ایک جانب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے تو دوسری جانب لسانی تعصب کے علمبردار معاشرے میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ کہ تمام دہشت گرد حملے افغانستان کی سرزمین سے کیے جا رہے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغانستان کی سرزمین پر ہندوستان اور طالبان عبوری حکومت کے بعض بااثر عناصر کی پناہ میں ہیں۔ سرحد پار دہشت گرد حملوں سے افواج پاکستان، پیرا ملٹری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیشتر اہل کار اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔ نازک حالات کا تقاضہ ہے کہ داخلی اتحاد اور استحکام قائم کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں ۔ اس کے برعکس نام نہاد قوم پرست گروہ لسانی نفرت اور تعصب کی اگ بھڑکا رہے ہیں۔ نام۔نہاد پشتون تحفظ موومنٹ کی مشکوک سرگرمیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ تحریک دراصل حقوق کی اڑ میں پشتون علاقوں میں علیحدگی کے بیج بونے میں مصروف ہے۔ مقام حیرت ہے کہ جو دہشت گرد سرحد پار سے حملے کر کے بے گناہ پشتونوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے ان کے خلاف نام نہاد قوم پرستوں نے نہ کبھی احتجاج کیا، نہ کبھی کوئی دھرنا دیا اور نہ ہی انہیں پشتون روایات کے مطابق کسی جرگے کے انعقاد کا خیال آیا۔ یہ نام نہاد قوم پرست جب بھی احتجاج کرنے نکلے تو ان کے لبوں پر دہشت گردوں کے بجائے سرحدوں کے محافظوں کے خلاف نعرے تھے۔ انہوں نے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے ہندوستان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ انہیں جب بھی شکایت ہوئی تو ریاست سے ہوئی سرحد پار بیٹھے دہشت گردوں ان کے سر پرستوں اور انہیں ہتھیار فراہم کرنے والے پوشیدہ ہاتھوں کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی قوم پرستوں کی زبان سے نہیں نکلا۔
گزشتہ دنوں خیبر پختون خواہ میں قومی جرگے کی آڑ میں ایک مشکوک تنظیم نے وسیع تر فساد پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ حکومت نے بروقت اقدام کرتے ہوئے اس علیحدگی پسند تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا۔ تاہم معاملے کی سنگینی کا تقاضہ کہ گہری جانچ پڑتال کے بعد غیر ملکی سرمائے کے بل پر پاکستان میں لسانی نفرت کی آگ بھڑکانے والے عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔ مشکوک لسانی تنظیمیں کسی رو رعایت کی مستحق نہیں۔ قوم پرستی کی آڑ میں ان تنظیموں کے کارکن در اصل خارجی دہشت گردوں کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ اس زہریلے اتحاد کو سمجھنا دشوار نہیں۔ جس وقت کالعدم پی ٹی ایم نے خیبر پختون خواہ میں جرگے کا اعلان کیا تو سرحد پار دہشت گردی میں ملوث کالعدم ٹی ٹی پی نے صوبے میں اپنے تئیں جنگ بندی کا اعلان کر دیا ۔ اس یکجہتی اور اشتراک عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کالعدم تنظیموں کے درمیان گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں کالعدم تنظیمیں ریاست پاکستان کی دشمن ہیں۔ ان کے اہداف مشترک ہیں ۔ یک دونوں تنظیمیں ہمہ وقت افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلتی رہتی ہیں۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد جب سرحدی چوکیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پہ حملہ آور ہوتے ہیں تو عین اسی وقت نام نہاد قوم پرست فوج کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں اور گلیوں مئں نکل آتے ہیں۔ قوم پرستی کی آڑ میں سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔مقام حیرت ہے کہ جس کالعدم ٹی ٹی پی نے پاکستان میں کسی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو نہیں بخشا وہی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم نام نہاد قوم پرستوں کے جرگے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر دیتی ہے۔ ان تنظیموں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی کا سب سے بڑا ثبوت جرگے کے دوران اٹھائے گئے انتہائی قابل اعتراض نکات ہیں۔
جرگے میں بعض شرپسند عناصر نے سرحدی علاقوں سے فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ معنی خیز فرمائشیں بھی کی گئی ہیں کہ قبائل تیس ہزار نفری پر مبنی مسلح لشکر تشکیل دیں گے۔ پشتون گورا راج کی طرز پر آزادانہ تجارت کریں گے۔ قبائل نہ کوئی ٹیکس ادا کریں گے اور نہ ہی سرحد پار یعنی افغانستان آمد و رفت کے لئے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سفری دستاویزات کی پابندی قبول کریں گے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان مطالبات سے علیحدگی پسندی اور خوارج دوستی کی بو آتی ہے۔ فتنہ خوارج کے دہشت گرد افغانستان سے ملحق سرحدی علاقوں سے فوج کے انخلا کی شدید خواہش دل میں دبائے بیٹھے ہیں۔ قوم پرست جرگوں کی آڑ میں خارجیوں کی وکالت اور سہولت کاری میں مصروف ہیں۔ پاکستان کوئی لاوارث رجواڑا نہیں کہ جس کی سرحدیں دہشت گردوں کے لئے کھول دی جائیں۔ سرحد پار مفرور خارجی دراصل ریاست پاکستان کے دفاع کو کھوکھلا کر کے ملک کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ نام نہاد قوم پرستوں اور خارجی دہشت گردوں کے اشتراک عمل سے واضح ہو گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم پی ٹی ایم ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔