Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

بیرونی سرمایہ کاری میں تاخیر؟

اگر پاکستان کو معاشی وسماجی طور پر ترقی کرناہے تو حکومت وقت کو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے زبردست تگ و دو کرنی پڑے گی۔ کیوں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاںاس وقت مقامی سرمایہ کاری قلیل مقدار میں آرہی ہے جبکہ حقیقی معنوں میں معاشی ترقی بیرونی سرمایہ کے ذریعے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اس ضمن میں چین کی مثال سے سبق حاصل کیاجاسکتاہے لیکن پاکستان کی حکومت اس سلسلے میں ابھی تک ناکام نظر آرہی ہے۔ وزیرہوں یا پھر پاکستان کی کسی بڑی شخصیت کا بیرونی ملکوں کا دورہ اور وہاں کے ذمہ داروں سے ملاقات کرنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ دراصل پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ آنے کی ایک وجہ اس وقت کا سیاسی نظام ہے۔ جوحقیقی معنوں میں نہ تو عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہورہا ہے اور نہ ہی اقتصادی ترقی کے بھرپور امکانات روشن کرسکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کی پاکستان میں آمد نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ معاشرہ سیاسی لحاظ منقسم ہوچکا ہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ سمیت مقامی سرمائے کی آمد بھی سست رفتاری کا شکار ہے۔ جس کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے کوشش کرنی پڑیں گی۔ مزید برآں پاکستان کے سیاسی حالات عوامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں ہیں۔ عمران خان اور ان کے بہت سے ساتھی مسلسل قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں اتحاد ویکجہتی کا فقدان پایاجاتاہے۔ جس معاشرے میں عوام کے مابین اتحاد نہ ہونے سے وہاں معاشی ترقی ممکن نہیں ہوسکتی ہے۔ نیز سرمایہ کاری کے لئے اچھی پالیسیوں کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ جو اس وقت نظر نہیںآرہی ہے۔دوسری طرف سیاسی افراتفری کی وجہ سے بھی مقامی سرمایہ بھی ’’ شرمندہ‘‘ہے‘ حالانکہ اگر مقامی سرمائے کی آمد کے سلسلے میں اگر اچھی پالیسیاں تشکیل دی جائیں تو پاکستان اس میں بڑی حد تک خودکفیل ہوسکتاہے اور اقتصادی ترقی کے بے شمار راستے کھل سکتے ہیں۔
تاہم اس وقت اس حقیقت کو فراموش نہیں کرناچاہیے کہ جن ملکوں نے گزشتہ 100 سال کے اندر ترقی کی ہے ‘ اس میں بیرونی سرمائے کابڑا دخل رہاہے۔ چین اس کی بہترین مثال ہے۔ جہاں بیرونی سرمائے کی مدد سے چین نے اقتصادی ترقی کی ہے۔
اس وقت پاکستان کو بیرونی سرمائے کی سخت ضرورت ہے جس کے ذریعے اقتصادی ترقی کے بے شمار راستے کھل سکتے ہیں لیکن اس ضمن میں حکومت کی کوششیں اورکارکردگی زیادہ مناسب نہیں ہیں‘ بلکہ بھرپور کوششوں کا فقدان ہے۔ اگر موجودہ حکومت بیرونی سرمائے کو بڑی مقدار میں پاکستان کے اندر لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پاکستان میں اقتصادی ترقی کیلئے راستے کھل سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مقامی سرمائے کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہوسکے گا۔
جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ اس سلسلے میں یعنی بیرونی سرمائے کو پاکستان میں لانے کی کوششیں زیادہ باثمر ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔ اگر حکومت مقامی سرمایہ داروں کی حوصلہ افزائی کرے تو اس کے اثرات بیرونی سرمائے کی آمد پر بھی پڑیں گے۔ اس وقت بیشتر ترقی پذیرممالک اپنے ملکوں میں بیرونی سرمائے کو لانے میں ایسی ترغیبات د ے رہے ہیں جس کی بنا پر ان ملکوں میں سرمایہ آرہاہے اور ترقی بھی ہورہی ہے۔
پاکستان میں ہرچند کہ بیرونی سرمائے کو ملک میں لانے کے سلسلے میں بڑی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ابھی تک وہ توقعات پوری نہیں ہوسکی ہیں جس کی امید کی جارہی ہے۔ دراصل ہمارا سرمایہ دار وقتی فوائد کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرتا ہے اس کے ذہن میں long term منصوبہ بندی کا کوئی واضع سوچ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں صبروتحمل کا جذبہ پایاجاتاہے چنانچہ اقتصادی ترقی کے امکانات ابھی تک زیادہ مناسب نہیں ہیں۔ حالانکہ اس وقت پاکستان میں مقامی وبیرونی سرمایہ کاری کے ضمن میں حالات بہت اچھے ہیں۔ لیکن سرمایہ دار مثبت حالات سے فائدہ نہیں اٹھارہاہے۔ چنانچہ جو پاکستانی سرمایہ دار روشن خیال ہیں انہیں چاہیے کہ وہ سرمایہ کاری کی رفتار کو تیز کریں تاکہ ملک ترقی کرسکے۔ نیز بے روزگاری بھی ختم ہوسکے۔ یاد رکھئے بے روزگاری ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بلکہ مایوسی کی صورت میں ترقی معکوس کی طرف لے جارہی ہے۔ چنانچہ پاکستان کے سرمایہ داروں کو چاہیے کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے رفتار تیز کریں تاکہ ملک اور عوام دونوں ترقی کرسکیں۔ ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں