Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

چین‘پاکستان‘ لازوال دوستی کی اعلیٰ مثال

چین اور پاکستان کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے زیادہ بلند ہے۔ یہ مثال اکثر پاکستانی اور چینی مختلف مواقع پر اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ دراصل چین نے پاکستان کی اکثر اس وقت مدد کی ہے جب اس کو بڑی ضرورت تھی۔ چاہے وہ اقوام متحدہ کا فورم ہو یا پھر علاقائی فورم ہر جگہ چین نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی عالمی اداروں میں مختلف اجلاس کے دوران چین کے موقف کی حمایت کرکے یہ ثابت کردیاہے کہ ان کی دوستی مضبوط ہے۔ نیز چین نے پاکستان کو اقتصادی مدد فراہم کرکے اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں تعاون کیا ہے۔سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان دوستی ‘ تعاون اور اتحاد کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ اتحاد آئندہ مزید تقویت پائے گا جب سی پیک کا دوسرا فیز شروع ہوگا جس میں اکنامک زون بنانے کی بات بھی شامل ہے۔ اس وقت نہ صرف بلوچستان ترقی کرے گا بلکہ اس کے اثرات پورے پاکستان پہ مرتب ہونگے۔ اس ضمن میں گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا حوالہ دینا بہت ضروری ہے۔ جس کا افتتاح گزشتہ دنوں ہوا ہے۔ اس طرح گوادر ایئرپورٹ کے ذریعے گوادر دیگر ملکوں کے ساتھ جڑ جائے گا۔ جس کے مثبت اثرات پورے بلوچستان پر مرتب ہونگے۔گوادر اب ایک انٹرنیشنل سٹی بن چکاہے۔
تاہم جو عناصر گوادر کے حوالے سے پاکستان کی ترقی کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں اس ضمن میں سخت مایوسی ہوگی۔ صرف مٹھی بھر عناصر سی پیک کے خلاف منفی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اور دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں سی پیک سے ان استحصال ہورہاہے ‘یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ سی پیک نے بلوچستان کو عالمی سطح پہ سرمایہ کاری کیلئے کھول دیاہے۔
تاہم پاکستان کے عوام ‘ حکومت اور خود بلوچستان کے عوام کی اکثریت تہہ دل سے سی پیک کے دوسرے فیز کو کامیاب ہوتا دیکھناچاہتے ہیں۔ جو عناصر سی پیک کیخلاف بیانات دیتے رہتے ہیں یا پھر ریلیاں نکال کریہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے وسائل پر قبضہ کیاجارہاہے ‘یہ محض ایک وہم ہے۔ دراصل یہ لوگ پاکستان دشمن عناصر کے اشارے پر گوادر کے ترقیاتی کاموں کومتنازعہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان عناصر کو بھڑکانے میں بھارت کا انتہائی منفی کردار ہے۔ جو گوادر میں ہونیوالے تمام ترقیاتی کاموں کیخلاف ہے۔ دراصل جب سے گوادرپورٹ تعمیر ہوا ہے‘ بھارت اس وقت سے لیکر آج تک اس کو ناکام بنانے کی کوشش کرتارہتاہے۔
چند نادان پاکستانی بلوچ بھی گوادر کے ضمن میں ایک منفی رویہ رکھتے ہیں‘ وہ اصل میں بھارت نواز لابی کاحصہ ہیں جو گوادر کی اقتصادی ترقی کے نہ صرف خلاف ہیں بلکہ اکثر انہیں ورغلاتے رہتے ہیں‘جلسے ‘جلوس نکال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ گوادر میں ان کا استحصال ہورہاہے‘ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اب گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے پورا بلوچستان عالمی سطح پہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گیاہے۔ اس ایئرپورٹ کے افتتاح کے بعد بلوچستان کا ایک عام آدمی کایہ تاثر بالکل بجاکہ اب بلوچستان حقیقت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکاہے۔ اس ایئرپورٹ کے ذریعے جہاں بلوچستان کے عوام کو دیگر ممالک کی طرف آنے جانے میں سہولتیں میسر آئیں گی وہیں اس کے ذریعے سیاحت کا ایک نیادروازہ بھی کھل گیاہے۔ مختلف ممالک سے سیاح سیاحت کی غرض سے گوادر ایئرپورٹ کے ذریعے اس جگہ پہ آسانی آجاسکتے ہیں۔
دوسری طرف بعض عناصر بلوچوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گوادر میں ہونے والی ترقی سے دوسرے صوبے کے عوام کو فائدہ پہنچ رہاہے۔ حالانکہ یہ سوچ انتہائی غلط اور منفی ہے۔ حکومت سب سے پہلے گوادر میں شروع ہونے والے تمام ترقیاتی منصوبوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔ بلکہ ایسا ہی ہورہاہے۔ دراصل گوادر انٹرنیشنل پورٹ کی تعمیر سے گوادر میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکاہے۔ چند نادان عناصر جو بھارت کی ایما پر جلسے جلوس نکالتے رہتے ہیں ‘ اس سے نقصان گوادر کے عوام کا ہورہاہے‘ یہی وجہ ہے کہ اکثریت ایسے عناصر کے ساتھ نہیں ہے جو گوادر کے سلسلے میں احتجاج کرکے یہ تاثر دیناچاہتے ہیں کہ ان کا استحصال ہورہاہے‘ حالانکہ گوادر کے تمام پروجیکٹ قومی پروجیکٹ ہیں جس میں ہر ہنر مند کو نوکریاں دی جائیں گی ‘ جبکہ سب سے پہلے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔
چنانچہ چین نے 50بلین ڈالرز خرچ کرکے گوادر سمیت پاکستان میں کئی اقتصادی پروجیکٹوں کی تعمیرکی ہے۔بلکہ اپنے ہنرمند کارکنوں کے ذریعے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اور چین کا یہ مثبت پہلو سب کے سامنے ہے۔ چین ہر لحاظ سے پاکستان کا حقیقی درست ہے۔
مزید برآں جب گوادر میں نئے معاشی زونز پرکام شروع ہوگا‘ اس وقت یہاں روزگارکے بے پناہ مواقع دستیاب ہوں گے جس میں سے سب سے پہلے یہاں کے مقامی لوگوں کواہمیت دی جائے گی بلکہ اب بھی یہی ہورہا ہے۔ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ بھارت کے علاوہ کچھ اورممالک گوادر کی ترقی کو چین کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔ تاہم بلوچوں کو خود سوچناچاہیے کہ ان کا فائدہ کس میں ہے؟ گوادر کی ترقی اوراس سے وابستہ تمام ترقیاتی منصوبوں سے یاپھر صرف احتجاج کرنے سے جس کا فائدہ پاکستان دشمن قوتوں کو ہوتاہے۔ گوادر کے تمام منصوبے قومی منصوبے ہیں‘ جس سے پاکستان کا ہر صوبہ مستفید ہورہاہے‘ اور ہوتارہے گا۔ اس کو محض گوادر تک محدود کرنا ایک غلط سوچ ہے۔ یہ ہر پاکستانی کا منصوبہ ہے۔ جو چین کی مدد اور تعاون سے پائے تکمیل تک پہنچ رہاہے۔ چند نادان عناصر کے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کیخلاف احتجاج سے ان کی ملک دشمنی ظاہر ہوتی ہے جس کی ایک عام پاکستانی شدید مذمت کرتاہے۔ ذرا سوچیئے۔

یہ بھی پڑھیں