Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

شنگھائی تعاون تنظیم

شنگھائی تعاون تنظیم ایک یوریشائی، اقتصادی، سیاسی اور عسکری تعاون تنظیم ہے۔ یہ تنظیم 2001میں چین، روس، قازقستان ، کرغرستان ، تاجکستان اور از بکستان کی طرف سے قائم کی گئی تھی۔ اب اس میں پاکستان اور بھارت سمیت دس رکن ممالک شامل ہیں۔ جبکہ منگولیا، بیلاروس اور افغانستان سمیت متعدد ریاستیں بطور مبصر اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتی ہیں۔ SCOکی تنظیمی زبان روسی اور چینی ہے۔ اس بین الاقوامی تنظیم کے بنیادی مقاصد میں علاقائی استحکام ، سلامتی اور تعاون کو فروغ دینا، انسداد دہشت گردی ، رکن ممالک کی سرحدی محافظت ،انتہا پسندی کے خلاف جنگ، امن اور تجارت کو فروغ دینے ،سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا مقابلہ کرنے، متعدد تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کا آغاز اور تکمیل کیلئے دستخط کرنے، توانائی کی تقسیم اور وسائل کے اخراج پر سرحد پار تعاون، رکن ممالک کے درمیان اقتصادی مستقبل کی تشکیل کیلئے حوصلہ افزا کردار ادا کرنا اس کے ایجنڈا میں شامل ہے۔
اس طرح اس بین الاقوامی فورم سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو بڑھانے کیلئے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور رکن ممالک کو بین الاقوامی منڈیوں کے اتارچڑھائو سے بچانے کیلئے کوششیں تنظیم کے اہداف میں شامل ہیں۔ اسلامی ریاست پاکستان2005سے SCO کے اجلاس میں بطور مبصر شرکت کررہا ہے۔ 2015ء میں اوفااجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے پاکستان کی رکن بننے کی درخواست کی منظوری دی اور اس طرح پاکستان 2017ء میں شنگھائی تنظیم کا مکمل رکن بن گیا۔ گزشتہ ماہ اکتوبر میں پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ایشیائی ممالک کے مستقل اراکین کے وفود کے علاوہ کئی دوسرے ممالک کے مبصرین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ معاشی اور اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر کھڑے ملک پاکستان کیلئے یہ اجلاس نویدسحر تھا۔ اجلاس سے قبل اور بعد میں پاکستان کے داخلی محاذ پر سیاسی افراتفری عروج پر ہے ۔پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی حکومت اور عدلیہ پر دبائو ڈالنے کی کوشش میں سڑکوں پر نعرہ زن ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاست میں نہ کھیڈیں گے نہ کھیڈنے دیں گے۔پی ٹی آئی کے نزدیک صرف وزیر اعظم عمران کی شکل میں ہی پاکستان قائم رہ سکتاہے جس کے لیے وہ بار بار اسلام آباد پر معقول افرادی قوت کے بل بوتے پر چڑھائی کردیتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت وقت عالمی سطح پر معاشی اور اقتصادی معاملات پر خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ، مہنگائی ، بے روزگاری ، کرپشن جیسے اہم مسائل کو کامیابی سے حل کرلیتی ہے تو آئندہ آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی اس اتحادی حکومت کا میدان سیاست میں مقابلہ نہیں کرپائے گی۔ ان حالات میں حکومت کیلئے پاکستان کی کمزور ترین بین الاقوامی قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشت کو سہارا دینا اگر ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔ البتہ اس شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستانہ تعلقات کو فروغ ملا، تنظیم کے بین الاقوامی مقاصد اور اہداف کے حصول کیلئے باہمی روابط میں استحکام پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دنیا بھر کے کئی تنازعات ، معاشی اور اقتصادی مسائل کے حل کیلئے سیر حاصل بحث و تمحیص ہوئی۔ بھارت جو پاکستان کا ازلی اور ابدی دشمن ہے۔ بھارتی کرکٹ کے کھلاڑیوں پر پاکستان میں آکر کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کرتا ہے اس تنظیم کے مقاصد کے پیش نظر بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان میں اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ شنگھائی تنظیم تعاون کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کی شرکت آمدن اور برخاستن رہی لیکن ان کی شمولیت سے پاکستان کی میزبانی کی عالمی ساکھ کو تقویت ملی مودی نے عزت بچانے کی خاطر اپنے وزیر خارجہ کو اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ کیا۔ لیکن ایک خاموش تماشائی کے روپ میں شرکت رہی ۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایشیائی ممالک کیلئےمعاشی اقتصادی روابط کا سرچشمہ ہے۔ ابتدائی طور پر انسداد دہشت گردی ،سرحدی حفاظت اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کرنے والی تنظیم نے بتدریج وسیع تر اقتصادی ،ثقافتی اور سفارتی مقاصد کو شامل کرنے کیلئے اپنے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تنظیم اپنی غیر جانبداری کو قائم رکھتے ہوئے رکن ممالک کی تاریخی دشمنیوں اور متضاد مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی معاملات و مسائل کو حل کرتے ہوئے مستقل کو تابناک بنانے کیلئے سعی مسلسل کرے۔ گزشتہ عرصہ میں SCOکے رکن ممالک نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ کسی ملک کا اقتصادی استحکام طویل مدتی خوشحالی پر منحصر ہے۔ اس وقت باہمی سود مند تجارت شنگھائی تعاون تنظیم کا نقطہ ماسکہ ہے۔ روس اور چین نے توانائی ، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر کے اپنی معیشتوں کو چھوٹی ریاستوں کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کررکھی ہے۔ روس کی توانائی کی برآمدات موجودہ پائپ لائنوں اور نئے اقدامات کے ذریعے وسطی اور جنوبی ایشیا میں جاری و ساری ہے۔ حالیہ کانفرنس میں ایسا محسوس ہوا کہ یہ فورم ایک کثیر الجہتی تنظیم کے طورپر ایک نئی قسم کی عالمی طاقت کے بلاک کی نمائندگی کرتا ہے۔ جو نیٹو اور یورپی یونین جیسے مغربی اداروں کا متبادل پیش کرنا چاہتاہے۔ دنیا میں مغربی ممالک کے اثر و رسوخ کے خلاف رکن ممالک کو اپنی خارجہ پالیسوں کی تشکیل میں زیادہ خود مختاری پر انحصار کرنے کی ترغیب مل رہی ہے۔ دریں اثناء چین اور روس سفارت کاری اور تجارت کے ذریعے اپنے جغرافیائی ،سیاسی اور اقتصادی مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کو استعمال کررہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی تنظیم میں شمولیت اقتصادی اور معاشی معاملات پر گفت و شنید ،ایس سی او تنظیم کی سفارتی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ مستقبل میں شنگھائی تعاون تنظیم یوریشیائی خطے کی سیاسی اور اقتصادی ترقی میںاہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے سرشار ہے۔ تنظیم سکیورٹی تعاون کو فروغ دے کر اقتصادی شراکت داری کو آسان بنا کر اور سفارتی مکالمے کو فروغ دے کر رکن ممالک کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ایک مربوط فریم ورک مہیا کرسکتی ہے۔ رکن ممالک کیلئے اراکین کیلئے داخلی رقابتوں کو سنبھالنا ، معاشی عدم توازن کو دور کرنا، امریکہ اور یورپ یونین جیسی عالمی طاقتوں کے ساتھ پچیدہ تعلقات کو نیویگیٹ کرنا انتہائی اہم چیلنجز ہیں۔ اگر شنگھائی تعاون تنظیم ان معاملات پر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ علاقائی تعاون تنظیم ایشیائی ریاستوں کی ماتھے کی جھومر ثابت ہوگی۔ جو تیزی سے بکھرتی ہوئی دنیا میں معاشی ، اقتصادی ترقی کیلئے ایک روشن باب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں