(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک دفعہ رات مغرب کے بعد مرکزی جامع مسجد کے صحن میں تشریف فرما تھے، اچانک چاند پر نظر پڑی تو فرمانے لگے یہ چاند بھی کتنا خوش نصیب ہے کہ روزانہ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ بیت اللہ اور گنبدخضرا کی زیارت سے مالامال ہوتا ہے۔جب بھی حرمین شریفین تشریف لے جاتے تو ہر وقت طواف ، عمرہ و دیگر عبادات میں مشغول رہتے۔ ایک مرتبہ رحمانیہ دواخانہ فیض آباد والے حکیم عبیدالرحمن مرحوم مولاناشہید کے رفیق سفر تھے وہ بتانے لگے کہ مولانا صاحب ہر وقت جنون کی کیفیت سے طواف میں مصروف رہتے تھے۔ نہ گرمی سردی کا احساس نہ تھکاوٹ کا شکار، بلکہ جب بھی دیکھو عاشقانہ اوردیوانہ انداز میں (طواف میں یہی کیفیت مطلوب اور محبوب ہے)طواف میں مشغول ہیں۔ بیت اللہ شریف میں ایک عالم دین سے ملاقات ہوئی۔ تعارف ہوا مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کی نسبت سے تو فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ شہیداسلام مولانا عبداللہ نے ایک دن میں پانچ عمرے ادا کئے ، ہر مرتبہ عمرہ مکمل کرنے پر حلق کروایا۔ آخری عمرہ مکمل کر کے جب حلق کروایا تو تھوڑا سا میل ہاتھ میں آیا (ظاہر ہے کہ دن میں پانچ مرتبہ حلق کرنے سے بال تو نہیں آسکتے تھے)مولانا عبداللہ شہید کا عشق اور ذوق حرمین شریفین دیکھ کر ہر مسلمان کے دل میں حرمین کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوتی تھی، میں نے بھی حضرت سے گزارش کی کہ میں بھی حرمین شریفین عمرہ،حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے جانا چاہتا ہوں کوئی بندوبست فرمادیں تو فرمایاکہ دہی بنانے کے لئے دودھ جمع کیا جاتا ہے، پھر گرم کیا جاتا ہے، آخر میں تھوڑی سی دہی یا لسی اس میں ڈال دیتے ہیں جس سے وہ دودھ دہی بن جاتا ہے۔ فرمانے لگے دودھ کا انتظام کرلو، اس کو دہی بنانے کے لئے میں بھی اپنا حصہ ڈال دونگا۔
مولانا شہید میں بے شمار خوبیاں تھیں، لیکن ایک خوبی جو انہیں اپنے ہم عصر علماکرام میں ممتاز کرتی ہے، وہ ہے ’’انسانیت کی خدمت‘‘مولانا شہید جذبہ خدمت انسانی سے سرشار تھے۔ ہر ضرورت مند کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے۔ بغیر کسی دنیوی لالچ و غرض کے ہر ایک انسان کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔ اس لئے ملک بھر سے آئے ہوئے ضرورت مند افراد کا عموما ًمرکزی جامع مسجد میں ہجوم رہتا تھا۔ افسران اور حکام بالا، ممبران قومی اسمبلی اور وزرا بھی مولانا کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ مولانا صاحب اس کام میں انتہائی مخلص ہیں۔ کوئی لالچ دل میں نہیں رکھتے۔ اس لئے مولانا صاحب کسی کی ملازمت، یا کسی اور کام کی سفارش کرتے تو افسران اور حکام بالا اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے کہ مولانا صاحب نے ہمیں کام کے لئے سفارش کی ہے، وہ فورا ًاس کام کو کرنے کی فکر میں لگ جاتے تھے، کام الحمدللہ ہو بھی جاتے تھے۔
بعض اوقات کوئی ضرورت مند کسی عالم یا کسی شخصیت کا خط لے کر آتا تو مولانا صاحب فرماتے کہ بھائی اپنا کام بتا، میں بغیر کسی کی سفارش بھی اسی طرح تمہارے کام کے لئے کوشش کروں گا اور اس طرح مجھے اجروثواب بھی زیادہ ملے گا کہ بغیر غرض کے آپ کا کام کرائوں گا۔ بعض اوقات عمرہ حج کے ویزے کے سلسلہ میں بھی دوردراز سے لوگ آتے تھے۔ مولانا ان کے ویزے اللہ کی رضا کی خاطر فوری طور پر مفت میں لگوا دیتے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ رحیم یارخان سے آپ کا نام سن کر ایک صاحب آئے کہ میں عمرہ پر جانا چاہتا ہوں، ویزہ لگوادیں۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ اللہ کے بندے کم از کم آنے سے پہلے کچھ معلومات تو حاصل کرلیتے کہ ویزے لگ بھی رہے ہیں یا نہیں؟ آپ کو معلوم نہیں کہ تین دن پہلے سعودی ایمبیسی نے ویزوں کا اجرا بند کر دیا ہے۔ اس لئے اب آپ کے آنے کا کیا فائدہ؟ میں کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا۔ بہرحال وہ شخص اصرار کرنے لگا کہ آپ کوشش تو کریں۔ چنانچہ مولانا صاحب نے سعودی سفیر سے فون پر رابطہ کیا۔ ملنے کے لئے وقت مانگا۔ سفیر صاحب نے اسی وقت بلالیا۔ مولانا صاحب نے عمرہ ویزے کی درخواست کی تو سفیر نے اپنے گلے پر چھری پھیرنے کا اشارہ کیا کہ کیا میرا گلا کٹوانا چاہتے ہیں؟ تین دن پہلے ہی ویزے بند ہوچکے ہیں۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ میں جر حاصل کرنے کیلئے سفارش کررہا ہوں کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’جائز سفارش کرو اور اس پر اجر پا‘‘ باقی آپ کی مرضی!سفیر نے اپنے سیکرٹری کو بلایا کہ تین دن پہلے جو ویزے لگائے تھے، وہ مہریں دھوکر صاف کی ہیں یا نہیں؟ سیکرٹری کہنے لگا کہ سر! ابھی تو نہیں دھوئیں۔ سفیر صاحب کہنے لگے کہ اسی طرح وہ مہریں میرے پاس لے آ۔ چنانچہ پاسپورٹ پر ویزے کی مہریں لگائیں اور دستخط بھی کردیئے، اتفاق سے اسی دن آخری فلائٹ جارہی تھی چنانچہ مولانا صاحب نے فوراً ان کے ٹکٹ کا بھی بندوبست کردیا۔ اسی شام کو وہ شخص احرام باندھ کر جدہ پہنچ گیا۔ ایک ہی دن میں یہ تمام کام ہوجائیں ۔ کرامت نہیں تو کیا؟
( جاری ہے )