(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت سلمان فارسیؓ نے کلمہ تو غلامی کے دور میں ہی پڑھ لیا تھا، جب آزاد ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان کی معاشرتی حیثیت مہاجر کی تھی۔
حضرت سلمان فارسیؓ جب آزاد ہو کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان کو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا اور فرمایا یہ تمہارا بھائی ہے، اسے ساتھ لے جاؤ اور سنبھالو۔ حضرت ابوالدرداءؓ نوجوان آدمی تھے اور حضرت سلمان فارسیؓ عمر رسیدہ اور جہاندیدہ آدمی تھے، کئی مذہب بھگتائے ہوئے تھے۔
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ خود واقعہ بیان کرتے ہیں، بخاری شریف کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق حضرت سلمان فارسیؓ کو گھر لے گیا۔ وہاں جا کر حضرت سلمان فارسیؓ نے گھر کا ماحول دیکھا کہ میاں بیوی تو ہیں لیکن گھر کا ماحول نہیں ہے۔حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابو الدرداءؓ کی اہلیہ کو دیکھا کہ میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، چنانچہ جاتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ بھابھی سے انٹرویو لیا اور کہا کہ یہ اپنا کیا حال بنا رکھا ہے، نہ ڈھنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر کا کیا حال بنا رکھا ہے، کوئی چیز سلیقے سے نہیں رکھی ہوئی۔ سادہ زمانہ تھا، وہ کہنے لگیں کہ عورت بہت کچھ کرتی ہے لیکن کسی کے لیے کرتی ہے۔ آپ کے بھائی کو کسی بات سے دلچسپی ہی نہیں ہے تو میں بھی گزارا کر رہی ہوں اور وہ بھی گزارا کر رہے ہیں۔ یہ پہلی بات حضرت سلمان فارسیؓ نے اس گھر میں نوٹ کی۔
دوپہر کو کھانے کا وقت ہوا، حضرت ابوالدرداءؓ نے دستر خوان بچھایا۔ حضرت سلمانؓ سے کہا کہ بھائی جان! کھانا کھا لیں۔ انہوں نے کہا آپ بھی آئیں تو حضرت ابوالدرداءؓ نے جواب دیا کہ میرا روزہ ہے، میں مسلسل روزے رکھتا ہوں۔ انہوں نے دوبارہ کہا، آؤ میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو۔ ابوالدرداءؓ نے پھر انکار کر دیا کہ میرا روزہ ہے، اس پر حضرت سلمان فارسیؓ نے کہا اچھا ٹھیک ہے دستر خوان اٹھا لو، تم کھاؤ گے تو میں کھاؤں گا۔ اس پر حضرت ابوالدرداءؓ مجبور ہو گئے کیونکہ مہمان کے سامنے سے دسترخوان کیسے اٹھاتے، لہٰذا حضرت ابوالدرداءؓ کو روزہ توڑنا پڑا۔ اور مسئلہ یہ ہے یہ اصول یاد رکھیں کہ فرائض و واجبات میں حقوق اللہ مقدم ہیں اور نوافل و مستحبات اور مباحات میں حقوق العباد مقدم ہیں۔ فرضی روزہ کسی کے کہنے پر نہیں چھوڑیں گے اور نفلی روزہ ماں کے کہنے پر بھی توڑ دیں گے، البتہ بعد میں قضا کریں گے۔ یوں ہی حضرت ابوالدرداءؓ نے حضرت سلمان فارسیؓ کی وجہ سے روزہ توڑ دیا اور ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے۔ یہ دوسرا کام حضرت سلمان فارسیؓ نے کیا کہ حضرت ابوالدرداءؓ کا روزہ تڑوایا۔
رات کو سونے کا وقت ہوا، بستر بچھایا اور حضرت ابوالدرداءؓ نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا حضرت! آرام فرمائیں۔ انہوں نے پوچھا تمہارا کیا پروگرام ہے؟ حضرت ابوالدرداءؓ نے کہا کہ میں تو ساری رات نفل پڑھتا ہوں، سوتا نہیں ہوں، رات مصلے پر گزارتا ہوں۔ حضرت سلمانؓ نے فرمایا کہ بستر لاؤ اور آرام کرو۔ انہوں نے کہا حضرت! یہ میرا معمول نہیں ہے۔ حضرت سلمانؓ نے فرمایا کہ معمول ہے یا نہیں بستر ادھر لاؤ اور آرام کرو۔ لہٰذا مجبوراً انہیں بستر پر لیٹنا پڑا۔ حضرت ابوالدرداءؓ خود کہتے ہیں کہ میں یہ سوچ کر لیٹ گیا کہ تھوڑی دیر بعد جب حضرت سلمان فارسیؓ سو جائیں گے تو میں اٹھ کر مصلے پر چلا جاؤں گا۔ لیکن بھائی جان تاک میں تھے، تھوڑی دیر کے بعد اٹھنے کی کوشش کی تو حضرت سلمان فارسیؓ کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ آرام سے سو جاؤ۔ جب عبادت کا وقت ہوگا میں اٹھاؤں گا۔ مجھے سلا دیا، رات کو نفل نہیں پڑھنے دیے۔ صبح سحری کے وقت حضرت سلمان فارسیؓ اٹھے، مجھے بھی اٹھایا کہ یہ عبادت کا وقت ہے۔ اٹھو تم بھی نفل پڑھو، میں بھی پڑھتا ہوں۔ یہ تیسری کارروائی حضرت سلمان فارسیؓ نے کی۔
اس کے بعد مشورہ ہوا کہ فجر کی نماز مسجد نبوی میں جا کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھیں گے۔ مسجد جانے لگے تو حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابوالدرداءؓ کو ایک نصیحت کی۔ حضرت ابوالدرداءؓ کو مخاطب کر کے فرمایا دیکھو ”ان لربک علیک حقا ولنفسک علیک حقا ولزوجک علیک حقا ولزورک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ“ تیرے رب کے تجھ پر حقوق ہیں، نماز، عبادت، نفل، روزہ اللہ کا حق ہے۔ تیری جان کے تجھ پر حقوق ہیں، کھانا، پینا، نیند جان کے حقوق ہیں۔ تیری بیوی کے بھی تجھ پر حقوق ہیں، اور تیرے مہمان کے بھی تجھ پر حقوق ہیں۔ دین یہ ہے ”فاعط کل ذی حق حقہ“ کہ ہر حق والے کو اس کا حق اس کے وقت پر ادا کرو۔ اللہ کے حق کے وقت میں اللہ کا حق، اپنی جان کے حق کے وقت میں جان کا حق، بیوی کے حق کے وقت میں بیوی کا حق، اور مہمان کے حق کے وقت میں مہمان کا حق۔ یہ ہے دین۔میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ قرآن پاک کی وہ آیت کریمہ جو میں نے پڑھی اور حضرت سلمان فارسیؓ کا یہ ارشاد ہمارے انسانی حقوق کے فلسفے کی بنیاد ہے کہ جس وقت جس کا جو حق ہے وہ اپنے وقت پر ادا کرو۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یومیہ معمول یہ تھا کہ فجر کی نماز پڑھا کر مسجد میں اشراق تک بیٹھتے تھے۔اس مجلس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حضرت ابو الدرداءؓ پر پڑی تو ان سے حضرت سلمان فارسیؓ کے بارے میں پوچھا کہ بھائی جان کو کیسا پایا؟ حضرت ابو الدرداءؓ نے ساری کارگزاری سنا دی کہ یا رسول اللہ! کل گئے تھے، انہوں نے پہلے بھابی کو ڈانٹا، پھر میرا روزہ تڑوایا، رات کو نفل بھی نہیں پڑھنے دیے اور اب راستے میں آتے ہوئے یہ نصیحت کی ہے۔ حضرت ابو الدرداءؓ کی ساری بات سن کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ فرمایا ”صدق سلمان“ صدق کا اطلاق فعل پر بھی ہوتا ہے، قول پر بھی ہوتا ہے۔ یعنی سلمان نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے اور جو کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔میں یہاں ایک اور بات کرتا ہوں کہ یہ باتیں حضرت سلمانؓ نے کی ہیں، لیکن ان کی تصدیق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے تو حضورؐ کے ”صدق سلمان“ کہنے کے بعد یہ باتیں حضرت سلمانؓ کی رہ گئی ہیں یا حضورؐ کی ہو گئی ہیں؟ حضورؐ کا یہ جملہ ارشاد فرمانے کے بعد حضرت سلمان فارسیؓ کی یہ باتیں ان کی نہیں رہیں بلکہ یہ خود حضور نبی کریمؐ کی ہو گئی ہیں۔ حدیث کی ایک مستقل قسم ہے کہ صحابی نے کوئی بات کی اور حضور نبی کریمؐ نے سن کر تائید کر دی تو وہ بات حدیثِ رسول ہے۔ اسی طرح صحابی نے کوئی کام کیا، حضورؐ نے کرتے ہوئے دیکھا اور نکیر نہیں کی بلکہ خاموشی اختیار کر لی، تو وہ عمل بھی (صرف) صحابی کا نہیں رہا بلکہ وہ سنت بن گئی ہے۔
میں نے عرض کیا کہ ہماری اصطلاح حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ہے۔ دوسرا اصول میں نے بیان کیا کہ فرائض و واجبات میں حقوق اللہ مقدم ہیں، مباحات و مستحبات میں حقوق العباد مقدم ہیں۔ اور جس طرح اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اسی طرح جن لوگوں کے حقوق ہمارے ساتھ متعلق ہیں ان کے حقوق ان کے وقت میں صحیح طریقے سے ادا کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے، اور اس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا۔