اسلام نے ماحول کی حفاظت اور اسے خوبصورت بنانے پر بہت زور دیا ہے۔ شجر کاری کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ قرآن و سنت میں شجر کاری کی اہمیت پر متعدد احادیث نبویہ اور قرآنی موجود ہیں۔ انسانی سماج میں شجر کاری کے بہت سے فوائد ہیں، جن میں معاشی اور سماجی دونوں شامل ہیں۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں، جو کاربن کریڈٹ حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ لکڑی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، جو تعمیراتی مواد، فرنیچر اور ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ پھل دار درختوں سے پھل اور سبزیاں حاصل ہوتی ہیں جو غذا کے ساتھ ساتھ آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ درختوں سے بھرپور علاقے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو کہ سیاحت کے فروغ میں مددگار ہے۔ درخت مٹی کو کھٹاؤ سے بچاتے ہیں اور اس کی زرخیزی کو بڑھاتے ہیں۔ درخت ہوا کو صاف کرتے ہیں، سایہ دار مقام فراہم کرتے ہیں، شہری علاقوں میں شور کو کم کرتے ہیں اور ایک خوشگوار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ سبز ماحول ذہنی سکون فراہم کرتا ہے اور دل کے امراض، ڈپریشن اور دیگر صحت کے مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
شجر کاری ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے جو نسلوں کو پائیدار فائدہ پہنچاتی ہے، اس لیے اسے فروغ دینا ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اسلامی نکتہ نظر سے جائزہ لیں تو اسلام میں درخت لگانے کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قرآن و حدیث میں شجرکاری اور زمین کی آبادکاری کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ یہ عمل نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور زمین کے دیگر مخلوقات کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ قرآن مجید میں درختوں کو اللہ کی عظیم نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “اور آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور اس سے ہر قسم کے خوشنما جوڑے اگائے” (سورۃ طٰہٰ: 53) قرآن مجید میں انسان کو زمین کی آبادکاری اور دیکھ بھال کا حکم دیا گیا ہے “وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا” (سورۃ فاطر: 39)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تو اگر تم اسے لگا سکتے ہو تو ضرور لگاؤ” (مسند احمد)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھاتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم) نبی اکرم ﷺ نے زمین کو آباد کرنے کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ عمل نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔
درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر انسان روحانی سکون حاصل کرتا ہے۔ اسلام نے شجر کاری کو ایک بہت اہم عمل قرار دیا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں شجر کاری کو فروغ دیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام ہمیں فطرت کی حفاظت اور زمین کو آباد رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ درخت لگانا نہ صرف ایک بہترین عمل ہے بلکہ یہ صدقہ جاریہ بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ارد گرد درخت لگانے کی عادت اپنائیں اور دوسروں کو بھی اس کار خیر کی ترغیب دیں تاکہ ہم اپنی دنیا کو خوبصورت اور بہتر بنائیں اور آخرت میں اجر پائیں۔
اسلام سلسلے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟
* اپنے گھر کے اطراف درخت لگائیں۔
* اپنے علاقے میں درخت لگانے کے لیے مہم چلائیں۔
* دوسروں کو بھی درخت لگانے کی ترغیب دیں۔
آئیے مل کر اپنا ماحول صاف ستھرا اور سرسبز بنائیں!
درخت لگانے کا انتخاب آپ کے علاقے کے موسمی حالات اور ماحولیات پر منحصر ہے۔ تاہم، اسلام کے تناظر میں ایسے درخت لگانا بہتر ہیں جو زیادہ فائدہ مند ہوں، مثلاً پھلدار اور سایہ دار درخت۔ اسلامی نقطہ نظر سے اہم درخت زیتون ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے اور یہ صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے کھجور کے درختوں کی اہمیت بیان کی ہے اور یہ عرب ثقافت کا حصہ بھی ہے۔ایسی جگہ درخت لگائیں جہاں انہیں مکمل نشوونما ملے اور پانی بھی دستیاب ہو۔ اپنے بچوں کو بھی درخت لگانے کی ترغیب دیں تاکہ یہ عادت آئندہ نسلوں تک منتقل ہو۔ یاد رہے کہ درخت لگانا نہ صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔