یاجوج و ماجوج کے بارے میں یہ روایت عام ہے کہ ذو القرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا کر انہیں قید کر دیا تھا، اور یہ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ظاہر ہوں گے۔ یہ تفصیل قرآن مجید کی سورہ الکہف میں بیان کی گئی ہے اور بہت سے مفسرین نے اس کی وضاحت کی ہے۔ سورہ الکہف میں ذوالقرنین کے تین اسفار کا ذکر ہے، جن میں سے ایک سفر کے دوران وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں جو یاجوج و ماجوج کے ظلم سے پریشان تھی۔ ترجمہ: انہوں نے کہا، اے ذوالقرنین! یاجوج و ماجوج زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، تو کیا ہم آپ کو کچھ مال دیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں؟(الکہف: 94)
ذو القرنین نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے ایک مضبوط سد (دیوار)بنائی،ترجمہ: لائو میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے تختے، یہاں تک کہ جب دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی، تو کہا کہ اسے دھونکو (آگ دو)۔ جب اسے (لوہا) آگ بنادیا تو کہا کہ اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبہ لائو تاکہ میں اسے اس پرڈال دوں۔(الکہف: 96) اس کے بعد ذوالقرنین نے کہا۔ ترجمہ: تو وہ (یاجوج و ماجوج) نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے۔ (الکہف: 97)
مفسرین کے مطابق، یہ دیوار اس وقت یاجوج و ماجوج کو قید کیے ہوئے ہے اور آخری زمانے میں جب اللہ کاحکم ہوگا، یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یاجوج و ماجوج زمین پر پھیل کر فساد کریں گے۔ یہ واقعہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد اور دجال کے خاتمے کے بعد پیش آئے گا۔حدیث میں بھی واضح طورپرذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے فتنہ کو ختم کریں گے اور اس کے بعد یاجوج و ماجوج ظاہر ہوں گے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے، ترجمہ: پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس ایک قوم آئے گی جنہیں اللہ نے یاجوج و ماجوج کے فتنےسے محفوظ رکھا ہوگا، اور وہ ان کے چہروں کو صاف کریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجات کے بارے میں بتائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے کچھ بندے نکالے ہیں جن سے کوئی لڑائی نہیں کر سکتا، لہٰذا میرے بندوں کو طور کی طرف لے جائو۔ (صحیح مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ یاجوج و ماجوج کا خروج حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا اور وہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جسے انسانی طاقت سے شکست نہیں دی جا سکے گی۔ مفسرین میں سے علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں یاجوج و ماجوج کے خروج کے واقعات اور احادیث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قوم انتہائی بڑی تعداد میں ہوگی اور زمین پر تباہی پھیلائے گی۔علامہ قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ یاجوج و ماجوج کی دیوار کا ٹوٹنا اور ان کا خروج ایک یقینی قیامت کی نشانی ہے۔
حضرت مولانا رومیؒ اور دیگر مفسرین نے یاجوج و ماجوج کو انسان کے نفس اور اندرونی خواہشات کی علامت کے طور پر بھی تعبیر کیا ہے۔ ان کے نزدیک، یاجوج و ماجوج کا خروج انسان کے اندرونی نفس کے غلبے کی علامت ہے جو دنیاوی فساد کی جڑ بنتا ہے۔علامہ یوسف علی نے سورہ الکہف کی آیات 83-98 میں یاجوج و ماجوج کے ذکر کو ایک اہم موضوع بنایا ہے۔ ان کے مطابق، یاجوج و ماجوج کا قصہ ذو القرنین کے سفر کے پس منظر میں بیان ہوا ہے، جس میں ذو القرنین ایک ایسی قوم کےپاس پہنچتے ہیں جو ان وحشی قبائل (یاجوج و ماجوج) کےحملوں سے پریشان تھی.یوسف علی نے اپنی تفسیر میں یاجوج ماجوج کے سلسلہ میں قفقاز (Caucasus) کے علاقے کوخاص طور پر اہم قرار دیا اور ذکر کیا کہ یہ وہ علاقہ ہوسکتا ہے جہاں ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کی تھی۔ قفقاز کے علاقے میں واقع داغستان کے پہاڑوں کو یوسف علی نے اس دیوار کے ممکنہ مقام کے طور پر بیان کیا ہے۔انہوں نے اس علاقے کی جغرافیائی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یاجوج و ماجوج کو تاریخی قبائل یا دیگر مشرقی وحشی اقوام سے جوڑا، جو وقتاً فوقتاً تہذیب یافتہ دنیا پر حملے کرتے رہے ہیں۔بڑے علماء کرام کی تحریروں کی روشنی میں یاجوج و ماجوج کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح نشاندہی موجود ہے کہ یہ قوم دو پہاڑوں کے درمیان بند کی گئی ہے اور قیامت کے قریب دوبارہ ظاہر ہو کر زمین پر فساد پھیلائے گی۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ہوگا۔
مفسرین نے اس معاملے کو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ یاجوج و ماجوج کا خروج ایک عظیم فتنہ ہوگا جسے اللہ کی مدد کے بغیر کوئی نہیں روک سکتااور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کے آخر میں ظہور پذیر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سب فتنوں پر استقامت کے ساتھ طریق حق پر قائم رکھے۔ آمین۔