دنیا کے ہر دور میں آزمائشیں اور فتنے انسانیت کے لیے بڑی ابتلا کا سبب بنے ہیں، لیکن آخر زمان کا دور وہ ہوگا جس میں فتنے اپنی شدت اور وسعت میں بے مثال ہوں گے۔ ان فتنوں کا ذکر احادیث مبارکہ میں تفصیل سے آیا ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان فتنوں کو ’’دہیما‘‘، ’’السرا‘‘ اور ’’الحلاس‘‘کے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ یہ فتنے ایسے ہوں گے کہ ہر انسان کسی نہ کسی طور پر ان کی زد میں آئے گا، حق و باطل، سچ اور جھوٹ میں تمیز مشکل ہوجائے گی۔آئیے ہم ان تین فتنوں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں، جن کی نشانیاں اور اثرات موجودہ دور میں بھی واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔فتنہ الاحلاس فتنہ الحلاس کا ذکر سب سے پہلے احادیث مبارکہ میں آتا ہے۔ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:’’نہ سیون بعدی فتن، الول فتن الحلاس، قیل: وما فتن الحلاس؟ قال: ہی ہرب وحرب‘‘ (مسند احمد)اس فتنہ کو الحلاس اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ایک طویل، خوفناک اور پرآشوب زمانہ ہوگا جس میں لوگ نزاعات، اختلافات اور جنگوں میں مصروف ہوں گے۔ اس کا نام الحلاس اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس میں لوگ اپنی زمینوں اور گھروں سے چمٹ جائیں گے جیسے حلس (یعنی اونٹ کی پشت پر رکھی جانے والی چادر) ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلسل خوف، اضطراب اور بے چینی کا دور ہوگا، جس میں لوگ امن و امان کی تلاش میں گھروں میں مقید ہو کر رہ جائیں گے، لیکن پھر بھی ان پر مصائب آئیں گے۔ علامتیں:جنگ و جدال کا ہر طرف پھیل جانا۔
لوگوں کا اپنے گھر میں محصور ہوکر زندگی بسر کرنا۔فتنہ السرایہ دوسرا بڑا فتنہ ہے، جسے ’’السرا‘‘کے نام سے پکارا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ثم یون بعد فتن السرا دخنہا من تحت قدمی رجل من ہل بیتی‘‘ (مسند احمد)’’السرا‘‘ کا مطلب راحت یا خوشحالی ہے۔ اس فتنہ کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ بظاہر اس میں لوگوں کو دنیاوی آسائشیں اور خوشحالی میسر ہوگی، لیکن درحقیقت یہ فتنہ فساد اور بدامنی کا پیش خیمہ ہوگا۔ یہ فتنہ اس وقت شروع ہوگا جب لوگ دنیاوی مال و دولت میں مستغرق ہو جائیں گے اور دینی و اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دیں گے۔علامتیں: دولت اور دنیاوی مفادات کی پیروی عام ہونا ۔دینی اور اخلاقی اقدار کا نا پید ہونا۔ ایک دوسرے کے حقوق کا پامال ہونا۔ فتنہ دہیمایہ تیسرا اور سب سے بڑا فتنہ ہے، جسے ’’دہیما‘‘کہا گیا ہے۔ اسے متعلق نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’ثم فتن دہیما لا تدع حدا من ہذہ الم لا لطمتہ لطم‘‘(مسند احمد) ’’دہیما‘‘ کا مطلب ایک گہرا اور اندھا فتنہ ہے، جو ہر شخص کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس فتنے کی خصوصیت یہ ہوگی کہ یہ اتنا وسیع و عریض اور دقیق وپیچیدہ ہوگا کہ اس سے بچنا تقریبا ناممکن ہوگا۔ سچ اور جھوٹ کی پہچان بہت مشکل ہو جائے گی اور اور لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہوں گے۔علامتیں: ہر شخص کسی نہ کسی طور پر اس فتنے کا شکار ہونا۔ سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہونا۔ ظلم و ناانصافی کا عام ہونا، لوگوں کا سخت ابتلا و آزمائش میں گھر جانا۔کون سے فتنے واقع ہو چکے ہیں اور کون سا فتنہ باقی ہے؟1.فتنہ الحلاس: علمائے کرام کے مطابق، یہ فتنہ ماضی میں رونما ہو چکا ہے اور متعدد جنگیں، خانہ جنگیاں، اور سلطنتوں کا زوال اس کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ فتنہ اسلامی تاریخ میں خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے ابتدائی دورِ حکمرانی کے بعد رونما ہوا، جہاں مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جنگیں سامنے آئیں، جیسے جنگ جمل، جنگ صفین، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تنازعات۔ یہ آخری زمانے کا ایک بڑا اور خوفناک فتنہ ہوگا جو دجال کے ظہور تک جاری رہے گا۔ اسے ’’الحلاس‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فتنہ طویل، پیچیدہ، اور انتہائی خوفناک ہوگا۔ اس دوران لوگ گھروں میں محصور ہو جائیں گے، اور جنگ و جدال اور فتنہ و فساد دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیل جائے گا۔-2فتنہ السرا: کچھ علما کے مطابق، یہ فتنہ اس موجودہ وقت میں ظاہر ہو رہا ہے جہاں لوگ دنیاوی آسائشوں اور دولت کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، جبکہ دینی و اخلاقی اقدار پس پشت ڈال دی گئی ہیں۔یہ ایک ایسا فتنہ ہے جو دنیاوی خوشحالی اور آسائشوں کے پردے میں چھپا ہوا ہو ہے، لیکن اس کے پس پردہ دنیاوی فریب، دینی بے راہ روی، اور اخلاقی انحطاط کا راستہ ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیاوی مفادات، شہرت، دولت، اور لذتوں کا حصول عام ہو چکا ہے۔ یہ فتنہ بظاہر آرام اور سکون کا تاثر دیتا ہے، لیکن درحقیقت انسان کو دین سے دور کر رہا ہے۔یہ فتنہ دنیا میں عدم استحکام، جنگوں، اور معاشرتی بحرانوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ احادیث میں اس فتنہ کے دوران عالمی جنگوں، فساد، اور دینی اقدار کی زوال پذیری کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ 3 -فتنہ دہیما: موجودہ دور کا سب سے سنگین فتنہ ہے، لوگوں کے دلوں میں گمراہی اور فساد پھیل رہا ہے، اور سچائی اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں افراتفری، دینی قدروں کا زوال، اور اخلاقی پستی اس فتنے کی واضح نشانیاں ہیں۔یہ فتنہ روحانیت اور دینی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر انسان کو دنیاوی دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔آخری فتنہ اور دجال کا ظہور:فتنہ الحلاس دجال کے فتنے تک جاری رہے گا، جو آخر الزمان کا سب سے بڑا اور سخت ترین فتنہ ہوگا۔ دجال کا ظہور دنیا کے لیے ایک عظیم امتحان ہوگا اور یہ فتنے کی آخری اور سخت ترین شکل ہوگی، دجال لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا اور دنیا بھر میں فتنہ و فساد پھیلائے گا۔نزولِ حضرت عیسی علیہ السلام اور دجال کا خاتمہ:دجال کا فتنہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ حضرت عیسی علیہ السلام دجال کو شکست دیں گے اور دنیا میں عدل و انصاف کو دوبارہ قائم کریں گے۔ اس کے بعد دنیا میں امن و سکون اور دینی اقدار کی روشنی پھر سے پھیل جائے گی۔نتیجہ:فتنہ دہیما کی ابتدا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہوئی، اور اس کی مختلف شکلیں اسلامی تاریخ میں ظاہر ہوئیں ۔ فتنہ السرا جدید دور میں سوشل میڈیا، ٹیکنالوجی، اور دنیاوی مفادات کی دوڑ کی صورت میں جاری ہے۔فتنہ الحلاس آخری اور بڑا فتنہ ہوگا، جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کا آغاز غیر اخلاقی رویوں اور برائی کی پذیرائی سے ہوا، یہ فتنوں کا دور مسلسل آزمائش کا زمانہ ہے، اور ہمیں ان فتنوں سے بچنے کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے، اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنے کردار و اخلاق کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔