جھوٹے پروپیگنڈے کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹا ہے ۔ریاست دشمن منصوبے کے تار وپود بکھر رہے ہیں۔ ڈی چوک سازش جس طرح بے نقاب ہوئی ہے یہ ریاستی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ سوال تحریک انصاف کا تعاقب کر رہا ہے کہ کیا پرامن مظاہرے غیر ملکی اسلحہ تھام کر کے جاتے ہیں؟ چشم کشا انکشافات نے تحریک انصاف کے جعلی دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔ ڈی پی او اٹک ڈاکٹر غیاث گل نے دو دسمبر کو میڈیا کے سامنے ناقابل تردید شواہد پیش کئے ہیں۔ احتجاج کی آڑ میں ریاست کے خلاف منظم شورش بپا کرنے کا منصوبہ طشت ازبام ہو گیا ہے۔ ڈی پی او اٹک نے پریس کانفرنس میں یہ تشویش ناک انکشاف کیا ہے کہ مظاہرین سے برازیل کے ساختہ آنسو گیس شیل برآمد ہوئے ہیں۔ 26 نومبر کی شب جب مظاہرین کی صفوں میں چھپے شرپسندوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو پولیس کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ چار پولیس اہلکاروں کی شہادت انہی شرپسندوں کی جارحانہ مزاحمت کے نتیجے میں ہوئی۔
قومی سلامتی کے ادارے منظم شر پسندی اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے رجحان پر تشویش کا شکار ہیں۔ 26 نومبر کو وفاقی دار الحکومت پر مسلح یلغار کی گئی۔ درحقیقت یہ سانحہ نو مئی کا ایکشن ری پلے تھا۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاست کی عملداری کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پرامن مظاہرے کی آڑ میں سادہ لوح کارکنوں کی لاشیں گرانے کی سازش تیار کی گئی۔ اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے پہلے یہ دعوی کیا گیا کہ ہزاروں کارکن پولیس کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ پھر یہ دعویٰ کیا گیا کہ 278 کارکن مارے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے بعض ترجمان یہ دعوے بھی کرتے رہے کہ سو سے زائد کارکن مارے گئے ہیں۔ دو دسمبر کو پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے 12 کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ تحریک کے انصاف کے سوشل میڈیائی حامی جعلی اعداد و شمار کی بنیاد پر گھڑے گئے دعوئوں کو اچھال کر مسلسل ریاست پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
بیرون ملک مقیم تحریک انصاف کے زبان دراز ترجمان قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے ضامن حساس اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اس سوچی سمجھی ڈیجیٹل دہشت گردی کے ڈانڈے پاکستان دشمن بیرونی قوتوں سے جا ملتے ہیں۔ جب تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا تو پاکستان مخالف سوچ کے حامل بھارتی ٹی وی چینل سی این این نیوز 18 نے 300 سے زائد مظاہرین کے مارے جانے کا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ مظاہرین میں مسلح افغان شہری بھی شریک تھے۔ ڈی پی او اٹک کے مطابق سات سو زائد گرفتار مظاہرین کے کوائف کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی۔ ایک ہزار سے زائد مشکوک افراد کا ڈیٹا چیک کیے جانے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ 89 گرفتار شدہ شرپسندوں کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ یہ مسلح شر پسند تربیت یافتہ عسکری ونگ کی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ آور ہوئے ۔ ان شر پسندوں نے غیر ملکی ساختہ اشک آورگیس سے مظاہرے کے دوران انتشار پیدا کیا۔ ان شر پسندوں کے غیر انسانی تشدد کی بدولت چار اہلکار شہید اور 147 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ سیاسی احتجاج کی آڑ میں غیر ملکی تربیت یافتہ دہشت گردوں کی وفاقی دارالحکومت تک رسائی ایک غیر معمولی سازش ہے۔
تحریک انصاف کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بیانیے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے۔ قومی سلامتی کے ادارے اس امر پر اضطراب کا شکار ہیں کہ تاحال سانحہ نو مئی کے مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ اگر سانحہ نو مئی کے منصوبہ سازوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑ دیا جاتا تو کسی کو سیاست کی آڑ میں ریاست پر دوبارہ یلغار کرنے کی جرات نہ ہو پاتی۔ حساس ذرائع کے مطابق ریاست تمام شر پسند عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے یکسو ہے۔ گزشتہ ہفتے سانحہ نو مئی کے بعض ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی میں پیشرفت کا ہونا خوش آئند ہے ۔ پرتشدد انتہا پسندی کے سدباب کے لیے قومی پالیسی کی منظوری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب ریاست ملک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نپٹے گی۔ سیاست کی آڑ میں ریاست کی جڑیں کھودنے والوں کی بیخ کنی کئے بغیر اندرونی استحکام بحال نہیں کیا جاسکتا۔ تحریک انصاف کی صفوں میں پھیلتا انتشار اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بیانئے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ سادہ لوح عوام کو احتجاجی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے علاوہ اس جماعت کے پاس فی الحال ملکی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں۔