کو گرفتار کیا گیاجبکہ ان پر سات لاکھ جرمانہ بھی ہوا،6 گودام سیل کردیئے گئے۔یہ کارروائی اپنی جگہ مستحسن قرار دی جا سکتی ہےلیکن حکومت جب تک کاشتکار بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی نظر نہیں آئے گی،ان کی پریشانیوں کا مداوا نہیں کرے گی۔مستقبل کے لیے ہم اپنے ان کاشتکاروں سے کوئی اچھی امید نہیں لگاسکتے۔حکومت پنجاب، خاص طور پر صوبائی وزیر خوراک کی ذمہ داری ہے کہ بہاولنگر ہی نہیں،گندم پیدا کرنے والے پنجاب کے دیگر اضلاع کے کاشتکاروں کے مسائل کو بھی دیکھے۔گندم کے کم ریٹوں پر توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے ۔ زمینداروں کو جب تک صحیح ریٹ نہیں ملیں گے یقینی طور پر وہ اگلی فصل پر توجہ نہیں دے سکیں گے۔ایسا ہواتو سٹیٹ کے لیئے بڑا مسئلہ ہوگا۔