Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ریاست پاکستان سخت جان! ٹکرانے والوں کا عبرتناک انجام

کیا کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی بے لگام سوشل میڈیا برگیڈ کے ذریعے ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے ’’پاکستان‘‘سے جیت جائے گا؟ہرگز نہیں،انہیں کوئی بتائے کہ ’’ریاست پاکستان‘‘ بڑی سخت جان ہے، دس لاکھ سے زائد قربانیاں پیش کر کے حاصل کیا جانے والا ’’پاکستان‘‘ زلفی بخاری جیسے بھگوڑوں کے بس کی بات نہیں،امریکہ،فرانس اور لندن کی گود میں بیٹھ کر ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والا ہر بھگوڑا الٹا بھی لٹک جائے تب بھی پاکستان کا کچھ بگاڑ نہ پائے گا، یقینا اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی غلطیوں کی ہر قیمت پر اصلاح کرنی چاہئے ،لیکن کسی کی غلطی کی سزا پاکستان کو دینے کی کوشش کرنا اس ملک وقوم سے دشمنی کے سوا کچھ بھی نہیں،ایک معاصر اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پارٹی کے سوشل میڈیا اور پارٹی کے بیرون ملک مقیم پارٹی کے حامی طبقے کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے، جن کے متعلق تحریک انصاف کی قیادت متفق ہے کہ ان کی وجہ سے پارٹی اور جیل میں قید بانی چیئرمین کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم، پارٹی ان لوگوں کو روکنے میں ناکام ہے۔
پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف حالیہ مارچ کے بعد، فوج اور آرمی چیف کے خلاف امریکا کے بعض شہروں میں سوشل میڈیا اور سڑکوں پر چلنے والی اسکرینوں کے ذریعے مہم چلائی گئی۔ پارٹی کے کچھ سرکردہ رہنمائوں نے پروپیگنڈہ روکنے کے لئے امریکا میں پی ٹی آئی کے ذمہ داران سے رابطہ کیا لیکن ان کی درخواست پر دھیان نہیں دیا گیا، رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا کہ پارٹی رہنما اس فوج مخالف پروپیگنڈہ سے ناخوش ہیں، لیکن اس کے حوالے سے کھل کر کوئی بیان جاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ ڈر ہے کہ انہیں غدار قرار دے دیا جائے گا اور پارٹی کے سوشل میڈیا پر ان کی تضحیک کی جائے گی۔ جو بات ناقابل یقین ہے وہ یہ ہے کہ پارٹی کا آفیشل سوشل میڈیا بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ پارٹی چیئرمین بیریسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور انفارمیشن سیکرٹری وقاص اکرم شیخ کا بھی اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، پارٹی کے کچھ سینئر رہنمائوں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت سوشل میڈیا اور کچھ مخصوص گروپس کی وجہ سے اس قدر شدید دبائو کا شکار ہے کہ وہ (پارٹی رہنما)ان کے چلائے جانے والے پروپیگنڈہ کے خلاف کھل کر کچھ بولنے سے ہچکچاتے ہیں، چاہے پھر وہ بات غلط ہو یا بڑھا چڑھا کر پیش کردہ ہو۔ پارٹی کے ایک اندرونی ذریعے کے مطابق، آرمی چیف کے گزشتہ دورہ امریکا کے موقع پر پی ٹی آئی کے حامیوں نے وہاں مظاہروں کا انتظام بھی کیا تھا۔
پاکستان سے پارٹی کے ایک اہم رہنما نے پارٹی کے امریکا کے تحریک انصاف کے ذمہ داران کے ساتھ رابطہ کیا کہ ایسے مظاہرے نہ کئے جائیں، کیونکہ یہ پاکستان اور پارٹی مفاد میں نہیں، ایک اور سینئر پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنمائوں کو ایجنسیوں یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نہیں، بلکہ اپنی پارٹی کے جارحیت پسند کارکنوں اور سوشل میڈیا کے سرگرم کارکنوں سے ڈر اور خوف ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے حالیہ اسلام آباد مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور مارچ کے دوران ایسے ہی جارح مجمع کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے تھے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ جب بشری بی بی نے متعدد مرتبہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈی چوک جانے کا عزم ظاہر کیا تو گنڈا پور بالکل بے بس ہوگئے اور جانتے تھے کہ پرجوش مجمع انہیں بشری بی بی کے برخلاف کوئی دوسرا موقف اختیار کرنے نہیں دے گا۔ گنڈا پور اور پارٹی کے دیگر سرکردہ رہنمائوں کی خواہش تھی کہ مارچ سنگجانی پر روک دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پس منظر میں ہونے والے حالیہ رابطوں کے حوالے سے پارٹی کے ایک رہنما نے اس نمائندے سے کہا تھا کہ مذاکرات میں شامل لوگوں کے نام ظاہر نہ کیے جائیں بصورت دیگر پارٹی کے جارح کارکن ان پر یا ان کے گھروں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ رابطہ کرنے پر پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ نے بتایا کہ جو لوگ بھی فوج اور آرمی چیف کیخلاف امریکا میں روڈ اسکرینوں پر مہم چلا رہے ہیں وہ یہ کام اپنے تئیں کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کی ایسی کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مہم چلانے والے لوگ ہماری کہے سنے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پیسہ دے کر سوشل میڈیا نہیں چلاتی۔ اس میں پارٹی کے حامی اور ووٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سرگرم افراد میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور اپنی مرضی اور خواہش پر عمل پیرا ہیں، یہ لوگ ہمارے کنٹرول میں نہیں، بصورت دیگر بھی دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کسی کے کنٹرول میں نہیں۔
پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے حوالے سے وقاص اکرم نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم پی ٹی آئی والے مینیج کرتے ہیں، ان میں سے کچھ پاکستان میں ہیں اور باقی بیرون ملک سے کام کر رہے ہیں۔مندرجہ بالا رپورٹ چیخ چیخ کر پی ٹی آئی کے نظم وضبط کی دھجیاں اڑنے کی اندرونی کہانی سنا رہی ہے،شیخ وقاص اکرم ہوں یا پی ٹی آئی کا کوئی دوسرا رہنما وہ اگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا رنگروٹوں کو لگام نہیں ڈال سکتے، توجب حکومتی ادارے ایسے مخصوص رنگروٹوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو پھر ان کی چیخیں کیوں نکلتی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں