Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

حکومت اور ریاست

یہ بات اب زبانِ زد عام ہے کہ عمران خان نے سیاست میں کچھ پایا ہے یا سب کچھ کھویا ہے۔خان صاحب کا ہمیشہ یہ کہنا رہا کہ سیاست اور جمہوری اقدار کے لئے انہوں نے22 سال جدوجہد کی۔اِسی جہد مسلسل کا نتیجہ ہے کہ انہیں اقتدار ملا اور وہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے۔لیکن حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔یہ کہانی تلخ بھی ہے اور کانٹوں سے بھری ہوئی بھی۔فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ملکی سیاست میں کلیدی رول رہا ہے۔اسٹیبلشمنٹ نے پس پردہ جب جب اپنا سیاسی رول نبھایا اس رول کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔مارشل لا ء کی صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے طویل عرصہ اقتدار میں گزارا۔تاہم گالیاں اور ساری نحوستیں صرف سیاستدانوں کے ہی حصے میں آئیں۔پاکستان آزاد ہوا تو ہمارے اکابرین نے یہاں آزاد اور ایک اسلامی معاشرے کی داغ بیل ڈالی۔انگریز کی محکومیت سے تو ہم نے نجات پا لی لیکن اپنے ہی ملک میں خود کو اپنے ہی حکمرانوں کی اسیری سے نجات نہ دلا سکے۔پیسے والے اور پیسے والے ہوتے گئے،جبکہ غریب،غربت کی لکیر سے بھی نیچے چلے گئے۔امور مملکت چلانے کے لئے 1973 ء میں قانون تو بنا لیکن ضرورت اور ترجیحات کے مطابق مختلف ادوار میں ان میں ترامیم بھی ہوتی رہیں۔تاہم قانون ہونے کے باوجود کبھی بھی ہم قانون کی حکمرانی قائم نہیں کر سکے۔اسے ہم بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ آزادی کے ان77 برسوں میں کوئی لمحہ بھی ہم نے ایسا نہیں دیکھا جس میں سکھ کا سانس لیا ہو۔کہتے ہیں قانون کی حکمرانی جہاں ہو وہاں سب کچھ ٹھیک چلتا ہے۔چونکہ ہمارے ہاں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا،ہر سطح پر کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔اس لیئے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں قانون کی نہیں،شخصیات کی حکمرانی ہے۔ماضی میں جن شخصیات نے سیاست کی،ان کا تاریخ میں بڑا نام ہے۔لوگ اچھے الفاظ سے انہیں یاد کرتے ہیں۔اور انہیں اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں لیکن آج کی سیاسی شخصیات کو دیکھیں تو وہ بہت سے سکینڈلز اور الزامات میں ڈوبی نظر آتی ہیں۔جس سے ان شخصیات کے سیاسی چہرے معدوم ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ہمارے لیئے یہ بڑی فکر اور سوچ کا مقام ہے۔پی ٹی آئی نے جب سے عملی سیاست میں قدم رکھا ہے۔سیاسی فکر اور سوچ کے سب زاویے ہی تبدیل ہو گئے ہیں۔ایک خلفشار اور انتشار کی سی کیفیت ہے۔اس کا ذمہ دار کون ہے۔کیونکر ایسے حالات پیدا ہوئے۔سیاست کے اس بھیانک موڑ پر ہمیں کون لے کر آیا؟ یہ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ادراک ہو سکے کہ ماضی قریب کی سیاست سے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے جبکہ مستقبل قریب میں ہم نے کیا کرنا اور کیا راست اقدام اٹھانے ہیں؟ یہ بات تو طے ہے،بزرگوں اور کتابوں سے بھی ملتی ہے کہ غلط فیصلوں کا اثر معاشرے پر ضرور پڑتا ہے اور آنے والی نسلوں کو بھی دہائیوں تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔لہٰذا اب غلط فیصلوں کی روایت سے ہمیں باہر نکلنا ہے ایسے فیصلے کرنے ہیں جو قوم کی تقدیر بدلیں۔اور ہم ایک باوقار قوم بن جائیں۔دکھ اور شرم کی بات ہے کہ ہم نیو کلیئر پاور ہونے کے باوجود بہت سے اندرونی مسائل و خلفشار کا شکار ہیں۔ہمارے اردگرد مشکلات اور مصائب کے بہت سے حصار ہیں۔ان سے نہ نکلے تو کیا ہو گا؟ یہ ہمیں معلوم ہونا چاہئیے۔پی ٹی آئی نے جب سے سیاست میں احتجاج،دھرنوں،گالی گلوچ اور مار دھاڑ کا کلچر متعارف کرایا ہے ملکی معیشت پر اس کے منفی اثرات پڑے ہیں۔اگرچہ جمہوری کلچر میں ہر ایک کو احتجاج اور اظہار رائے کا پورا حق حاصل ہے۔لیکن نہیں ہو سکتا کہ کوئی جماعت یا گروہ پورے نظام اور استحکام کو تہہ و بالا کرنے کی سعی کرے۔
ہمارے ہاں ریاست اور حکومت میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاتا۔یہ فرق نہ کرنے سے گڈ گورنس سمیت زندگی کے ہر شعبے پر فرق پڑتا ہے۔سب سے بڑا فرق تو یہ پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں اپنے آپ کو ریاست سمجھنا شروع کر دیتی ہیں اور خود کو ریاست بنا کر پیش کرتی ہیں ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں