نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’اللھم بارِ ک لنا فِی شامِنا وفِی یمنِنا‘‘ (صحیح بخاری: 7094) یعنی رسول اللہ ﷺ نے شام کے لیے برکت کی دعا کی ہے۔ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:’’علیم بالشامِ فنہا صفو بلاد ِ اللہِ یسِنہا خیرتہ مِن عبادِہِ‘‘(طبرانی، المعجم البیر) یعنی شام اللہ کی چنیدہ زمین ہے اور اس میں اللہ کے بہترین بندے سکونت اختیار کریں گے،شام انبیا کرام (جیسے سیدنا ابراہیم ؑ، سیدنا موسیًؑ، سیدنا عیسیٰؑ)کا مسکن رہا ہے۔یہ خطہ قیامت کے قریب بہت اہم ہوگا، کیونکہ کئی آخری زمانے کی علامات یہاں ظاہر ہوں گی، جیسے حضرت عیسیٰؑ کا نزول، دمشق کے مشرقی مینار پر ہوگا۔ شام کو جنت کی زمین کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک روحانی اور مبارک خطہ ہے جہاں ایمان اور خیر کی کثرت ہوگی۔شام کی فضیلت سے متعلق ان آیات و احادیث کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سرزمین کی محبت اور اس کی خیر خواہی ایمان کا حصہ ہے۔موجودہ فتوحات اہلِ اسلام اور خصوصاً شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خوشخبری اور نوید ہیں۔ اہلِ شام دہائیوں سے ظلم و ستم، جنگ و جدل اور آزمائشوں کے کٹھن مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ان کے خاندان اجڑ گئے، مال و متاع لوٹ لیا گیا، اور بستیوں کو مٹی میں ملا دیا گیا، لیکن ان بہادر اور صابر مسلمانوں نے ان حالات میں بھی صبر و استقامت کی شاندار مثال قائم کی۔اس مختصر تمہید کے بعد گزشتہ تین چار دنوں کے اندر شامی انقلابیوں کے ایک حملے نے حکومتی افواج کو جو شمالی ملک کے درجنوں قصبوں، حتیٰ کہ شام کے دوسرے بڑے شہر حلب سے بھی پیچھے دھکیل دیا۔ اس پہ بحث کرتے ہیں آخر یہ کیا ہوا اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ اس غیر معمولی حملے کی وضاحت کے لئے، جو کئی برسوں میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، فرانسیسی اخبار لوباریزیان نے درج ذیل اہم سوالات کے جوابات فراہم کئے۔
-1 حملہ کیسے ہوا؟یہ حملہ بدھ کے روز شروع ہوا جب ہیئت تحریر الشام (جو کہ القاعدہ کے سابقہ شامی دھڑے کی قیادت میں اتحاد ہے)اور ترکی کی حمایت یافتہ باغی افواج نے حلب کے صوبے اور ارد گرد کے ادلب علاقے میں حکومتی علاقوں پر دھاوا بول دیا۔ رامی عبدالرحمن، سربراہ شامی انسانی حقوق کے مبصر گروپ کے مطابق، ان افواج کو ’’بہت کم مزاحمت‘‘کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف تین دنوں میں ان فورسز نے تقریباً 70 قصبوں پر قبضہ کر لیا، جن میں حلب کے بیشتر علاقے، سرکاری عمارتیں اور جیلیں شامل ہیں۔ اسی طرح ادلب، حماہ کے علاقوں اور سراقب شہر جیسے اہم اسٹرٹیجک مقامات پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ ہیئت تحریر الشام اور ان کے اتحادی جمعہ کے روز ’’دو فدائی کار بم دھماکوں‘‘ کے بعد سراقب شہر کے دروازوں تک پہنچ گئے اور آہستہ آہستہ اس کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
-2 اسٹرٹیجک راستے پر کنٹرول؟اپوزیشن اتحاد نے ’’ایم 5‘‘ شاہراہ کو بھی بند کر دیا، جو دمشق کو حلب سے جوڑتی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک ایسے چوراہے پر بھی قبضہ کر لیا جو اللاذقیہ کے ساتھ رابطہ فراہم کرتا ہے۔ ہفتے کی صبح، قومی فوجی حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی قابض ہو گئے، جیسا کہ مبصرین نے رپورٹ کیا۔
-3حکومتی افواج کا ردعمل؟ان حملوں کے پیشِ نظر، بشار الاسد کی سرکاری افواج ’’ پیچھے ہٹ گئیں‘‘۔ ایوری انسٹی ٹیوٹ کے ترکی، مشرق وسطیٰ پروگرام کے محقق عادل بیکوان کے مطابق، اب کوئی قابلِ ذکر مزاحمت باقی نہیں رہی۔
-4شامی حکومت کی دفاعی حکمت عملی کیا ہے؟ ان حملوں کے جواب میں روسی فوج نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس کے جنگی طیاروں نے شامی حکومت کی حمایت میں ’’انتہا پسند‘‘ گروہوں پر بمباری کی ہے، جیسا کہ روسی نیوز ایجنسیوں نے رپورٹ کیا۔ تاہم، یوکرین میں جنگ کی وجہ سے روسی موجودگی حالیہ مہینوں میں کم ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود، کریملن نے آئندہ دنوں میں فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جیسا کہ رائٹرز کے دو فوجی ذرائع نے بتایا۔ ماضی میں، دمشق کو لبنانی حزب اللہ کی افواج کی حمایت پر بھی بھروسہ تھا، لیکن حالیہ دو ماہ میں اسرائیل کے خلاف کھلی جنگ کے سبب حزب اللہ کی طاقت بھی کمزور ہو چکی ہے۔شامی ایئر فورس نے حالیہ گھنٹوں میں ادلب کے علاقے پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یونیورسٹی آف شیلر (پیرس)کی پروفیسر اور کتاب ’’میکانزمز آف کانفلیکٹ، سائیکلز آف وائلنس اینڈ ریزولوشن‘‘ کی مصنفہ میریام بن رعد کے مطابق، حملہ آوروں نے حکومت کی ’’ظاہر شدہ کمزوری‘‘کا فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، آنے والے دنوں میں شامی فوج کے دوبارہ منظم ہونے کی توقع ہے اور جو کچھ ہوا وہ ’’فی الحال ایک اسٹرٹیجک پسپائی‘‘ ہے۔
-5 مسلح گروہوں نے یہ وقت کیوں منتخب کیا؟ادلب میں ’’ہیئت تحریر الشام‘‘کی اعلان کردہ ’’حکومت‘‘ کے سربراہ محمد البشیر نے جمعرات کو کہا کہ یہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب ’’حکومت (بشار الاسد)نے محاذوں پر اپنی افواج کو جمع کیا اور شہری علاقوں پر بمباری شروع کی، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے‘‘۔ حقیقتاً ان علاقوں پر حالیہ دنوں میں شامی فوج اور اس کے روسی اتحادی کی طرف سے شدید بمباری کی گئی تھی۔ لوباریزیان کے مطابق، یہ حملہ درحقیقت ’’ہیئت تحریر الشام‘‘ اور آزاد قومی فوج کی جانب سے کئی مہینوں کی تیاری کا نتیجہ تھا۔ عادل بیکوان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے ’’انتہائی سازگار‘‘ جیوپولیٹیکل وقت میں ہوا جب شام کے روایتی اتحادی دیگر تنازعات میں مصروف تھے۔
-6 خطے میں کیا ردعمل ہوا؟کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے جمعے کو اس حملے کو شام کی ’’خودمختاری کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے حلب میں ’’جلد از جلد امن کی بحالی‘‘کا مطالبہ کیا۔ ایران نے بھی اس حملے کو امریکا اور اسرائیل کی ایک سازش قرار دے کر مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ ’’دہشت گرد عناصر‘‘ نے اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا۔ ہفتے کے روز، ماسکو نے اعلان کیا کہ روسی اور ایرانی وزرائے خارجہ نے شام میں ’’خطرناک کشیدگی‘‘پر ٹیلی فونک تبادلہ خیال کیا۔ اس سے قبل، ترک وزیر سے بھی اسی موضوع پر بات چیت ہوئی۔ روسی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، سرگئی لاوروف اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو کے دوران ’’دونوں فریقوں نے شام میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا‘‘۔ ادھر، ترک فوج نے جمعے کو ادلب اور اس کے گردو نواح میں ’’حملے روکنے‘‘کی اپیل کی، جہاں روسی اور شامی فضائیہ نے متعدد فضائی حملے کیے۔ ترکی شمالی شام کے کئی علاقوں پر قابض ہے اور بعض گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، انقرہ نے بدھ کے حملے کے لیے ’’گرین سگنل‘‘دیا تھا، جیسا کہ لوباریزیان نے رپورٹ کیا۔