(گزشتہ سے پیوستہ)
مولانا عبداللہ شہید میں ہر اچھی صفت اور خوبی کامل اور اتم درجہ میں پائی جاتی تھی، لیکن خاص طور پر عاجزی، انکساری اور تواضع میں تو اپنی مثال آپ تھے۔ ہر امیر ، غریب ، عالم ، جاہل ، اپنے اور پرائے سے اس طرح اپنائیت سے ملتے تھے کہ ہر آدمی ان کو اپنا سمجھتا تھا، ہر ایک سے بلاتکلف ملنا، ہر ایک کو اپنے پن کا احساس دینا، یہ خوبی کمال درجہ میں موجود تھی۔ چنانچہ اہل محلہ اور آس پاس کے لوگ اب بھی ملتے ہیں تو ہر ایک یہی کہتا ہے کہ مولانا صاحب کا ہمارے ساتھ تو ایسا تعلق تھا کہ گویا وہ ہمارے گھر کے فرد تھے، ہماری فیملی کا حصہ تھے، بلاتکلف گھر تشریف لانا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا اس طرح فرماتے تھے کہ جس طرح ہم سے زیادہ قریب مولانا صاحب کسی کے ساتھ نہ تھے۔ ہر ایک کو یہ احساس دلاتے تھے کہ ’’میں تمہارا اور تم میرے ہو‘‘یہی وجہ کہ اب بھی بے شمار لوگ مولانا صاحب کا تذکرہ ہوتے ہی آبدیدہ ہوجاتے ہیں کہ گویا انہی کا مولانا صاحب سے خصوصی تعلق اور رشتہ تھا۔بہرحال بندہ ناچیز کے ساتھ بھی حضرت والا انتہائی شفقت اور پیار کا معاملہ فرماتے تھے، علمی و فکری اور عملی کاموں میں ہمیشہ میری راہنمائی فرماتے تھے، اللہ تعالیٰ کا بے حد اور بے شمار شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت والا رحمہ اللہ علیہ کی عظمت و محبت میرے دل میں پیوست کر دی تھی ۔
مولاناشہید میرے محسن اور میرے بزرگوں میں تھے۔ میں ان کا عزیز تھا ،جب کسی سے میرا تعارف کرواتے تو ارشاد فرماتے کہ’’یہ میرے قریبی عزیز ہیں‘‘ یہ الفاظ میرے لئے اعزاز سے کم نہیں ،جب ہم چھوٹے بچے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی حضرت والا گائوں تشریف لاتے تو ہم ان کی زیارت کرکے بہت زیادہ خوشی محسوس کرتے تھے۔ اہلِ علاقہ اور معززین آپ کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ آپ جب کبھی گھوڑے پر، کبھی گاڑی پر اور کبھی پیدل ہی کئی کئی میل سفر فرماتے تھے، لوگ انتہائی عقیدت اور محبت کے ساتھ ان کے دائیں بائیں اور ان کے پیچھے چلتے تھے۔ کسی نے کھانے کی دعوت دی تو بلا تکلف قبول فرمالیتے۔
بعض اوقات چلتے پھرتے ہوئے کھلی فضا اور مٹی اور ریت پر بیٹھ کر گپ شپ فرماتے۔ دہی، لسی، دودھ کوئی چیز پیش کی جاتی تو سادہ طریقے سے نوش فرمالیتے تھے۔ میں نے مولانا شہید کی کرامات میں سے ایک کرامت یہ بھی دیکھی کہ مولانا کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت رکھی ہوئی تھی۔ بہت کم وقت میں بہت زیادہ کام کرتے تھے۔ ایک دن میں معمول کے مطابق ملاقاتیں، فون، خطوط، رابطے اور دیگر رفاہی کام سرانجام دیتے تھے۔ چونکہ آپ بڑے اعلیٰ پائے کے خطیب تھے۔ ملک بھر میں دورے کرتے تھے۔ ان تمام مصروفیات کے باجود دینی مدارس اور علماء کرام کی خدمت، ان کے مسائل میں ذاتی طور پر دلچسپی لینا اور پھر تمام دینی مدارس کے مہتمم حضرات ملک بھر سے اپنے اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کیلئے تشریف لاتے تھے۔ ان کے مسائل میں خوب دلچسپی لے کر ان کی پریشانیوں کا ازالہ فرماتے تھے۔ چنانچہ فاتح قادیانیت مولانا منظور احمد چنیوٹی فرمایا کرتے تھے کہ ’’مولویو!مولانا عبداللہ ؒ کی قدر کرو۔ یہ دنیا سے چلے گئے تو پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ وہ کتنے عظیم انسان تھے‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کی زندگی میں ہم ان کی قدر نہ کرسکے، ان کی شہادت کے بعد پتہ چلا کہ ایک ہی آدمی کتنے بڑے بڑے کام کرتا تھا، واقعی سچ ہے کہ ’’موت العالِم موت العالم‘‘ ایک عالم کی موت پورے جہاں کی موت کے مترادف ہے۔عام طور پر اتنے مصروف آدمی کو علمی ذوق بھی نہیں ہوتا، نہ ہی مصروفیات کی وجہ سے ذوق اپنایا جاسکتا ہے۔ مگر یہ کمال بھی مولانا شہید میں کمال درجہ میں پایا جاتا تھا کہ چلتے پھرتے علمی گفتگو، گہرے اور مشکل مسائل پر بحث و تمحیص کرتے تھے۔ اگر کسی مسئلہ میں تساہم، ابہام یا غلط فہمی ہوجاتی تو بخوشی تسلیم کرتے اور صحیح مسئلہ لوگوں کو سمجھاتے،مفتی دوست محمد مزاری مزید کہتے ہیں کہ میں ہر دعا میں مولانا شہید کو یاد کرتا ہوں، ان کے لئے ہرماہ ختم قرآن کریم کرتا ہوں، نفل پڑھتا ہوں،سفر حرمین شریفین کے دوران ان کے لئے طواف اور عمرے کرتاہوں ۔